بنارس میں 70 فٹ اونچے راون کا پتلا جلانے کی تیاریاں عروج پر

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 19-10-2026
بنارس میں 70 فٹ اونچے راون کا پتلا جلانے کی تیاریاں عروج پر
بنارس میں 70 فٹ اونچے راون کا پتلا جلانے کی تیاریاں عروج پر

 



وارانسی: بنارس لوکوموٹیو ورکس (بی ایل ڈبلیو) کے میدان میں وجے دشمی کی تقریبات کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ اس موقع پر ماحول دوست مواد سے تیار کردہ 70 فٹ بلند راون کا پتلا توجہ کا مرکز ہوگا۔ بنارس لوکوموٹیو ورکس کے تعلقات عامہ کے افسر راجیش سنگھ نے بتایا کہ یہاں راون دہن کی روایت بی ایل ڈبلیو کے قیام سے بھی پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ انہوں نے پیر کے روز خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’راون دہن کا پروگرام بنارس لوکوموٹیو ورکس کے قیام سے پہلے سے منعقد کیا جا رہا ہے۔

اس روایت کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں کے ملازمین نے ’وجے سمیتی‘ تشکیل دی، جس میں ادارے کے افسران اور ملازمین شامل ہیں۔ اس سال راون دہن کی تقریب 20 اکتوبر کو یہاں کے میدان میں منعقد ہوگی۔ یہ ایک قدیم روایت ہے۔‘‘ راجیش سنگھ نے پتلا سازی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ راون کا پتلا 70 فٹ، کمبھ کرن کا 65 فٹ اور میگھناد کا پتلا 60 فٹ بلند ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’درست تعداد بتانا مشکل ہے، لیکن اس میلے میں تقریباً 60 ہزار سے 70 ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے۔ یہ پوروانچل خطے کی اہم ترین تقریبات میں سے ایک ہے۔‘‘ وجے دشمی، جسے دسہرہ بھی کہا جاتا ہے، برائی پر اچھائی کی فتح کی علامت کے طور پر منائی جاتی ہے۔

مذہبی عقیدے کے مطابق، اسی دن بھگوان رام نے راون کو شکست دے کر اس کا خاتمہ کیا تھا، جس کے بعد راون کے پتلے جلانے کی روایت قائم ہوئی۔ وجے دشمی کے ساتھ ہی نو روزہ نوراتری تہوار کا اختتام بھی ہوتا ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں راون، میگھناد اور کمبھ کرن کے پتلے جلانا اس تہوار کی مقبول روایت ہے۔ دوسری جانب، چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں بھی راون دہن کی تیاریاں زور پکڑ رہی ہیں۔ شہر میں راون کے پتلے تیار کرنے والے کاریگروں کو اس سال بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث زیادہ آرڈر مل رہے ہیں۔

تقریبات سے قبل شہر کی سڑکوں کے کنارے قائم ورکشاپس اور اسٹالز پر کاریگر دن رات کام میں مصروف ہیں۔ وہ بانس کے ڈھانچے تیار کرنے، ان میں پٹاخے لگانے اور رنگ برنگے کاغذ سے پتلو ں کو سجانے میں مصروف ہیں۔ یہ پتلے گھروں میں رکھے جانے والے چھوٹے ماڈلز سے لے کر بڑے تہواروں کے میدانوں میں نصب کیے جانے والے بلند پتلو ں تک مختلف سائز میں تیار کیے جا رہے ہیں۔ کئی کاریگروں نے بتایا کہ یہ ہنر انہیں نسل در نسل ورثے میں ملا ہے۔ اس سال رہائشی کالونیوں، رام لیلا کمیٹیوں اور ثقافتی تنظیموں کی جانب سے آرڈرز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے راون کے پتلے بنانے والے وکرم نیتام نے اپنے کاروبار اور قیمتوں کے بارے میں بتایا۔ وہ اپنے خاندان کی کئی نسلوں سے چلی آ رہی اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارا کاروبار میرے دادا کے زمانے سے چل رہا ہے۔ ہمیں یہ کام کرتے ہوئے تقریباً 50 سال ہو چکے ہیں۔ ہمارے کام کا حجم گاہک کی ضرورت پر منحصر ہوتا ہے۔ عارضی ڈھانچوں کی صورت میں ہم 30 فٹ تک اونچے پتلے بنا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 28 فٹ اونچے راون کے پتلے کی قیمت تقریباً 30 ہزار سے 32 ہزار روپے ہے۔ ظاہر ہے، جیسے جیسے پتلے کی اونچائی بڑھتی ہے، اس کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔‘‘