رودرپریاگ: کیدارناتھ جانے والے راستے پر اتوار کی دیر رات چرباسا کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پھنسے تقریباً 1500 یاتریوں کو اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ڈی ڈی آر ایف) کی مشترکہ ٹیموں نے بحفاظت نکال کر گوریکنڈ پہنچایا۔ اتوار کی دیر رات رودرپریاگ ڈسٹرکٹ کنٹرول روم نے سون پریاگ پولیس کو اطلاع دی کہ گوریکنڈ سے تقریباً تین کلومیٹر دور چرباسا کے قریب راستے کے دوسری جانب کئی یاتری لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پھنس گئے ہیں۔
اطلاع ملتے ہی سب انسپکٹر آشیش ڈمری کی قیادت میں ایس ڈی آر ایف کی سون پریاگ ٹیم فوری طور پر موقع پر روانہ ہوئی۔ موقع پر پہنچنے کے بعد ٹیم نے دیکھا کہ چرباسا ہیلی پیڈ کے قریب ملبے کی وجہ سے راستہ بند تھا۔ پہاڑی سے مسلسل پتھر گرنے کے باعث اس راستے سے گزرنا مزید خطرناک ہوگیا تھا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف اور ڈی ڈی آر ایف کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ یاتریوں کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے ریسکیو ٹیموں نے احتیاط کے ساتھ انہیں لینڈ سلائیڈنگ والے حصے سے گزارا۔ تقریباً 1500 یاتریوں کو بحفاظت دوسری جانب پہنچایا گیا اور گوریکنڈ کی طرف روانہ کیا گیا۔
مسلسل پتھر گرنے اور مزید لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے باوجود ریسکیو ٹیموں نے باہمی تال میل کے ساتھ آپریشن کامیابی سے مکمل کیا۔ دریں اثنا، اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کے واقعات پیش آئے ہیں، جس سے مختلف مقامات پر ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے۔ اتوار کو ہی مسلسل بارش، پتھر گرنے اور ملبہ آنے کے باعث بدری ناتھ-رشی کیش قومی شاہراہ بھی بند ہوگئی تھی۔ صبح تقریباً 8 بجے پہاڑی سے بڑی مقدار میں پتھر اور ملبہ سڑک پر گرنے کے بعد شاہراہ بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں یاتریوں کو لے جانے والی بڑی تعداد میں گاڑیاں سڑک کے دونوں جانب پھنس گئیں۔
بدری ناتھ اور کیدارناتھ جانے والے عقیدت مندوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور متاثرہ مقام پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے رودرپریاگ میں کیدارناتھ یاترا کے راستے پر چرباسا ہیلی پیڈ کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑک کا ایک حصہ متاثر ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں یاتری راستہ عبور نہیں کر پا رہے تھے۔ ریسکیو ٹیموں نے 6500 سے زیادہ یاتریوں کو بحفاظت نکالا تھا۔ ریاستی حکومت نے ایک بار پھر مقامی باشندوں اور سیاحوں سے انتہائی احتیاط برتنے، سفر سے قبل موسم کی صورتحال جانچنے اور انتظامیہ و محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری تمام حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔