دہلی میں میٹرو بندش پر توہینِ عدالت کی کارروائی کی درخواست

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 10-10-2026
دہلی میں میٹرو بندش پر توہینِ عدالت کی کارروائی کی درخواست
دہلی میں میٹرو بندش پر توہینِ عدالت کی کارروائی کی درخواست

 



نئی دہلی: دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے پیش نظر میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور ریل گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے معاملے میں سپریم کورٹ میں ہفتے کے روز توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ حکام نے 10 اکتوبر کو دہلی میں میٹرو اور ہندوستانی ریلوے کی ٹرینوں کی آمدورفت مکمل طور پر بند نہ کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔

وکیل شیلیندر منی ترپاٹھی کی جانب سے دائر اس درخواست میں مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری گووند موہن، دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کی چیئرپرسن ڈی تھارا کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست وکیل چند قریشی کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق پر اس طرح حملہ اور سپریم کورٹ کے احکامات کو نظرانداز کرنا دہلی میٹرو، دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کی جانب سے دانستہ اور ارادی کوشش کے مترادف ہے، جس سے سختی کے ساتھ نمٹا جانا چاہیے۔ درخواست میں سپریم کورٹ کے 9 اکتوبر کے حکم کا حوالہ دیا گیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم ایک دوسری عرضی کی سماعت کے دوران دیا تھا، جس میں احتجاج کے پیش نظر دہلی کے 57 میٹرو اسٹیشن بند کرنے اور دہلی آنے والی ٹرینوں کی آمدورفت منسوخ کرنے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ کاکروچ جنتا پارٹی اور بعض طلبہ تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کی اپیل کی تھی۔ یہ احتجاج الیکشن کمیشن کے کام کاج میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کیا جانا تھا۔

جمعہ کے روز اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ احتجاج کے سبب 10 اکتوبر کو دہلی آنے والی میٹرو اور ٹرینوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی نہ لگائی جائے۔ عدالت نے کہا تھا کہ ہر چیز کو پوری طرح ٹھپ نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بے قابو بھیڑ کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا اختیار ہے، لیکن شہریوں کو بلاوجہ پریشان نہیں کیا جانا چاہیے۔

توہینِ عدالت کی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ عدالت کی واضح ہدایت اور اس کے سامنے دی گئی یقین دہانی کے باوجود حکام نے آمدورفت کے راستوں پر مکمل بندش برقرار رکھی، غیر ضروری طور پر ٹرینیں منسوخ کیں اور ٹریفک و آمدورفت سے متعلق شفاف معلومات عام کرنے میں ناکام رہے۔ درخواست کے مطابق، حکام کی اس دانستہ ہٹ دھرمی سے قومی دارالحکومت کے علاقے میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے، ضروری کاموں کے لیے سفر کرنے والے لوگ پھنس گئے اور یہ صورتِ حال سپریم کورٹ کے اختیارات اور وقار کو کمزور کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ دہلی میں میٹرو اسٹیشنوں اور ان کے داخلی دروازوں کی اچانک بندش سے وہ خود بھی متاثر ہوا ہے۔ اس نے عدالت سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 9 اکتوبر کے حکم میں بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کی اجازت دی گئی تھی، نہ کہ میٹرو کے داخلی اور خارجی راستے مکمل طور پر بند کرنے کی۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے جمعہ کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے جی ٹی بی نگر اور وشو ودیالیہ میٹرو اسٹیشنوں کا خود دورہ کیا تھا۔

اس دوران اس نے پایا کہ داخلی دروازے پوری طرح بند تھے، جب کہ باہر نکلنے کے دروازوں پر اہلکار دستی طور پر آمدورفت کو محدود کر رہے تھے۔ درخواست گزار نے الزام لگایا کہ حکام جان بوجھ کر قومی دارالحکومت میں ایسی صورتِ حال پیدا کر رہے ہیں جس سے قانون کی حکمرانی متاثر ہو رہی ہے۔ عرضی میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ 9 اکتوبر کے حکم کی دانستہ، ارادی اور مسلسل نافرمانی کے لیے متعلقہ حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔

اس کے ساتھ ہی فوری عبوری حکم جاری کرنے کی اپیل کی گئی ہے، جس کے تحت میٹرو اور ریلوے کی آمدورفت پر عائد تمام عمومی پابندیاں واپس لی جائیں اور عوام کو اطلاع دے کر باقاعدہ اور محدود انتظامات کے تحت خدمات جاری رکھی جائیں۔ درخواست میں عدالت سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی جائے اور ان سے وضاحت طلب کی جائے کہ توہینِ عدالت کے الزام میں ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی جائے۔ سپریم کورٹ نے 9 اکتوبر کے حکم میں کہا تھا کہ بظاہر متعلقہ نوٹیفکیشن ضروری عوامی نقل و حمل پر مکمل پابندی عائد کرکے عدالت کے دائرۂ اختیار سے تجاوز کرتے نظر آتے ہیں۔

عدالت نے جب میٹرو اور دوسری ٹرینوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی اور اسے ضابطے کے تحت جاری رکھنے کے درمیان فرق واضح کیا تو سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے متعلقہ حکام کو پابندیوں پر دوبارہ غور کرنے کے لیے قائل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ بنچ نے کہا تھا کہ اس یقین دہانی کے پیش نظر میٹرو ٹرینوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی نہیں ہونی چاہیے، البتہ حالات کے مطابق مناسب اور منظم طریقے سے خدمات چلانے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ اس فیصلے کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے، تاکہ عوام کو مزید پریشانی نہ ہو۔ عدالت نے گاڑیوں کی آمدورفت آسان بنانے کے لیے اخبارات اور آن لائن پلیٹ فارموں پر ٹریفک سے متعلق ہدایات جاری کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا، تاکہ شہر کے اندر سفر کرنے والوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ حکومت سے مشورہ کریں گے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق پابندیوں کو منظم کرنے اور وقتاً فوقتاً ان کا جائزہ لینے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔