بڑے ٹیکس اصلاحات کی تیاری، گرفتاری کی شق ختم ہونے کا امکان

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 05-10-2026
بڑے ٹیکس اصلاحات کی تیاری، گرفتاری کی شق ختم ہونے کا امکان
بڑے ٹیکس اصلاحات کی تیاری، گرفتاری کی شق ختم ہونے کا امکان

 



نئی دہلی: 7 اکتوبر کو ہونے والی 57ویں جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں ٹیکس نظام میں کئی بڑی اصلاحات پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ایک افسر کے مطابق ان اصلاحات میں جی ایس ٹی قانون کے تحت گرفتاری کی شق ختم کرنا، ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کا دائرہ بڑھانا اور ٹیکس ریفنڈ کے عمل کو تیز کرنا شامل ہے۔ افسر نے اے این آئی کو بتایا کہ 2017 میں جی ایس ٹی قانون میں جو حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے، اب انہیں نرم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ٹیکس نظام غیر معمولی لین دین اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مؤثر طریقے سے کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔

انوائس میچنگ سسٹم کے ذریعے فروخت کنندگان کی جانب سے دی گئی معلومات کو خریداروں کے دعویٰ کردہ ان پٹ ٹیکس کریڈٹ سے ملایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان پٹ اور آؤٹ پٹ لیجرز کو خلاصہ ریٹرن کے ساتھ ملانے سے لین دین کا مکمل ریکارڈ تیار ہو جاتا ہے۔ افسر کے مطابق، ’’اب فرضی ٹیکس کریڈٹ کا تقریباً اسی مقام پر پتہ لگایا جا سکتا ہے جہاں وہ پیدا ہوتا ہے اور اسے آگے منتقل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔‘‘

اسی بنیاد پر گرفتاری سے متعلق دفعات کو قانون سے ہٹانے کی تجویز ہے۔ اس کے بجائے تنازعات کو ٹیکس، سود اور جرمانے کی وصولی کے ذریعے حل کیا جائے گا۔ ٹیکس جرائم میں مقدمہ چلانے کی حد بھی ایک کروڑ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کیے جانے کا امکان ہے۔ نو جرائم کو مکمل طور پر جرم کے دائرے سے باہر کیا جا سکتا ہے، جبکہ ایک جرم کو جزوی طور پر غیر مجرمانہ بنایا جا سکتا ہے۔ 24 جرائم میں جرمانے کی شرائط نرم کیے جانے اور 11 جرائم سے متعلق موجودہ دفعات برقرار رکھنے کی توقع ہے۔ کم از کم قید کی مدت بھی ختم کیے جانے کا امکان ہے اور تمام معاملات میں جرمانے کو متبادل سزا کے طور پر دستیاب رکھا جا سکتا ہے۔

افسر کے مطابق جی ایس ٹی کونسل ایماندار خریداروں کو بھی کچھ راحت دینے پر غور کرے گی۔ اگر کسی خریدار کے پاس درست انوائس موجود ہے اور اس نے سپلائر کو ادائیگی بھی کردی ہے تو سپلائی چین میں اس سے اوپر موجود کسی سپلائر کی جانب سے ٹیکس کی ادائیگی میں کوتاہی کے باوجود خریدار کو ان پٹ ٹیکس کریڈٹ برقرار رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں وصولی کی کارروائی متعلقہ نادہندہ سپلائر کے خلاف کی جائے گی۔ تاہم جو خریدار جان بوجھ کر دھوکہ دہی میں شریک پائے جائیں گے، ان کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کا دائرہ بھی کئی ایسی اشیا اور خدمات تک بڑھایا جا سکتا ہے جن پر فی الحال یہ سہولت دستیاب نہیں ہے۔

ان میں ملازمین کے لیے آجر کی جانب سے خریدی جانے والی ہیلتھ اور لائف انشورنس، 13 افراد تک کی نشستوں والی گاڑیاں اور ان سے متعلق انشورنس، سروسنگ اور لیزنگ، ٹیلی کام ٹاورز، فیکٹریوں سے باہر بچھائی جانے والی پائپ لائنیں، مفت نمونے اور قانون کے تحت میعاد ختم ہونے کے بعد تلف کیے جانے والے سامان کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ ریفنڈ کے معاملے میں خدمات اور پلانٹ و مشینری پر ادا کیے گئے ٹیکس کو بھی ریفنڈ کے لیے اہل قرار دینے کی تجویز ہے۔ پلانٹ اور مشینری سے متعلق ریفنڈ پانچ سال کے عرصے میں دیا جا سکتا ہے۔ ریفنڈ کی درخواست کو 10 دن کے اندر تسلیم کرنا ہوگا اور اگر مقررہ مدت میں افسر نے کوئی کارروائی نہیں کی تو درخواست کو خود بخود تسلیم شدہ تصور کیا جائے گا۔ خطرے کی جانچ کے بعد دعویٰ کی 90 فیصد رقم خودکار طور پر جاری کیے جانے کی توقع ہے، جبکہ باقی رقم تصدیق کے بعد ادا کی جائے گی۔

جی ایس ٹی کونسل 10 ہزار روپے سے کم رقم کے معاملات میں شوکاز نوٹس جاری نہ کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔ یہ رعایت زیر التوا معاملات پر بھی لاگو ہونے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق 2017 سے اب تک ایسے تقریباً 11.3 لاکھ شوکاز نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ کونسل پانچ کروڑ روپے تک کے سالانہ کاروبار والے ان ٹیکس دہندگان کے لیے اختیاری سالانہ ریٹرن کی اصولی منظوری بھی دے سکتی ہے جو صرف غیر رجسٹرڈ افراد کو سامان یا خدمات فراہم کرتے ہیں۔ ایسے ٹیکس دہندگان کو سہ ماہی بنیاد پر ٹیکس ادا کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لیے تاخیر سے ریٹرن جمع کرنے کی فیس بھی معاف کیے جانے کی توقع ہے۔

دریں اثنا، خودکار طریقے سے جی ایس ٹی رجسٹریشن کا عمل تین کام کے دنوں کے اندر مکمل کرنے کا موجودہ نظام جاری رہنے کا امکان ہے۔ فی الحال جی ایس ٹی کی تمام رجسٹریشن میں تقریباً 61 فیصد خودکار طریقے سے ہوتی ہیں۔ برآمد کنندگان کو بھی کونسل کے ممکنہ فیصلوں سے فائدہ ملنے کی توقع ہے۔ کسی برآمد کنندہ کی بیرون ملک موجود اپنی ہی برانچ کے ذریعے بل کی جانے والی سپلائی کو بھی برآمد تصور کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں کسی غیر ملکی کلائنٹ کی ملکیت والے سامان پر کیا جانے والا جاب ورک اور بیرون ملک خریدار کو فروخت کیا گیا ایسا سامان جسے خریدار کی ہدایت پر اسپیشل اکنامک زون یعنی ایس ای زیڈ پہنچایا جائے، بھی برآمد کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

ان برآمد کنندگان کے ریفنڈ پر عائد پابندی کو بھی ماضی سے ختم کرنے کی تجویز ہے جنہوں نے خام مال یا دیگر ان پٹ پر ڈیوٹی میں رعایت حاصل کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس پابندی کو ایسے سمجھا جائے گا جیسے وہ ابتدا سے موجود ہی نہیں تھی۔ چھوٹے ای کامرس فروخت کنندگان کو بھی ایک مرتبہ اپنے آبائی ریاست میں تصدیق مکمل کرنے کے بعد دوسری ریاستوں میں کسی آن لائن پلیٹ فارم کے گودام کو اپنے کاروبار کی جگہ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ راستے میں موجود سامان کو صرف مخصوص معلومات کی بنیاد پر اور کسی سینئر افسر کی پیشگی منظوری کے بعد روکے جانے کی اجازت ہوگی۔ ایسی کارروائی کا اختیار صرف اس ریاست کے حکام کو حاصل ہوگا جہاں سے سامان روانہ ہوا ہے۔