اویسی کا چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے پینل میں چیف جسٹس کو شامل کرنے کا مطالبہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
اویسی کا چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے پینل میں چیف جسٹس کو شامل کرنے کا مطالبہ
اویسی کا چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے پینل میں چیف جسٹس کو شامل کرنے کا مطالبہ

 



حیدرآباد (تلنگانہ): آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے منگل کو ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کرنے والے پینل میں ہندوستان کے چیف جسٹس کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے موجودہ تقرری کے طریقہ کار کو ’’سب سے بڑا مسئلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری، ملازمت کی شرائط اور مدت سے متعلق 2023 کے قانون کے تحت تقرری کمیٹی میں وزیر اعظم بطور چیئرمین، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور وزیر اعظم کی جانب سے نامزد ایک مرکزی وزیر شامل ہوتے ہیں۔

حیدرآباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ وہ دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ’انڈیا‘ اتحاد کے احتجاج میں شامل نہیں ہوئے، کیونکہ اے آئی ایم آئی ایم اس اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ اویسی نے کہا، ’’میں وہاں نہیں گیا کیونکہ میں اس اتحاد کا حصہ نہیں ہوں۔ بیگانی شادی میں میرا کیا کام؟ چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب کا موجودہ طریقہ کار غلط ہے۔ یہ پوری طرح حکومت کے حق میں ہے۔

اس طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ غلط ہے اور اسے درست کرنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے ایک بار پھر ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو ’’پچھلے دروازے سے این آر سی‘‘ قرار دیا۔ اویسی نے کہا کہ بہار میں ایس آئی آر کے دوران بھی انہوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

انہوں نے کہا، ’’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب سے متعلق قانون تبدیل کیا جائے۔ چیف جسٹس، وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف مل کر چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب کریں۔ یہ ایس آئی آر غلط ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ایس آئی آر پچھلے دروازے سے این آر سی لانے کی کوشش ہے۔‘‘ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ میں 2023 کے اس قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر اختلاف سامنے آیا تھا۔

اس قانون میں چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کے پینل سے چیف جسٹس کو ہٹا دیا گیا ہے۔ عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ آیا اس معاملے کو پانچ ججوں کی بڑی بنچ کے حوالے کیا جائے یا نہیں۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس ستیش چندر شرما کی دو رکنی بنچ اس معاملے پر مختلف رائے رکھتی تھی۔

جسٹس دتا نے معاملے کو بڑی بنچ کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کردی، جبکہ جسٹس شرما نے کہا کہ اس معاملے پر آئینی بنچ کو غور کرنا چاہیے۔ تاہم دونوں ججوں نے اتفاق رائے سے ہدایت دی کہ معاملہ چیف جسٹس ہند کے سامنے رکھا جائے تاکہ وہ مناسب تعداد والی آئینی بنچ کی تشکیل پر غور کریں۔ بنچ نے کہا کہ پہلے معاملے کو تین رکنی بنچ کے پاس بھیجنے سے کارروائی غیر ضروری طور پر تاخیر کا شکار ہوگی۔