پی ایم مودی نے 31 ریاستوں میں 16 ہزار کروڑ کے منصوبوں کا جائزہ لیا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 29-10-2026
پی ایم مودی نے 31 ریاستوں میں 16 ہزار کروڑ کے منصوبوں کا جائزہ لیا
پی ایم مودی نے 31 ریاستوں میں 16 ہزار کروڑ کے منصوبوں کا جائزہ لیا

 



نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز پراگتی (PRAGATI) کی 54ویں میٹنگ کی صدارت کی اور 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 16 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ لاگت کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران انہوں نے منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے، ریلوے اسٹیشنوں کی تعمیر نو میں تیزی لانے اور ملک میں ادویات کی تیاری کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے گزشتہ روز پراگتی کی 54ویں میٹنگ کی صدارت کی۔ اس میں 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 16 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ لاگت کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

میٹنگ میں ریلوے اسٹیشنوں کو مختلف ذرائع آمدورفت سے مربوط مراکز کے طور پر تیزی سے ترقی دینے، ادویات کی تیاری میں خود کفالت بڑھانے اور ایکتا مالز کے ذریعے دست کاروں اور مقامی کاروباروں کو بااختیار بنانے پر توجہ دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ ٹھوس نتائج، وقت پر کام کی تکمیل اور عوام کو طویل مدت تک فائدہ پہنچانے پر ہے۔ وزیر اعظم نے سیوا تیرتھ میں پراگتی کی اس میٹنگ کی صدارت کی۔ پراگتی اطلاعات و مواصلات کی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک ایسا پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد فعال حکمرانی اور منصوبوں پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، اس پلیٹ فارم کے ذریعے مرکزی اور ریاستی حکومتیں ایک ساتھ آتی ہیں تاکہ منصوبوں پر عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی اسکیموں کے فوائد عوام تک بہتر انداز میں پہنچائے جا سکیں۔ میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نے ریلوے، ایکتا مالز اور ڈرگ پارکس سے متعلق ان بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا جائزہ لیا، جو 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور جن پر 16 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔

ان منصوبوں کو معاشی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے ان کی مقررہ مدت میں تکمیل، مختلف محکموں کے درمیان تال میل اور مسائل کو بروقت حل کرنے پر زور دیا گیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پی ایم ایکتا مالز میں مقامی مصنوعات کی فروخت کے لیے مناسب بازار فراہم کیے جانے چاہئیں، تاکہ دست کاروں کی روزی روٹی مضبوط ہو اور وہ اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔ انہوں نے ان مالز کو سیاحت اور مقامی کاروبار سے جوڑنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، مقامی مصنوعات کی مانگ بڑھنے سے دیہی علاقوں میں پیداوار، پیکنگ، ذخیرہ کرنے اور نقل و حمل کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ریاستوں کے چیف سکریٹریوں سے کہا کہ وہ ان مالز کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور ان کی تعمیر مقررہ وقت پر مکمل کرائیں۔

وزیر اعظم نے آندھرا پردیش، گجرات اور ہماچل پردیش میں بلک ڈرگ پارکس کے کام کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے فعال اجزا اور دیگر ضروری خام مال کی ملک میں پیداوار کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ اس سے ہندوستان ادویات کی تیاری کے شعبے میں خود کفالت حاصل کر سکے گا اور بیرونی ذرائع پر انحصار کم ہوگا۔ انہوں نے چیف سکریٹریوں کو ہدایت دی کہ وہ ہر ماہ ضلع مجسٹریٹوں کے ساتھ مل کر سرکاری اسکیموں کا جائزہ لیں، تاکہ ان پر عمل درآمد میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے اور مستحق افراد تک وقت پر فائدہ پہنچے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ حکمرانی میں صرف خرچ کی جانے والی رقم کے بجائے حاصل ہونے والے نتائج کو اہمیت دی جانی چاہیے، تاکہ عوامی پیسے کے استعمال سے لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری آئے۔ خواہش مند اضلاع اور خواہش مند بلاک پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی تیز کرنے کے لیے مختلف اسکیموں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنا، مسلسل نگرانی کرنا اور مقامی سطح پر جواب دہی طے کرنا ضروری ہے۔ پی ایم او کے بیان کے مطابق، حکمرانی کو مضبوط بنانے اور فلاحی اسکیموں کے فوائد بہتر طریقے سے لوگوں تک پہنچانے کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں تقریباً 25 کروڑ افراد کثیر جہتی غربت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

احمد آباد ریلوے اسٹیشن کی تعمیر نو کے جائزے کے دوران وزیر اعظم نے ملک کے بڑے ریلوے اسٹیشنوں کی تعمیر نو کے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی، تاکہ مسافروں کو بہتر سہولتیں ملیں اور ان کا سفر آسان ہو۔ انہوں نے کہا کہ نئے سرے سے تیار کیے جانے والے ریلوے اسٹیشنوں کو ایسے مراکز کے طور پر ترقی دی جائے جہاں ریل کے ساتھ میٹرو اور آمدورفت کے دیگر ذرائع بھی آسانی سے دستیاب ہوں اور ان کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو۔

وزیر اعظم نے متعلقہ وزارتوں اور ریاستی حکومتوں سے کہا کہ وہ مشن کے طور پر کام کرتے ہوئے منصوبوں کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کریں، مرکز اور ریاستوں کے درمیان اور مختلف محکموں کے مابین تال میل مضبوط بنائیں اور اعلیٰ ترین سطح پر منصوبوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہر سطح پر ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کام کرنے کی ثقافت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران پیش آنے والے ممکنہ مسائل کی پہلے سے نشاندہی کی جائے، فیصلے وقت پر کیے جائیں اور مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے کے لیے ہر سطح پر ذمہ داری طے کی جائے۔