دھوبری: آسام کے ضلع دھوبری میں کم عمری کی شادی کے خلاف جاری کارروائی کے دوران 54 شوہروں سمیت 80 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں 66 مقدمات درج کیے ہیں۔ ضلع کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس دیباشیش بوراہ نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ پولیس افسر کے مطابق، گرفتاریاں کم عمری کی شادی کی روک تھام کے قانون اور بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرنے والے قانون (پاکسو) کی متعلقہ دفعات کے تحت کی گئی ہیں۔
بوراہ نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ریاست بھر میں کم عمری کی شادی کے خلاف جاری مہم کے تحت دھوبری میں بھی کارروائی کی گئی ہے۔ اب تک 66 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور ان کے سلسلے میں 80 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار افراد کو مزید پوچھ گچھ کے لیے پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے، تاکہ معاملے میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ بدھ کی صبح تک ضلع میں گرفتار کیے گئے 80 افراد میں 54 شوہر شامل ہیں۔
پولیس صورت حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے گرفتاریوں کی تعداد میں تبدیلی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر 67 افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی گئی تھی، لیکن بعد میں تصدیق کے دوران یہ تعداد 64 پائی گئی۔
اس کے بعد کارروائی آگے بڑھنے کے ساتھ گرفتار افراد کی تعداد بڑھ کر 80 ہو گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، گرفتار افراد سے پوچھ گچھ کا مقصد مزید معلومات حاصل کرنا اور درج مقدمات میں ممکنہ طور پر ملوث دوسرے ملزمان کی شناخت کرنا ہے۔ آسام میں کم عمری کی شادی کے خلاف ریاست گیر مہم جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مزید گرفتاریاں کی جا سکتی ہیں۔