سمندری طوفان ارنب سے نمٹنے کے لیے اڈیشہ پوری طرح تیار

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 26-10-2026
سمندری طوفان ارنب سے نمٹنے کے لیے اڈیشہ پوری طرح تیار
سمندری طوفان ارنب سے نمٹنے کے لیے اڈیشہ پوری طرح تیار

 



بھونیشور: اڈیشہ حکومت نے آنے والے سمندری طوفان ارنب سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاری مکمل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق، اس سلسلے میں مختلف محکموں کے درمیان مسلسل میٹنگیں اور تبادلۂ خیال جاری ہے۔ ہندوستان کے محکمہ موسمیات کے افسران کے ساتھ بھی مشاورت کی جارہی ہے۔ امکان ہے کہ یہ طوفان 27 یا 28 اکتوبر کے آس پاس آندھرا پردیش اور اڈیشہ کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا۔ اڈیشہ پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (قانون و نظم) سنجے کمار نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طوفان کی متوقع شدت کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ سطحی میٹنگیں کی گئی ہیں، جن میں محکمہ موسمیات کے افسران کے ساتھ بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ایک شدید سمندری طوفان آنے والا ہے، لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ اڈیشہ پوری طرح تیار ہے۔ ریاستی اور ضلعی انتظامیہ، پولیس اور اڈیشہ ڈیزاسٹر ریپڈ ایکشن فورس (اوڈراف) مل کر صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

حکام کے مطابق، اوڈراف کی تقریباً 20 ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں اور انہوں نے زمینی سطح پر آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کا کام شروع کردیا ہے۔ طوفان سے نمٹنے کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت مجموعی طور پر 60 ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔ سنجے کمار نے کہا کہ ہر مرحلے میں 20 ٹیمیں کام کریں گی، اس طرح تین مرحلوں میں مجموعی طور پر 60 ٹیمیں تعینات ہوں گی۔ اس کے علاوہ اوڈراف کے سابق تربیت یافتہ اہلکاروں کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کے ساتھ بھی بہتر تال میل قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع سے لے کر بلاک کی سطح تک تیاریوں کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ ہندوستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق، خلیج بنگال کے وسطی اور اس سے متصل مغربی وسطی حصے میں موجود گہرے دباؤ نے شدت اختیار کرکے سمندری طوفان ’’ارنب‘‘ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اس طوفان کے پیش نظر آندھرا پردیش اور اڈیشہ کے جنوبی ساحلی علاقوں کے لیے طوفان کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ طوفان کے مغرب اور شمال مغرب کی سمت بڑھنے اور 26 اکتوبر کی نصف شب تک خلیج بنگال کے مغربی وسطی حصے میں شدید سمندری طوفان کی شکل اختیار کرنے کا قوی امکان ہے۔

اس کے بعد 27 اکتوبر کو اسی علاقے میں اس کے انتہائی شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ طوفان سے نمٹنے کی تیاریوں کے بارے میں کٹک کے مرکزی رینج کے انسپکٹر جنرل پولیس ستیہ جیت نائک نے اتوار کو بتایا تھا کہ اڈیشہ کے ان ساحلی اضلاع میں پولیس اور آفات سے نمٹنے والی ٹیمیں تعینات کردی گئی ہیں جہاں خطرہ زیادہ ہے۔ تمام ضلعی پولیس سربراہوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ احتیاطی اقدامات کریں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تال میل برقرار رکھیں۔

اڈیشہ حکومت نے آفات سے نمٹنے کے کام میں تعینات تمام اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں اور خطرے سے دوچار اضلاع میں امداد اور بچاؤ کی 225 ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ ستیہ جیت نائک نے بتایا کہ پوری، جگت سنگھ پور، کٹک اور کھوردھا اضلاع میں سے ہر ایک میں اوڈراف کی 4 ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع میں کنٹرول روم چوبیس گھنٹے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ان کنٹرول رومز سے رابطہ کریں۔