ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا جنتر منتر کی طرف مارچ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا جنتر منتر کی طرف مارچ
ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا جنتر منتر کی طرف مارچ

 



نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سمیت اپوزیشن کے دیگر ارکان پارلیمنٹ کو لے جانے والی بسیں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کے لیے جنتر منتر کی جانب روانہ ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ کانگریس رہنما پون کھیڑا نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کرکے بتایا کہ دارالحکومت میں دیگر مقامات پر احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے بعد ارکان پارلیمنٹ کو لے جانے والی بسیں جنتر منتر کی طرف جا رہی ہیں۔

کھیڑا نے لکھا، ’’امیت شاہ کے ماتحت دہلی پولیس ہمیں دارالحکومت میں کہیں بھی احتجاج نہیں کرنے دے رہی، اس لیے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کو لے جانے والی تمام بسیں اب جنتر منتر کی طرف جا رہی ہیں، جو پُرامن احتجاج کے لیے مقررہ مقام ہے۔ آئین کا آرٹیکل 19 ہمیں جمہوری احتجاج کا حق دیتا ہے۔‘‘ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اس سے قبل جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ گاندھی نے صحافیوں سے کہا، ’’کل انہوں نے کہا کہ ہم وہاں احتجاج نہیں کر سکتے، اس لیے ہم احتجاج کو جنتر منتر لے جا رہے ہیں۔ گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے خلاف 100 ایف آئی آر درج کی جائیں، ہر ایف آئی آر ایک تمغہ ہے۔‘

‘ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک او برائن نے کہا، ’’ہم سب یہاں ایک ساتھ ہیں، ہم سب متحد ہیں اور ہم سب یہاں بغیر کسی انا کے موجود ہیں۔ ہم ان لوگوں کے خلاف اس وقت تک لڑیں گے جب تک وہ اقتدار سے باہر نہیں ہو جاتے۔‘‘ راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ میں شرکت کے لیے آج کئی اہم اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ دارالحکومت میں جمع ہوئے۔

اس سے قبل راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا نے کہا، ’’لنچ ہوگا، شاید لانچ بھی ہوگا۔‘‘ اپوزیشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنی مہم مزید تیز کردی ہے۔ منگل کو اپوزیشن جماعتوں نے دن بھر احتجاج کیا تھا، جس کے اختتام پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اپوزیشن جماعتیں مختلف ریاستوں میں بھی الگ الگ احتجاج کر رہی ہیں۔ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ یہ ٹکراؤ چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ تک جاری رہے گا۔ دریں اثنا، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بدھ کو پولیس اہلکاروں نے رکاوٹیں کھڑی کرکے روک دیا۔ وہ کشمیری گیٹ کے قریب سندھی اکیڈمی سے دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کی جانب احتجاجی مارچ کر رہے تھے۔ اے اے پی نے بڑے پیمانے پر ’’ووٹ چوری‘‘ کا الزام لگایا ہے۔