سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے الزامات پر الیکشن کمیشن کے خلاف ’انڈیا‘ اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کے احتجاج کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد نے احتجاجی کارروائی کا ایک پروگرام طے کیا ہے، جس کا آغاز الیکشن کمیشن کی طرف مارچ سے ہوا ہے اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔ عمر عبداللہ نے کہا، ’’گزشتہ چند دنوں میں ’انڈیا‘ اتحاد کی جو میٹنگ ہوئی، اس میں احتجاجی کارروائی کا ایک پروگرام بنایا گیا تھا۔
اس کا آغاز ارکان پارلیمنٹ کے الیکشن کمیشن کی طرف مارچ سے ہوا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘‘ ان کا یہ بیان نئی دہلی میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) اور ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے الزامات پر ’انڈیا‘ اتحاد کے احتجاج کے دوران سامنے آیا۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے طریقہ کار پر الیکشن کمیشن سے سوالات کر رہی ہیں اور پورے عمل کی مزید جانچ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اپنے احتجاجی پروگرام کے تحت الیکشن کمیشن کی طرف مارچ کیا اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ اس بارے میں پہلے بھی آواز اٹھائی گئی تھی، لیکن اس وقت بہت کم لوگوں نے اس طرف توجہ دی۔
انہوں نے کہا، ’’اس معاملے کو پہلے بھی اٹھایا گیا تھا، لیکن بہت کم لوگوں نے اس پر توجہ دی۔ اب سپریم کورٹ بھی ووٹوں کے نام حذف کیے جانے پر سوال اٹھا رہی ہے۔‘‘ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن سپریم کورٹ میں جاری کارروائی کا انتظار کرے گی اور دیکھے گی کہ ووٹوں کے نام حذف کیے جانے کے معاملے کو عدالت میں کس طرح دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم انتظار کریں گے کہ عدالت میں اس معاملے پر کیا کارروائی ہوتی ہے۔‘‘
’انڈیا‘ اتحاد میں شامل کئی جماعتوں کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کی طرف مارچ میں حصہ لیا اور اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ یہ احتجاج اپوزیشن کی جانب سے شروع کی گئی وسیع تر ’’جمہوریت بچاؤ‘‘ مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت اپوزیشن رہنما الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج اور عوامی پروگرام کر رہے ہیں۔
تازہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے دوران الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 14 اعتراضات اٹھائے تھے۔ تاہم الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تمام فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے تھے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے فارم 6 میں کی گئی مبینہ تبدیلی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ پیر کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس نے ایس آئی آر کے دوران نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال کیے جانے والے فارم 6 کے کسی ترمیم شدہ ورژن کی منظوری نہیں دی ہے۔