نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی آزادانہ تحقیقات، مبینہ اشتعال انگیز تقاریر پر سیاسی رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر اور مبینہ بدسلوکی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے متعلق درخواستوں کے ایک مجموعے کو مسترد کر دیا۔
جسٹس وویک چودھری اور جسٹس منوج جین کی بنچ نے دسمبر 2019 میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کے دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والے تشدد سے متعلق درخواستیں بھی خارج کر دیں، جن میں پولیس پر زیادتی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ عدالت نے کہا، ’’فیصلوں میں بیان کی گئی وجوہات کی بنیاد پر دونوں درخواستیں (درخواستوں کا مجموعہ) مسترد کی جاتی ہیں۔‘‘ تفصیلی فیصلے جلد اپ لوڈ کیے جائیں گے۔
دہلی فسادات سے متعلق معاملے میں شیخ مجتبیٰ نے بی جے پی رہنماؤں کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور ابھے ورما کی مبینہ تقاریر پر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی تھی۔ ’لائرز وائس‘ نے سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، منیش سسودیا، امانت اللہ خان، اکبر الدین اویسی اور وارث پٹھان سمیت کئی رہنماؤں کی مبینہ نفرت انگیز تقاریر پر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
سی پی آئی (ایم) رہنما برندا کرات نے پولیس، ریپڈ ایکشن فورس کے اہلکاروں اور دیگر حکام کی مبینہ زیادتیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اجے گوتم نے سی اے اے مخالف احتجاج کو مبینہ طور پر ملنے والی مالی مدد کی این آئی اے سے تحقیقات کے علاوہ سیاسی رہنماؤں کی اشتعال انگیز تقاریر پر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس سے قبل ہائی کورٹ سے ان میں سے ایک درخواست پر جلد فیصلہ کرنے کو کہا تھا۔
جامعہ سے متعلق معاملات میں طلبہ نے الزام لگایا تھا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔ ایک درخواست گزار نبیلہ حسن، جو اس وقت قانون کی طالبہ تھیں، نے قومی انسانی حقوق کمیشن سے بھی رجوع کیا تھا۔ درخواستوں میں آزادانہ تحقیقات اور بعض معاملات میں تحقیقات دہلی پولیس سے لے کر کسی بیرونی ایجنسی کو سونپنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
دہلی پولیس نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے یونیورسٹی کے اندر اور باہر نصب کیمروں کے علاوہ نیو فرینڈز کالونی کے علاقے سے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کرکے محفوظ کی ہے۔ پولیس نے یہ بھی دلیل دی تھی کہ تحقیقات کسی دوسری ایجنسی کو منتقل کرنے سے اصل معاملے کا دائرہ وسیع ہو جائے گا۔