دین دیال اپادھیائے کی سالگرہ پر وزیر اعظم مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کا خراج عقیدت

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
دین دیال اپادھیائے کی سالگرہ پر وزیر اعظم مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کا خراج عقیدت
دین دیال اپادھیائے کی سالگرہ پر وزیر اعظم مودی اور یوگی آدتیہ ناتھ کا خراج عقیدت

 



نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو بھارتیہ جن سنگھ کے رہنما پنڈت دین دیال اپادھیائے کی یوم پیدائش پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا فلسفہ ’انتودیہ‘ عوامی فلاح اور قومی تعمیر کی بنیاد ہے۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ دین دیال اپادھیائے کا نظریہ آج بھی عوامی پالیسیوں اور نچلی سطح پر بااختیار بنانے کی کوششوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔

مودی نے لکھا، ’’قومی خدمت کے سچے پیروکار پنڈت دین دیال اپادھیائے جی کو ان کی یوم پیدائش پر میری عقیدت بھری سلام۔ وہ سماج کی آخری صف میں کھڑے شخص کی ترقی کو ملک کی تعمیر کی بنیاد سمجھتے تھے اور انہوں نے ہمیں ’انتودیہ‘ کا فلسفہ دیا، جو آج بھی عوامی فلاح کے لیے گہری تحریک کا ذریعہ ہے۔‘

‘ وزیر اعظم نے لوگوں سے اپادھیائے کے نظریات کو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر ہمیں ان کے خیالات اور نظریات کو اپنی زندگی میں شامل کرنے اور اپنی سماجی و قومی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے عزم کو دوبارہ مضبوط کرنا چاہیے۔ مودی نے اس موقع پر ایک سنسکرت سبھاشتم بھی شیئر کیا، جس میں مسلسل کوشش اور حوصلے کو کامیابی اور نئی سوچ کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی لکھنؤ میں منعقد ایک پروگرام میں پنڈت دین دیال اپادھیائے کو پھول پیش کرکے خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ دین دیال اپادھیائے ’انتودیہ‘ یعنی سماج کے آخری فرد کی ترقی کے تصور کے علم بردار تھے۔ یوگی نے صحافیوں سے کہا، ’’آج پنڈت دین دیال اپادھیائے کی یوم پیدائش کا مبارک موقع ہے۔ اس مقدس موقع پر ان کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے میں اتر پردیش کے 25 کروڑ عوام کی جانب سے انہیں اپنی عقیدت پیش کرتا ہوں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ دین دیال اپادھیائے نے آر ایس ایس کے پرچارک کی حیثیت سے اپنی پوری زندگی ہندوستان اور ہندوستانی تہذیب و اقدار کے لیے وقف کردی۔ یوگی کے مطابق، اگرچہ وہ آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کے نظریات ریاست کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی دین دیال اپادھیائے کو ان کی یوم پیدائش پر یاد کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’انتودیہ‘ کے تصور کے پیچھے ان کی سوچ آج بھی تحریک کا ذریعہ ہے۔ پنڈت دین دیال اپادھیائے کی پیدائش 25 ستمبر 1916 کو ہوئی تھی۔ وہ سیاسی مفکر، ماہر معاشیات اور بھارتیہ جن سنگھ کے اہم رہنما تھے۔ وہ ’انٹیگرل ہیومنزم‘ یعنی ’یکجہت انسانی نظریہ‘ کے اہم نظریہ سازوں میں شمار ہوتے ہیں۔

بھارتیہ جن سنگھ بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاسی پیش رو جماعت بنی۔ دین دیال اپادھیائے نے ’راشٹر دھرم‘، ’پانچ جنیہ‘ اور ’سودیش‘ جیسے مطبوعات کے ذریعے اپنے سیاسی اور نظریاتی خیالات کی تشہیر کی۔ 1940 کی دہائی میں انہوں نے ’راشٹر دھرم‘ کے نام سے ماہنامہ شروع کیا، جس کا مطلب ’قومی فریضہ‘ ہے۔ وہ آر ایس ایس سے وابستہ مفکر بھی تھے۔

دسمبر 1967 میں وہ بھارتیہ جن سنگھ کے صدر منتخب ہوئے۔ 11 فروری 1968 کو ان کی موت ہوئی۔ ان کی لاش مغل سرائے ریلوے جنکشن کے قریب ملی تھی، جس کا نام بعد میں بدل کر دین دیال اپادھیائے جنکشن رکھا گیا۔ دین دیال اپادھیائے نے جن سنگھ کے لیے نظریاتی ڈھانچہ تیار کرنے اور کارکنوں کی ایک منظم ٹیم کھڑی کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1967 میں جن سنگھ کے تاریخی اجلاس کو ان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔