وزیر اعظم مودی 15 اکتوبر کو لداخ میں 3350 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
وزیر اعظم مودی 15 اکتوبر کو لداخ میں 3350 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے
وزیر اعظم مودی 15 اکتوبر کو لداخ میں 3350 کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کریں گے

 



نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی 15 اکتوبر کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے لداخ میں تقریباً 3350 کروڑ روپے کی لاگت والے پانچ بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور انہیں ملک کے نام وقف کریں گے۔ اس موقع پر وہ اجتماع سے خطاب بھی کریں گے۔ ان منصوبوں سے علاقے میں آمد و رفت کی سہولتیں بہتر ہوں گی، توانائی کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوگا، ثقافتی ورثے کا تحفظ کیا جائے گا اور پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مودی لیہ کے کوشک باکولا رنپوچے ہوائی اڈے پر تعمیر کیے گئے نئے مسافر ٹرمینل کا افتتاح کریں گے۔

اس پر 640 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یہ جدید ٹرمینل 23,800 مربع میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور ہر سال 35 لاکھ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹرمینل میں توانائی کی بچت اور کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے زمین کی حرارت سے توانائی حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس طرح لداخ جیسے ماحولیاتی اعتبار سے حساس علاقے میں پائیدار بنیادی ڈھانچے کی اہمیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ جدید مسافر سہولتوں کے ساتھ لداخ کے مالا مال ثقافتی ورثے کے عناصر کو بھی اس ٹرمینل میں جگہ دی گئی ہے۔ اس سے مسافروں کو بہتر سہولتیں ملیں گی اور ملک کے دوسرے حصوں کے ساتھ لداخ کی فضائی رابطہ کاری مضبوط ہوگی۔

وزیر اعظم 298 کلومیٹر طویل نمّو، پدم اور درچہ سڑک بھی ملک کے نام وقف کریں گے۔ اس سڑک کی تعمیر سرحدی سڑک تنظیم نے کی ہے۔ یہ لیہ کے نمّو کو ہماچل پردیش کے درچہ سے دور افتادہ زنسکار وادی کے راستے جوڑتی ہے۔ اس سے لداخ تک پہنچنے کے لیے ایک متبادل راستہ دستیاب ہوگا اور سرینگر۔لیہ اور منالی۔لیہ شاہراہوں پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ہمالیہ کے دشوار گزار پہاڑی علاقے سے گزرتی یہ سڑک بلند مقام پر واقع شِنکُن لا درّے سے بھی ہو کر گزرتی ہے۔ اسے انجینئرنگ کے شعبے میں ایک اہم کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

اس سڑک کی تزویراتی اہمیت بھی ہے، کیونکہ اس سے مسلح افواج کی نقل و حرکت آسان ہوگی اور فوجی سازوسامان و دیگر ضروری سامان کی ترسیل کا نظام مضبوط ہوگا۔ اس کے علاوہ زنسکار کے رہنے والوں کو صحت، تعلیم، بازاروں اور دوسری ضروری سہولتوں تک پہنچنے میں بھی آسانی ہوگی۔ توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور لداخ میں قابل تجدید توانائی کے امکانات سے فائدہ اٹھانے کی کوششوں کے تحت وزیر اعظم 9 میگاواٹ کے ہانو چھوٹے پن بجلی منصوبے اور 66 کلو وولٹ کی ڈبل سرکٹ داہ۔ہانو۔خلتسی بجلی ترسیلی لائن کا بھی افتتاح کریں گے۔

وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، ان منصوبوں سے بجلی کی ترسیل کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوگا اور لداخ میں بجلی کی فراہمی کا نظام زیادہ قابل اعتماد بنے گا۔ یہ منصوبے علاقے کے آبی وسائل سے بجلی پیدا کرنے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی سمت میں اہم قدم ہیں۔ لداخ کے قدیم آثارِ قدیمہ کے تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم لیہ کے سندھ گھاٹ میں ہندوستان کے پہلے چٹانی نقوش کے تحفظ کے پارک کا بھی افتتاح کریں گے۔ لداخ میں قبل از تاریخ دور کے چٹانی فن پاروں کے سیکڑوں مقامات موجود ہیں، جہاں جانوروں، انسانی شکلوں اور علامتی نشانات کی کھدائیاں ملتی ہیں۔

یہ نقوش ہزاروں سال پرانی انسانی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ چٹانی نقوش علاقے کے ثقافتی اور تہذیبی ماضی کا ایسا ریکارڈ ہیں جس کا کوئی متبادل نہیں۔ تحفظ کا یہ پارک آثارِ قدیمہ کی ان نازک باقیات کو محفوظ رکھنے، عوام میں ان کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور ثقافتی ورثے کی ذمہ دارانہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مخصوص جگہ فراہم کرے گا۔

وزیر اعظم مودی پروجیکٹ ہِم سروور کے تحت 40 گاؤں میں تیار کیے گئے 40 آبی ذخائر کا بھی افتتاح کریں گے۔ اس منصوبے کا مقصد مشن امرت سروور کے اہداف کے مطابق پانی کے تحفظ کے ذریعے لداخ کے منفرد جغرافیائی اور موسمی مسائل سے نمٹنا ہے۔

جاری کردہ بیان کے مطابق، لداخ میں زراعت کو پانی کی دستیابی اور ضرورت کے درمیان موسمی عدم توازن کا سامنا رہتا ہے۔ کسانوں کو بوائی کے اہم موسم میں اکثر پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالاں کہ سال کے دوسرے حصوں میں برف پگھلنے اور گلیشیئرز سے پانی کی خاصی مقدار دستیاب ہوتی ہے۔ پروجیکٹ ہِم سروور کا مقصد پانی کی دستیابی کے وقت اسے محفوظ کرنا اور ضرورت کے وقت اس کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ اس سے آب پاشی میں مدد ملے گی، زراعت سے وابستہ لوگوں کی روزی روٹی کو سہارا ملے گا اور علاقے میں طویل مدتی آبی تحفظ مضبوط ہوگا۔