یونیفارم کے بجائے نقد رقم دینے کی پالیسی کے خلاف عرضی خارج

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-10-2026
یونیفارم کے بجائے نقد رقم دینے کی پالیسی کے خلاف عرضی خارج
یونیفارم کے بجائے نقد رقم دینے کی پالیسی کے خلاف عرضی خارج

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ معاشی طور پر کمزور طبقوں (ای ڈبلیو ایس) اور محروم گروپوں کے طلبہ کو اسکول یونیفارم فراہم کرنے کے بجائے اس کی خریداری کے لیے نقد رقم دینے کے حکومت کے فیصلے کو مکمل طور پر من مانا، بے بنیاد یا من مانی خواہش پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عدالت نے اس پالیسی کو برقرار رکھنے کے اپنے سابقہ فیصلے پر نظرثانی کی درخواست خارج کردی۔ جسٹس سبرامنیم پرساد اور جسٹس رینو بھاٹناگر پر مشتمل بنچ نے کہا کہ عدالتیں عام طور پر حکومت کے پالیسی ساز فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتیں، جب تک کہ وہ اس قدر من مانے یا بے بنیاد نہ ہوں کہ عدالت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیں۔

بنچ نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست بنیادی طور پر پورے معاملے پر دوبارہ بحث کرنے کی کوشش ہے، جبکہ نظرثانی کے دائرۂ اختیار کی حدود بہت محدود ہیں۔ عدالت کو اپنے سابقہ فیصلے میں کوئی واضح غلطی بھی نظر نہیں آئی اور نہ ہی ایسا کوئی اہم مواد سامنے آیا جس پر پہلے غور نہ کیا گیا ہو۔ عدالت نے پہلے ہی دہلی حکومت کی اس پالیسی کو قبول کرلیا تھا، جس کے تحت اہل طلبہ کو یونیفارم خریدنے کے لیے مناسب رقم فراہم کی جانی ہے۔ یہ فیصلہ 12 اکتوبر کو جسٹس فار آل نامی تنظیم کی جانب سے دائر نظرثانی کی درخواست پر سنایا گیا۔

تنظیم نے ہائی کورٹ کے 23 جنوری 2026 کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں عدالت نے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کے حق کے قانون، 2009 (آر ٹی ای ایکٹ) پر عمل درآمد سے متعلق اپنے سابقہ احکامات میں ترمیم کی تھی۔ اصل عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ دہلی کے تسلیم شدہ امدادی اور غیر امدادی نجی اسکولوں میں معاشی طور پر کمزور طبقوں اور محروم گروپوں کے تحت داخلہ لینے والے طلبہ کو قانون کے مطابق مفت درسی کتابیں، یونیفارم اور دیگر تعلیمی مواد فراہم کیا جائے۔ یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب دہلی حکومت نے 10 جون 2025 کو ایک پالیسی تیار کی، جس کے تحت طلبہ کو یونیفارم براہ راست فراہم کرنے کے بجائے اس کی خریداری کے لیے مالی امداد دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

حکومت نے اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یونیفارم کی خریداری اور تقسیم کا عمل پیچیدہ ہے، جس سے محکمہ تعلیم اور اسکولوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ حکومت نے یہ بھی بتایا تھا کہ گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس کے ذریعے ٹینڈر کا عمل مکمل ہونے میں عموماً تقریباً 6 ماہ لگ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اسکولوں کی یونیفارم کے ڈیزائن، رنگ اور دیگر خصوصیات بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ ہائی کورٹ نے حکومت کی پالیسی کو قبول کرتے ہوئے رواں سال جنوری میں اپنے 13 اپریل 2023 کے حکم میں ترمیم کی تھی اور حکومت کو ہدایت دی تھی کہ پالیسی کے مطابق طلبہ کو یونیفارم خریدنے کے لیے مناسب رقم فراہم کی جائے۔

اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے جسٹس فار آل نے دلیل دی تھی کہ اسے اپنا جواب داخل کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور حکومت کی پالیسی آر ٹی ای ایکٹ کی قانونی دفعات کے خلاف ہے۔ عدالت نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی کی درخواست دائر ہونے کے بعد عرضی گزار کو مناسب وقت دیا گیا تھا۔ اس کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور انہوں نے معاملے پر تفصیل سے بحث بھی کی، لیکن جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت نہیں مانگا تھا۔ اس لیے عدالت نے اس دلیل کو بھی مسترد کردیا کہ نظرثانی کی سابقہ کارروائی میں درخواست گزار کو مناسب سماعت کا موقع نہیں دیا گیا۔

حکومتی پالیسی کو چیلنج کرنے کے معاملے میں بنچ نے کہا کہ متعلقہ قانونی دفعات اور حکومت کی پالیسی کا پہلے ہی سابقہ مقدمے کے فیصلے کے وقت جائزہ لیا جاچکا ہے۔ موجودہ کارروائی میں وہی دلائل دوبارہ پیش کیے جارہے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ نظرثانی کے اختیار کو اپیل کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ نظرثانی صرف محدود بنیادوں پر کی جاسکتی ہے، مثلاً کوئی نیا اور اہم ثبوت سامنے آنا جسے پوری کوشش کے باوجود پہلے پیش نہ کیا جاسکا ہو، یا ریکارڈ میں ایسی واضح غلطی موجود ہو جو بظاہر نظر آتی ہو۔

بنچ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی مبینہ غلطی، جسے ثابت کرنے کے لیے تفصیلی استدلال اور طویل قانونی بحث کی ضرورت ہو، عام طور پر ریکارڈ میں موجود واضح غلطی نہیں مانی جاسکتی۔ ہائی کورٹ نے اپنے سابقہ فیصلے میں کوئی واضح غلطی نہ پانے اور کسی متعلقہ مواد پر غور کرنے میں کوتاہی کا ثبوت نہ ملنے کے بعد نظرثانی کی درخواست اور اس سے متعلق زیر التوا درخواستیں خارج کردیں۔ جسٹس فار آل کی جانب سے ایڈووکیٹ کھگیش بی جھا عدالت میں پیش ہوئے۔