نئی دہلی: اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق امور پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کے لیے وقت مانگا ہے۔ ذرائع نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ یہ پیش رفت انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر 6 اکتوبر کو ’انڈیا‘ اتحاد کے الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کے بعد ہوئی ہے۔ دریں اثنا، کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے بدھ کو اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو دوپہر ایک بجے قومی دارالحکومت میں ظہرانے کی دعوت دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران ارکان پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے ملاقات کا وقت مانگنے کے لیے ایک خط پر دستخط کریں گے۔
’انڈیا‘ اتحاد انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے جواب مانگ رہا ہے اور اس پر اپنے خدشات کا مناسب جواب نہ دینے کا الزام لگا رہا ہے۔ اپوزیشن کا یہ احتجاج اس کی وسیع تر ’’جمہوریت بچاؤ‘‘ مہم کا حصہ ہے۔ اس سے قبل منگل کو ’انڈیا‘ اتحاد میں شامل کئی جماعتوں کے رہنماؤں نے نروچن سدن کی طرف مارچ کیا تھا، لیکن انہیں راستے میں لگائی گئی رکاوٹوں پر روک دیا گیا۔ اس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے آکاشوانی بھون میں دھرنا دیا۔
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ تقریباً 300 اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمشنروں سے ملاقات کرکے اپنے خدشات پیش کرنا چاہتے تھے۔ بعد میں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سمیت اپوزیشن کے کئی رہنماؤں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ راہل گاندھی نے احتجاج کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن صرف الیکشن کمشنروں سے ملاقات کرکے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے بارے میں سوالات پوچھنا چاہتی تھی۔ احتجاج کے بعد الیکشن کمیشن نے وضاحت کی تھی کہ شام 4 بجے تک کسی بھی سیاسی جماعت نے کمیشن سے ملاقات کے لیے باقاعدہ درخواست نہیں دی تھی۔
الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ دہلی پولیس نے تقریباً 4 بجے اسے اطلاع دی کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں تقریباً 240 ارکان پارلیمنٹ کا ایک وفد الیکشن کمشنروں سے ملاقات کرنا اور پارلیمنٹ ہاؤس انیکسی میں ایک یادداشت پیش کرنا چاہتا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ طے شدہ طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے ملاقات کے لیے جس مقام اور طریقے کا انتخاب کیا گیا تھا، وہ ’’غیر معمولی‘‘ تھا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بعد میں اس نے اپنے سب سے سینئر انتظامی افسر کو وہاں بھیجنے پر غور کیا تاکہ وہ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ سے یادداشت وصول کر سکے، لیکن اپوزیشن نے یہ پیشکش مسترد کر دی۔