طاقتور سمندری طوفان 100 میٹر گہرے زیرِ زمین پانی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
طاقتور سمندری طوفان 100 میٹر گہرے زیرِ زمین پانی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں
طاقتور سمندری طوفان 100 میٹر گہرے زیرِ زمین پانی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں

 



کولکاتا: طاقتور سمندری طوفان ساحلی علاقوں میں زمین کی سطح سے 100 میٹر سے بھی زیادہ گہرائی میں موجود زیرِ زمین پانی کے معیار کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا ہو سکتا ہے۔ آئی آئی ٹی کھڑگپور کے محققین کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ ’سائنٹفک رپورٹس‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سندربن کے زیرِ زمین پانی کے نظام پر شدید موسمی واقعات کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ سندربن گنگا، برہم پتر اور میگھنا دریاؤں کے ڈیلٹا کا حصہ ہے اور دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ساحلی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

آئی آئی ٹی کھڑگپور کی جانب سے منگل کو جاری بیان کے مطابق ’گراؤنڈ واٹر وَلنریبلٹی ٹو امفان اینڈ ادر ریسنٹ سائیکلونز اِن اے ٹراپیکل میگا ڈیلٹا‘ کے عنوان سے کی گئی اس تحقیق میں آئی آئی ٹی کھڑگپور کے پروفیسر ابھیجیت مکھرجی اور آدتیہ بندوپادھیائے، ایس آر ایم یونیورسٹی کے سائنس دان کوشک داس اور آئی آئی ٹی کھڑگپور کی ریسرچ اسکالر پرکرتی مجومدار شامل تھے۔ تحقیق میں مئی 2017 سے مئی 2020 کے درمیان پیش آنے والے 11 شدید موسمی واقعات کا مطالعہ کیا گیا، جن میں سات بار فضائی دباؤ میں شدید کمی اور چار سمندری طوفان، یعنی تتلی، فانی، بلبل اور امفان شامل تھے۔

محققین نے مختلف گہرائیوں پر زیرِ زمین پانی کی سطح کی پیمائش، پانی کی کیمیائی خصوصیات کا تجزیہ، مستحکم آئسوٹوپس کا مطالعہ اور عددی ماڈلنگ کے ذریعے شدید موسمی واقعات سے پہلے، ان کے دوران اور بعد میں زیرِ زمین پانی میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں پایا گیا کہ سمندری طوفان اور فضائی دباؤ میں شدید کمی زیرِ زمین پانی کی سطح اور مختلف گہرائیوں پر پانی کے بہاؤ کے دباؤ میں تیزی سے تبدیلی لا سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں میٹھے اور سمندری پانی کے درمیان قدرتی توازن متاثر ہوتا ہے اور دونوں کے آپس میں ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تحقیق میں خاص طور پر کہا گیا ہے کہ ایسی تبدیلیاں زمین کی سطح سے 100 میٹر سے بھی زیادہ گہرائی میں موجود زیرِ زمین آبی ذخائر میں بھی دیکھی گئیں۔

سطح کے قریب موجود آبی ذخائر میں تبدیلی زیادہ نمایاں اور فوری تھی، جبکہ گہرے آبی ذخائر میں ہونے والی تبدیلیاں نسبتاً زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہیں۔ مستحکم آئسوٹوپس کے تجزیے سے بھی پانی کی نقل و حرکت اور میٹھے و کھارے پانی کے باہمی اختلاط کے مزید شواہد ملے، جو صرف زیرِ زمین پانی کی سطح کی پیمائش سے سامنے نہیں آتے۔ محققین کے مطابق یہ نتائج گنجان آبادی والے ساحلی علاقوں کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں، جہاں زیرِ زمین پانی پینے کے پانی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

گنگا، برہم پتر اور میگھنا کا ڈیلٹا پہلے ہی پانی میں نمکیات کی زیادتی، آرسینک آلودگی، انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی، زیرِ زمین پانی پر بڑھتے دباؤ اور سمندر کی سطح میں اضافے جیسے کئی خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید موسمی واقعات ان خطرات میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ عارضی طور پر زیرِ زمین پانی کے بہاؤ کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساحلی آبی ذخائر کے اندر کھارے پانی کی نقل و حرکت کو بھی بڑھا سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق مختلف گہرائیوں پر موجود آبی ذخائر میں سمندری پانی کے اختلاط کی مقدار بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔

اس لیے زیرِ زمین پانی کے انتظام کی حکمت عملی بناتے وقت تمام ساحلی آبی ذخائر کو ایک ہی نظام سمجھنے کے بجائے ہر آبی ذخیرے کی گہرائی اور خصوصیات کو الگ الگ مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ محققین نے مختلف گہرائیوں پر زیرِ زمین پانی کی مسلسل نگرانی، شدید موسمی حالات کی پیش گوئی کو پانی نکالنے اور آبی وسائل کے انتظام کے منصوبوں میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے۔

ان کے مطابق گہرے آبی ذخائر کا تحفظ، زیرِ زمین پانی کے بے قابو اخراج کو محدود کرنا اور ایسے مقامات سے دور کنوؤں کی تعمیر جہاں سمندری پانی کے داخل ہونے کا خطرہ زیادہ ہو، ساحلی علاقوں میں میٹھے پانی کے وسائل کو محفوظ رکھنے کے لیے مستقبل میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے اثرات صرف سندربن تک محدود نہیں ہیں۔

جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سمیت دنیا کے دیگر گرم خطوں کے دریائی ڈیلٹاؤں اور ساحلی علاقوں کو بھی بڑھتی آبادی، زیرِ زمین پانی پر انحصار، سمندر کی سطح میں اضافے اور شدید موسمی واقعات کے باعث بڑھتے دباؤ کا سامنا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندری طوفانوں کا زیرِ زمین پانی پر اثر صرف سطح کے قریب تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ کافی گہرائی تک پہنچ سکتا ہے، جسے موسمیاتی لچک اور پانی کے تحفظ کی منصوبہ بندی میں اہمیت دینا ضروری ہے۔