ذاتی ترقی کو قومی ترقی کا ذریعہ بنانا چاہیے: وزیر اعظم مودی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-10-2026
ذاتی ترقی کو قومی ترقی کا ذریعہ بنانا چاہیے: وزیر اعظم مودی
ذاتی ترقی کو قومی ترقی کا ذریعہ بنانا چاہیے: وزیر اعظم مودی

 



نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ ذاتی ترقی کو قومی ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔ انہوں نے سوامی چنمیا نند کی تعلیمات اور روحانی ترقی کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کے لیے ان کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی اس بات کی مثال تھی کہ روحانیت اور قومی تعمیر ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ وزیر اعظم نے وید کے ایک منتر ’’وَیَم راشٹرے جاگرُیام پروہتہ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ منتر لوگوں کو ملک کو بیدار، باشعور اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

وزیر اعظم نے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں 23 سے 25 اکتوبر تک منعقد ہونے والے تین روزہ ’چنمیا امرت مہوتسو عالمی سمیلن‘ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’دوستو، ہمارے وید ہمیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم قوم کو بیدار اور ترقی یافتہ بنائیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ ملک کی بھلائی چاہتے ہیں، انہیں قوم کو بیدار، باشعور اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ سوامی چنمیا نند جی نے اپنی پوری زندگی اسی منتر کی رہنمائی میں گزاری۔ روحانی موضوعات پر جس لگن سے وہ گفتگو کرتے تھے، اسی جوش اور وضاحت کے ساتھ قومی معاملات پر بھی بات کرتے تھے، کیونکہ ہمارا ملک ہماری تہذیب کی جنم بھومی ہے۔‘

‘ وزیر اعظم نے ملک کو عوام کے وجود کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوامی چنمیا نند ہمیشہ روحانی ترقی کو ذاتی ترقی سے جوڑنے اور ذاتی ترقی کو قومی ترقی کا ذریعہ بنانے کی تعلیم دیتے تھے۔ مودی نے کہا کہ ہندوستان کے لوگوں کے دلوں میں اپنے ملک کے لیے خود اعتمادی اور عزتِ نفس پیدا کرنا سوامی چنمیا نند کے مشن کا اہم حصہ تھا۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’یہ ملک ہمارے وجود کی بنیاد ہے۔ سوامی جی ہمیشہ ہمیں سکھاتے تھے کہ ہم اپنی روحانی ترقی کو ذاتی ترقی سے جوڑیں اور ذاتی ترقی کو ملک کی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ ہندوستان کے لوگوں کے دلوں میں اپنے ملک کے لیے خود اعتمادی اور عزت پیدا کرنا سوامی جی کا مشن تھا۔

اسی مقصد کے تحت انہوں نے ’گیتا گیان یگیہ‘ شروع کیا اور اپنشدوں، ویدانت اور ہمارے مذہبی صحیفوں کے علم کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ آج ہم ان کے اسی عزم کے نتائج دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ وزیر اعظم نے چنمیا مشن کو محض ایک ادارہ قرار دینے کے بجائے اسے ایک ایسی فکر بتایا جس کی بنیاد ایک روحانی رشی نے رکھی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’مشن کے تمام وقف کارکنوں، عقیدت مندوں اور علم کے متلاشی افراد، جو ملک اور بیرون ملک سے یہاں آئے ہیں، خواتین و حضرات! آپ سب کی نیک تمناؤں سے آج مجھے چنمیا مشن کے امرت مہوتسو میں شرکت کا موقع ملا ہے۔ یہ ایک بالکل مختلف روحانی تجربہ ہے۔ یہ ہمارے سنتوں کی جانب سے میرے لیے خصوصی محبت اور آشیرواد ہے۔‘

‘ انہوں نے مزید کہا، ’’چنمیا مشن صرف ایک ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک چنمیا فکر ہے، جس کی بنیاد ایک چنمیا رشی نے رکھی تھی۔ کئی دہائیوں پر مشتمل اس کا سفر بھی چنمیا عزم و ارادے سے بھرپور رہا ہے۔ جو چنمیا ہے، وہ فطری طور پر لازوال ہے، وہ امرت جیسا ہے۔