نئی دہلی: دہلی کے چاندنی چوک علاقے میں چاوری بازار میٹرو اسٹیشن کے قریب گلی ستارہ، شیش محل میں جمعرات کو 3 منزلہ زیر تعمیر عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوگیا، جس کے بعد فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں اور ٹیموں کو موقع پر روانہ کیا گیا۔ فی الحال یہ تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ ملبے کے اندر کتنے افراد پھنسے ہوسکتے ہیں۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق عمارت منہدم ہونے کی اطلاع صبح تقریباً 9:50 بجے پیلوالان فائر اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں موصول ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی ابتدائی طور پر 2 واٹر ٹینڈر، ایک واٹر باؤزر، ایک کوئیک رسپانس وہیکل (کیو آر وی) اور ایک انسیڈنٹ رسپانس ٹیم (آئی آر ٹی) کو موقع پر بھیجا گیا۔
تقریباً 10:15 بجے اسٹیشن آفیسر ڈی کے رائے نے محکمہ کو بتایا کہ 3 منزلہ زیر تعمیر عمارت منہدم ہوگئی ہے اور کچھ افراد ملبے میں پھنسے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید نفری اور ایک سینئر افسر کو موقع پر بھیجنے کی درخواست کی۔ اس کے بعد ایک مزید واٹر ٹینڈر اور اسسٹنٹ ڈویژنل آفیسر (اے ڈی او) راجیش شکلا کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا، جس کے بعد کارروائی میں تعینات یونٹوں کی تعداد 6 ہوگئی۔ موقع پر اے ڈی او راجیش شکلا، اسٹیشن آفیسر بھوپیندر شرما اور ایس او ڈی کے رائے کی نگرانی میں امدادی کارروائی جاری ہے۔ ادھر عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھاردواج نے ریکھا گپتا حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے دہلی میں عمارتوں کی حفاظت کے آڈٹ اور شہری و دیگر سرکاری محکموں کی جانب سے قوانین کے نفاذ میں مبینہ بدعنوانی پر سوال اٹھائے۔ بھاردواج نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’چاوری بازار/چاندنی چوک میں ایک اور 3 منزلہ عمارت منہدم ہوگئی۔
خدشہ ہے کہ کئی افراد ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔ ریکھا گپتا کی حکومت اور ایم سی ڈی نے دہلی کی تمام عمارتوں کے کئی بار حفاظتی آڈٹ کرائے، اس کے باوجود عمارتیں مسلسل منہدم ہورہی ہیں۔ کیوں؟‘‘ انہوں نے مختلف متعلقہ محکموں پر بدعنوانی کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ جو لوگ رشوت دینے سے انکار کرتے ہیں، ان کی عمارتوں کو ایم سی ڈی سیل کردیتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا، ’’حفاظتی آڈٹ کے احکامات بار بار جاری کیے گئے، لیکن حقیقی کارروائی کے بجائے کئی محکموں نے کئی مرتبہ رشوت وصول کی، اسی لیے ہر ماہ عمارتیں منہدم ہورہی ہیں۔ پہلے صرف دہلی پولیس اور ایم سی ڈی رشوت لیتے تھے، لیکن ریکھا گپتا کی حکومت آنے کے بعد فائر ڈپارٹمنٹ اور ایس ڈی ایم (ان کے ماتحت ریونیو ڈپارٹمنٹ) نے بھی عمارتوں سے رشوت لینا شروع کردی۔ جو لوگ رشوت دینے سے انکار کرتے ہیں، ان کی عمارتیں ایم سی ڈی سیل کردیتی ہے۔‘‘ بھاردواج نے مزید کہا کہ اس سے من پسند طریقے سے کارروائی کیے جانے کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ حیران کن ہے کہ گریٹر کیلاش-2 مارکیٹ میں ایک وارڈ کے اندر 2 جم سیل کردیے گئے، جبکہ اسی جنوبی زون میں دیگر جم اور تجارتی عمارتیں کھلی ہوئی ہیں۔‘‘