نئی دہلی: سپریم کورٹ نے غازی آباد پولیس کی جانب سے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کے خلاف مبینہ روڈ ریج واقعے کی تحقیقات کے سلسلے میں ان کا وسیع ڈیجیٹل ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کو ’’حد سے زیادہ‘‘ قرار دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ تحقیقاتی اداروں کو کسی جرم کی تحقیقات کا حق حاصل ہے، لیکن ان اختیارات کے استعمال کا طریقہ کسی شخص کی نجی ڈیجیٹل زندگی تک رسائی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے غازی آباد پولیس کی جانب سے جاری کیا گیا وہ نوٹس منسوخ کر دیا، جس کے ذریعے صحافی ابھیشیک اپادھیائے سے مبینہ روڈ ریج واقعے سے کئی ماہ پہلے تک کے کال ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل معلومات طلب کی گئی تھیں۔ عدالت نے اپادھیائے کو گرفتاری سے دی گئی عبوری راحت بھی برقرار رکھی، تاہم مبینہ روڈ ریج کے معاملے سے متعلق دیگر سوالات پر فیصلہ کرنے کا راستہ کھلا رکھا۔
سماعت کے دوران عدالت نے سوال اٹھایا کہ مبینہ روڈ ریج واقعے کی تحقیقات کے لیے اتنی وسیع ڈیجیٹل معلومات طلب کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ بنچ نے کہا، ’’یہ ضرورت سے کہیں زیادہ کارروائی معلوم ہوتی ہے۔‘‘ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے کہا کہ ریاست کے تحقیقاتی اختیارات اور کسی فرد کے حقِ رازداری کے درمیان توازن ہونا ضروری ہے، خاص طور پر اس وقت جب متعلقہ شخص تحقیقاتی صحافی ہو۔
عدالت نے کہا، ’’اگر ہم تحقیقات کے لیے مکمل آزادی دیتے ہیں تو تحقیقاتی صحافی کے حقوق کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔‘‘ بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت جرائم کی تحقیقات کے لیے پولیس کو حاصل قانونی اختیارات پر سوال نہیں اٹھا رہی ہے۔ عدالت نے کہا، ’’ہم کسی قانون کے خلاف نہیں ہیں۔ ہماری تشویش اختیارات کے استعمال کے طریقے کو لے کر ہے۔‘‘
اتر پردیش حکومت نے پولیس کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے قواعد کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکام کو تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم، بنچ نے قانونی اختیار کے وجود اور اس اختیار کو استعمال کرنے کے طریقے کے درمیان فرق واضح کیا۔
عدالت نے جون سے کال ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل معلومات طلب کرنے کے دائرے پر بھی سوال اٹھایا، خاص طور پر اس لیے کہ الزام ایک ایسے روڈ ریج واقعے سے متعلق تھا جو اگست میں پیش آیا تھا۔ بنچ نے کہا، ’’آپ روڈ ریج کے ایک واقعے کے لیے سروس فراہم کرنے والی کمپنی سے چار ماہ کے کال ریکارڈ مانگ رہے ہیں، جبکہ واقعہ اگست میں پیش آیا۔ اگر کسی سازش کا معاملہ ہوتا تو ہم اس بات کو سمجھ سکتے تھے۔‘