وزیر اعظم مودی کی سائنس دانوں سے 3 سال میں ٹھوس نتائج دینے کی اپیل

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 28-10-2026
وزیر اعظم مودی کی سائنس دانوں سے 3 سال میں ٹھوس نتائج دینے کی اپیل
وزیر اعظم مودی کی سائنس دانوں سے 3 سال میں ٹھوس نتائج دینے کی اپیل

 



نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو (ایسٹک 2026) کا افتتاح کرتے ہوئے سائنس دانوں، محققین اور نوجوان اختراع کاروں سے اپیل کی کہ وہ 3 سال کے اندر ایسی ٹیکنالوجی تیار کریں جس کے نتائج واضح، قابل پیمائش اور بڑے پیمانے پر قابل استعمال ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنسی تحقیق کو صرف تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسے عام زندگی کے مسائل حل کرنے، ہندوستان کو خود کفیل بنانے اور انسانی فلاح و بہبود میں مدد دینی چاہیے۔

اس کانکلیو کے پہلے روز، 27 اکتوبر کو، نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں دنیا بھر سے 5,000 سے زیادہ مندوبین جمع ہوئے۔ ان میں ممتاز سائنس دان، پالیسی ساز، محققین اور ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس سے وابستہ افراد شامل تھے۔ پروگرام میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے قومی رہنماؤں کے خطابات، نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کے 2 خصوصی لیکچر، 3 متوازی تکنیکی اجلاس، اسٹارٹ اپ نمائش، تحقیقی پوسٹروں کی پیش کش، شام میں ایک پینل مباحثہ اور افتتاحی تقریب شامل تھی۔ کانکلیو کا بنیادی مقصد سائنسی تحقیق کو صنعتی پیداوار، عوامی ضرورتوں اور ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری سے جوڑنا ہے جو ہندوستان کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ عالمی فلاح میں بھی حصہ ڈال سکے۔ افتتاحی خطاب میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ سائنسی کامیابیوں کو تجربہ گاہوں سے باہر نکال کر عملی زندگی میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق، نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی مسائل حل کیے جانے چاہئیں اور ’آتم نربھر بھارت‘ یعنی خود کفیل ہندوستان کے خواب کو آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، جدید مادّوں اور بایوٹیکنالوجی جیسے جدید شعبوں میں عالمی معیار قائم کرنے کے ہندوستان کے عزم کو بھی دہرایا۔ سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جتیندر سنگھ نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہندوستان کا کردار بدل رہا ہے۔ اب ملک صرف دوسروں کی تیار کردہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا نہیں، بلکہ مستقبل کی جدید سائنسی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں عالمی شراکت دار بننے کی سمت بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں اسٹارٹ اپس کی تعداد 2014 میں تقریباً 400 تھی، جو اب بڑھ کر 2.3 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق، ان میں اندازاً 50 سے 60 فیصد اسٹارٹ اپس دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں میں کام کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں ٹیکنالوجی اور کاروبار سے متعلق اختراعی سرگرمیاں اب بڑے شہروں تک محدود نہیں رہیں۔ جتیندر سنگھ نے ہندوستان کی جینیاتی اور ظاہری حیاتیاتی خصوصیات کے تنوع کو بایوٹیکنالوجی کے لیے ایک اہم وسیلہ قرار دیا۔ انہوں نے جین کی تیاری، سسٹم بایولوجی اور نیوکلیئر میڈیسن کے شعبوں میں ملک کی اپنی صلاحیتیں بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ان شعبوں میں تحقیق کو تیز کرنے کے تناظر میں حالیہ قانون سازی کی اصلاحات، جن میں شانتی ایکٹ بھی شامل ہے، کا ذکر کیا۔

ان کے مطابق، ہندوستان کی سائنسی صلاحیتوں کی بنیاد پر مقامی تحقیق اور اس کے عملی استعمال کو فروغ دینا بایوٹیکنالوجی کے شعبے کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر اجے کے سود نے بنیادی سائنسی تحقیق، صنعتی پیداوار اور ضابطہ جاتی پالیسیوں کے درمیان بہتر تال میل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایسٹک کے 12 بنیادی ترجیحی موضوعاتی شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کوانٹم کمیونی کیشن، جنریٹو اور خود مختار مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر کی تیاری، جدید مینوفیکچرنگ اور ڈیپ اوشن مشن جیسے شعبوں کو اہم قرار دیا۔ ان کے خطاب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ تحقیق کو عملی شکل دینے کے لیے مضبوط اداروں، صنعتی صلاحیتوں اور مناسب پالیسیوں کی ضرورت ہے، تاکہ ملک اپنی اہم ٹیکنالوجی خود تیار کر سکے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے سائنس دان اور 2017 کے نوبل انعام یافتہ یواخیم فرینک نے اپنے خصوصی لیکچر میں کرائیو الیکٹران مائیکروسکوپی (کرائیو-ای ایم) کے ذریعے بیماریوں کے علاج کے لیے اہم حیاتیاتی اہداف کی شناخت اور ادویات کی تیاری کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے اس تکنیک میں استعمال ہونے والے ریاضیاتی اور کمپیوٹیشنل طریقوں اور بڑے حیاتیاتی سالماتی مجموعوں کی سہ جہتی تصاویر تیار کرنے کے عمل کی وضاحت کی۔ اس تکنیک سے حاصل ہونے والی ساختی معلومات محققین کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ ادویات کو کس طرح زیادہ مؤثر انداز میں تیار کیا جا سکتا ہے اور بیماریوں سے متعلق حیاتیاتی اہداف پر تحقیق کیسے آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ 1993 کے نوبل انعام یافتہ رچرڈ جے رابرٹس نے بھی زندگی کے علوم میں جینز کی ساخت اور جدید تحقیق کے امکانات پر الگ خصوصی لیکچر دیا۔

انہوں نے جین اسپ لائسنگ کے بنیادی طریقوں، جرثومی جینومکس اور ریسٹرکشن موڈیفکیشن انزائمز پر روشنی ڈالی۔ ان کی گفتگو میں پائیدار زراعت، صحت عامہ اور بیماریوں کی تشخیص سے متعلق بایوٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی بات ہوئی۔ اس طرح زندگی کے علوم میں ہونے والی پیش رفت کو خوراک کے نظام اور صحت کی سہولتوں سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ جتیندر سنگھ نے کانکلیو کے دوران اسٹارٹ اپ نمائش اور تحقیقی پوسٹر سیشن کا بھی افتتاح کیا۔ نمائش میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی تحقیق، ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے تیار کردہ نمونے اور انٹرایکٹو تحقیقی پوسٹر پیش کیے گئے۔

اس سے صنعتوں کے نمائندوں، سرمایہ کاروں، تعلیمی اداروں کے محققین اور پالیسی سازوں کو نئی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے بارے میں براہ راست تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ جدید مینوفیکچرنگ کے موضوع پر ہونے والے اجلاس کی صدارت سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کی ڈائریکٹر جنرل این کالی سیلوی نے کی، جبکہ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کے سابق سربراہ جی ستیش ریڈی نے کلیدی خطاب کیا۔ اس اجلاس میں راجت ورما، چھایا ننجپا، این سی مرمو، سی آنندارام کرشنن اور ناگاہنوماّیا سمیت دیگر ماہرین نے حصہ لیا۔

گفتگو میں ڈیجیٹل ٹوئنز، باہمی تعاون سے کام کرنے والے روبوٹس، تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے مصنوعات کی تیاری اور پیمائش کی جدید تکنیکوں پر توجہ دی گئی۔ اس کے علاوہ چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے سپلائی چین کو مضبوط بنانے پر بھی بات ہوئی، تاکہ جدید تحقیق اور انجینئرنگ کو صنعتی پیداوار سے جوڑا جا سکے۔ جنریٹو اور خود مختار مصنوعی ذہانت سے متعلق اجلاس کی صدارت انڈیا اے آئی کے چیف ایگزیکٹو افسر سوربھ وجے نے کی، جبکہ آئی آئی ٹی مدراس کے مِتیش ایم کھپرا نے کلیدی خطاب کیا۔ اس اجلاس میں چیتن اروڑا، الپن راول، بلارامن رویندرن اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے سکریٹری ایس کرشنن سمیت متعدد ماہرین نے شرکت کی۔ گفتگو میں ہندوستان میں تیار کیے جانے والے بڑے لسانی ماڈلز، انڈیا اے آئی کے تحت اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی، ایجنٹ پر مبنی مصنوعی ذہانت اور محفوظ طریقے سے اے آئی کے استعمال کے ضابطوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس اجلاس کا مقصد ملک میں مصنوعی ذہانت کی اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور اس ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے پر غور کرنا تھا۔

سسٹم اور سنتھیٹک بایولوجی کے اجلاس میں مصنوعی طور پر تیار کیے گئے حیاتیاتی نظاموں اور قومی بایو ای تھری حکمت عملی پر توجہ دی گئی۔ اس میں حیاتیاتی نظاموں کو سمجھنے، ان کی منصوبہ بندی اور ڈیزائن تیار کرنے، انہیں بنانے، ان کی جانچ کرنے اور نتائج سے سیکھنے کے عمل کو بنیادی اہمیت دی گئی۔ اس شعبے میں صحت کے لیے مخصوص حیاتیاتی علاج، میٹابولک راستوں کی تیاری، غذائیت سے بھرپور فصلوں کی افزائش اور کچرے کو کارآمد مصنوعات میں تبدیل کرنے والی حیاتیاتی صنعتوں جیسے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ان شعبوں کو صحت، زراعت اور مینوفیکچرنگ میں نئی ایجادات کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

شام کو ’آتم نربھر بھارت کے لیے سائنس اور انقلابی ٹیکنالوجی‘ کے عنوان سے پینل مباحثہ ہوا، جس کی صدارت اجے کے سود نے کی۔ اس میں ٹیسی تھامس، جنرل این ایس راجا سبرامنیم، بھانو پی جینا، سمیر سرن اور وی کے سنگھ نے حصہ لیا۔ مباحثے میں دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود کفالت، دانشورانہ ملکیت کو تجارتی استعمال میں لانے، ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کے طریقوں پر غور کیا گیا۔

اس گفتگو میں تحقیق کو عملی مصنوعات میں تبدیل کرنے، اسٹریٹجک صلاحیت بڑھانے اور تحقیقی اداروں و صنعتوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے مسائل زیر بحث آئے۔ ایسٹک 2026 کو 12 ترجیحی موضوعاتی شعبوں کے گرد ترتیب دیا گیا ہے۔ اس میں محققین، سرکاری اداروں، صنعتوں اور اسٹارٹ اپس کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے، تاکہ جدید سائنسی تحقیق کو عملی ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کو آگے بڑھایا جا سکے۔