باہر کی بی ایس 6 سے کم گاڑیوں پر پابندی کے خلاف درخواست، ہائی کورٹ نے روک لگانے سے انکار کیا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 02-11-2026
باہر کی بی ایس 6 سے کم گاڑیوں پر پابندی کے خلاف درخواست، ہائی کورٹ نے روک لگانے سے انکار کیا
باہر کی بی ایس 6 سے کم گاڑیوں پر پابندی کے خلاف درخواست، ہائی کورٹ نے روک لگانے سے انکار کیا

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز دہلی حکومت کے اس نوٹیفکیشن پر روک لگانے سے انکار کر دیا، جس کے تحت سردیوں کے مہینوں میں قومی راجدھانی خطے سے باہر رجسٹرڈ اور بی ایس 6 سے کم معیار کی گاڑیوں کے دہلی میں چلنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ تاہم، اس پابندی کو چیلنج کرنے والی درخواست پر عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ قائم مقام چیف جسٹس نتن واسودیو سامبرے کی سربراہی والی بنچ نے فی الحال عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 27 نومبر کو ہوگی۔

درخواست میں دہلی حکومت کے محکمہ ماحولیات و جنگلات کی جانب سے 23 جون 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے حصہ اول کے پیراگراف 4 کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن ماحولیات کے تحفظ کے قانون 1986 کی دفعہ 5 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ درخواست کے مطابق، اس حکم کے تحت ہر سال یکم نومبر سے 31 جنوری تک قومی راجدھانی خطے سے باہر رجسٹرڈ ایسی گاڑیوں کو دہلی میں چلنے کی اجازت نہیں ہوگی جو بی ایس 6 اخراج کے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی ہر سال یکم نومبر سے خود بخود نافذ ہو جاتی ہے۔

درخواست گزار نے اس پابندی کو یہ کہتے ہوئے چیلنج کیا ہے کہ اس میں یکساں خصوصیات والی گاڑیوں کے ساتھ ان کی رجسٹریشن کی جگہ کی بنیاد پر الگ الگ سلوک کیا جا رہا ہے۔ درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ دہلی سے باہر رجسٹرڈ بی ایس 4 گاڑی کو مقررہ مدت کے دوران شہر میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے، جبکہ اسی معیار کی دہلی میں رجسٹرڈ گاڑی پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔ درخواست میں تین ماہ تک جاری رہنے والی اس مکمل پابندی کی ضرورت اور تناسب پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ پابندی کسی مخصوص دن کے فضائی معیار کے اشاریے (اے کیو آئی) کو دیکھے بغیر نافذ رہتی ہے۔

اس کے علاوہ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ پابندی گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی پر قابو پانے کے لیے بنائے گئے مرحلہ وار منصوبے، یعنی گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (جی آر اے پی) کے اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ متنازع حکم پر عمل درآمد معطل کیا جائے اور سماعت کے بعد اسے چیلنج کیے گئے حصے کی حد تک منسوخ کر دیا جائے۔