پی ایم مودی نے یو پی ایس سی میں مسلسل اصلاحات پر زور دیا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
مودی نے یو پی ایس سی میں مسلسل اصلاحات پر زور دیا
مودی نے یو پی ایس سی میں مسلسل اصلاحات پر زور دیا

 



نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) پر زور دیا کہ وہ اپنے امتحانات اور بھرتی کے طریقہ کار میں مسلسل اصلاحات کرے۔ انہوں نے کہا کہ امتحان کا براہ راست تعلق نوجوان امیدواروں کے مستقبل سے ہوتا ہے اور اس میں تاخیر ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ بھارت منڈپم میں یو پی ایس سی کی صد سالہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ امتحانات کرانے والے اداروں کو ملک کی بدلتی ہوئی ضروریات کے ساتھ خود کو تبدیل کرنا چاہیے اور ’’وقت کی پابندی‘‘ کے اصول پر عمل کرنا چاہیے۔ مودی نے کہا، ’’ملک تیزی سے اصلاحات کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔

اس لیے امتحانات کرانے والے اداروں کو بھی ملک کی ضرورت کے مطابق اصلاحات پر کام کرنا چاہیے۔ کسی امتحان کو محض ایک واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کا تعلق ہمارے نوجوانوں کے مستقبل سے ہے۔ چند ماہ کی تاخیر بھی نوجوانوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے امتحانی نظام کو وقت کی پابندی کے اصول پر عمل کرنا چاہیے۔‘

‘ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ موقع یو پی ایس سی کے 100 سال مکمل ہونے اور اس کی طویل وراثت کا جشن بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے لاکھوں نوجوان ہر سال اس ادارے سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں اور ہر ہندوستانی کا اس ادارے پر اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آج کا موقع یو پی ایس سی کے 100 سال مکمل ہونے کے ساتھ ایک عظیم وراثت کا جشن بھی ہے۔ یہ جشن ہر سال لاکھوں نوجوانوں کی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ جشن اس اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو ہر ہندوستانی اس ادارے پر کرتا ہے۔‘‘

مودی نے کہا کہ گزشتہ 100 سال کے سفر میں نسلیں بدلیں، حکومتیں بدلیں، ٹیکنالوجی بدلی اور نصاب بھی بدلے، لیکن یو پی ایس سی پر اعتماد پہلے کی طرح مضبوط رہا۔ان کے مطابق یہ ادارے کے لیے ایک بڑی طاقت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اگلے 20 سے 25 سال ہندوستان اور اس کے اداروں کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، خاص طور پر اس وقت جب ملک ایک ترقی یافتہ قوم بننے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے یو پی ایس سی اور ریاستی پبلک سروس کمیشن اس نوعیت کی حکمرانی کے اہم ذرائع ہیں جس کی ملک کو ضرورت ہے۔ آج جن نوجوانوں کی بھرتی کی جا رہی ہے، وہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے اور اسی ترقی یافتہ ہندوستان کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والوں میں بھی شامل ہوں گے۔

مودی نے کہا کہ بھرتی کے عمل میں دو بنیادی معیار ہونے چاہئیں: ’’نیشن فرسٹ‘‘ یعنی قوم سب سے پہلے، اور ’’سٹیزن فرسٹ‘‘ یعنی شہری سب سے پہلے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انتخاب کو انہی دو معیاروں پر پرکھا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے بھرتی امتحانات میں امیدواروں کی علمی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سرکاری خدمات میں آنے کی ان کی ترغیب کو جانچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے نوجوانوں کو سرکاری خدمت میں لانے کی ضرورت ہے جو صرف سرکاری عہدے کے بجائے عوامی خدمت کی طرف راغب ہوں۔ اس لیے امتحان میں یہ بھی جانچنا ضروری ہے کہ نوجوان سول سروس میں کیوں آنا چاہتا ہے۔ مودی نے کہا کہ شہریوں کی بدلتی ہوئی توقعات کے باعث سول سروسز کے کام کرنے کے طریقے میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔

ان کے مطابق 2047 کا ہندوستان آج کے ہندوستان سے بہت مختلف ہوگا۔ ملک زیادہ شہری ہوگا، دیہات اور شہروں کے درمیان فرق کم ہوگا اور شہریوں، خاص طور پر نوجوانوں کی توقعات کہیں زیادہ ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اب سوال صرف خدمات کی فراہمی کا نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا سرکاری خدمات آج کی فوری حل فراہم کرنے والی دنیا کی رفتار کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں ترقی شہریوں کی حکومت سے متعلق توقعات کو بدل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں ہزاروں دستاویزات کا تجزیہ کر سکتی ہے اور حکومتوں کے پاس حقیقی وقت کا ڈیٹا دستیاب ہے تو شہری فوری حل کی توقع کرتے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی سوچ کے پیش نظر سول سروسز میں بھی نئی تبدیلی ضروری ہے۔ شہریوں کو مرکز میں رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ ایک وقت تھا جب حکومت کو سب سے بڑی اتھارٹی اور ’’مائی باپ‘‘ سمجھا جاتا تھا، لیکن آج کا منتر ’’نَگرک دیو بھَو‘‘ یعنی شہری ہی خدا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدمت سب سے اہم ہے۔

انہوں نے 21ویں صدی کے ہندوستان کے لیے مطلوبہ کام کے کلچر کو ’’عوام دوست، فعال اور بہتر حکمرانی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ سول افسران میں ہمدردی، جدت اور مؤثر عمل درآمد کی صلاحیت کا امتزاج ہونا چاہیے۔ وزیر اعظم نے یو پی ایس سی اور ریاستی پبلک سروس کمیشنوں کے اندر مسلسل صلاحیت سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مشن کرم یوگی کے تحت آئی جی او ٹی پلیٹ فارم کو اداروں کی اندرونی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرنے کی تجویز دی۔ سرکاری خدمات میں وسیع تر شرکت کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ اب مواقع بڑے شہروں اور خوشحال خاندانوں تک محدود نہیں رہے۔ ان کے مطابق یو پی ایس سی کے قیام کے وقت زیادہ تر مواقع بڑے شہروں، خوشحال خاندانوں اور بڑے تعلیمی اداروں کے نوجوانوں کو دستیاب تھے، لیکن آج دیہات اور چھوٹے شہروں کے نوجوان بھی سرکاری خدمات میں پہنچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی شرکت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مودی نے کہا کہ 1952 میں سول سروسز میں خواتین امیدواروں کا تناسب صرف 3 فیصد تھا، جو آج بڑھ کر 30 فیصد سے زیادہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے امیدواروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1976 میں یو پی ایس سی کے 50 سال مکمل ہونے کے وقت کے مقابلے میں آج امتحان دینے والے امیدواروں کی تعداد 45 گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

وزیر اعظم نے کمیشن کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’آپ صرف ایک امیدوار کا انتخاب نہیں کر رہے، بلکہ ایسے شخص کا انتخاب کر رہے ہیں جو آگے چل کر حکومت کے نمائندے کے طور پر کام کرے گا۔ زمینی سطح پر لوگ اس شخص کو ہی حکومت سمجھیں گے۔ اس لیے درست شخص کا انتخاب کرنا آپ سب کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔‘‘

مودی نے یو پی ایس سی کے دوسرے صدی میں داخل ہونے کے موقع پر اس کے بنیادی اصولوں کو محفوظ رکھنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یو پی ایس سی کی آزادی، غیر جانب داری، میرٹ، رازداری اور منصفانہ عمل اس کی شناخت ہیں اور ان اقدار کو ہمیشہ محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے یو پی ایس سی کے 100 سالہ سفر کی یاد میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکہ بھی جاری کیا۔ دو روزہ صد سالہ تقریبات کو ’’منتھن‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جس میں اعلیٰ سرکاری عہدیدار اور ماہرین سول سروسز، عوامی انتظامیہ، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے بدلتے کردار پر غور کر رہے ہیں۔