اوم پرکاش ماتھر 23 اکتوبر کو کیرلَم کے گورنر کا حلف لیں گے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
اوم پرکاش ماتھر 23 اکتوبر کو کیرلَم کے گورنر کا حلف لیں گے
اوم پرکاش ماتھر 23 اکتوبر کو کیرلَم کے گورنر کا حلف لیں گے

 



نئی دہلی: اوم پرکاش ماتھر 23 اکتوبر کو کیرالَم کے گورنر کے عہدے کا حلف لیں گے۔ حلف برداری کی تقریب دوپہر 12 بجے سے ساڑھے 12 بجے کے درمیان لوک بھون کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوگی۔ کیرالَم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سومین سین انہیں عہدے اور رازداری کا حلف دلائیں گے۔ اوم پرکاش ماتھر اس سے پہلے سکم کے گورنر رہ چکے ہیں۔ ان کا تعلق راجستھان کے پالی ضلع کے بالی علاقے کے بیدل گاؤں سے ہے۔ انہوں نے راجستھان یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے پرچارک کی حیثیت سے عوامی زندگی میں قدم رکھا۔

وہ گجرات کے انچارج کی حیثیت سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے جنرل سکریٹری بھی رہ چکے ہیں اور راجستھان سے راجیہ سبھا کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔ ماتھر کیرالَم کے 29ویں گورنر ہوں گے۔ وہ راجندر وشوناتھ آرلیکر کی جگہ لیں گے، جنہیں تمل ناڈو کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔ ایک ہفتہ قبل صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے چار ریاستوں میں نئے گورنروں کی تقرری کی تھی۔ راشٹرپتی بھون کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، سدھا یادو کو کرناٹک، ڈھل سنگھ بسین کو اتراکھنڈ، برج موہن رام کو اڈیشہ اور دشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔

کیرالَم کے موجودہ گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر کو تمل ناڈو کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کرناٹک کی گورنر مقرر کی گئی سدھا یادو ہریانہ کے مہندر گڑھ سے لوک سبھا کی سابق رکن اور بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ کی رکن ہیں۔ انہوں نے آئی آئی ٹی روڑکی سے کیمسٹری میں ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ 2019 سے 2022 تک قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔ ان کا تعلق ہریانہ کے یادو طبقے سے ہے اور وہ دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی رہنما سمجھی جاتی ہیں۔ سدھا یادو نے اپنے شوہر سکھبیر سنگھ یادو کی شہادت کے بعد انتخابی سیاست میں قدم رکھا تھا۔

ان کے شوہر سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف) میں ڈپٹی کمانڈنٹ تھے اور کارگل جنگ کے دوران شہید ہوئے تھے۔ اس کے بعد سدھا یادو نے مہندر گڑھ کی نمائندگی کرتے ہوئے لوک سبھا میں جگہ بنائی اور بی جے پی میں مختلف تنظیمی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ اتراکھنڈ کے گورنر مقرر کیے گئے ڈھل سنگھ بسین مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ سے لوک سبھا کے سابق رکن ہیں۔ وہ مدھیہ پردیش اسمبلی کے رکن اور ریاستی حکومت میں کابینی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس دوران انہوں نے اسکولی تعلیم، جنگلات، ٹرانسپورٹ اور کان کنی جیسے محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ مدھیہ پردیش کے چوتھے ریاستی مالیاتی کمیشن کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

پیشے کے اعتبار سے آیوروید کے معالج بسین کو ہندوستانی طریقہ ہائے علاج اور جدید طبی طریقوں کے ساتھ ان کے تعلق میں دلچسپی ہے۔ ان کا تعلق او بی سی کے بھویار پوار طبقے سے ہے۔ اڈیشہ کے گورنر مقرر کیے گئے برج موہن رام دلت رہنما ہیں اور دھوبی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ جھارکھنڈ سے سابق رکن پارلیمنٹ ہیں اور 1996، 1998 اور 1999 میں مسلسل تین مرتبہ پلامو حلقے سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ وہ متحدہ بہار کی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی عوامی اور تنظیمی سرگرمیوں میں شیڈولڈ کاسٹ مورچہ اور دھوبی مہاسنگھ سے وابستگی شامل رہی ہے۔ انہوں نے چندوا میں تعلیمی اداروں کے قیام کی کوششوں میں بھی حصہ لیا ہے۔

سکم کے گورنر مقرر کیے گئے دشینت گوتم بی جے پی کے سابق قومی جنرل سکریٹری اور پارٹی کے شیڈولڈ کاسٹ مورچہ کے سابق صدر ہیں۔ وہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے کونسلر اور راجیہ سبھا کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ان تقرریوں کے ذریعے چھ ریاستوں میں گورنروں کی تبدیلی اور تبادلوں کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔ سکم اور کیرالَم کے گورنروں کو بالترتیب کیرالَم اور تمل ناڈو منتقل کیا گیا ہے۔ نئے گورنروں کی تقرریاں ان تاریخوں سے نافذ ہوں گی جن دنوں وہ اپنے اپنے عہدوں کا چارج سنبھالیں گے۔