کولکاتا: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نَبین نے پیر کو مغربی بنگال میں نوجوانوں کی پالیسی اور کھیلوں پر زیادہ توجہ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی کھیل، فن، ادب اور ثقافت کی شاندار روایت نوجوانوں میں نئی امید پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کولکاتا میں اپنے دو روزہ مغربی بنگال دورے کے دوران ’یوا سمواد کنکلیو‘ سے خطاب کرتے ہوئے نتن نَبین نے کہا کہ ریاست خوف کے ماحول سے اعتماد کے ماحول کی طرف بڑھی ہے اور انہیں یقین ہے کہ مغربی بنگال ایک بار پھر اپنی کھیلوں کی شاندار روایت کو زندہ کرے گا۔
انہوں نے کہا، ’’آپ نے جو اعتماد کا ماحول قائم کیا ہے اور مغربی بنگال کو خوف کے ماحول سے باہر نکالا ہے، اسے دیکھتے ہوئے مجھے پورا یقین ہے کہ ریاست ایک بار پھر اپنی شاندار کھیلوں کی روایت کو برقرار رکھے گی۔ ساتھ ہی میں وزیر اعلیٰ سے اپیل کروں گا کہ وہ کھیلوں کے شعبے کے ساتھ ریاست کی نوجوانوں کی پالیسی پر بھی توجہ دیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی منفی سوچ کو ہم ہی ختم کر سکتے ہیں۔ آج کے نوجوانوں کو صرف ایک پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔‘‘ بی جے پی صدر نے کہا کہ بنگال کے نوجوان صرف روزگار تلاش کرنے والے نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’آخرکار وہ ملازمت تلاش کرنے والے نہیں بلکہ ملازمتیں پیدا کرنے والے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ملک میں اسٹارٹ اپ کا ماحول متعارف کرایا۔ آج اسی پہل کی بنیاد پر ملک بھر میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ اسٹارٹ اپ اور 125 سے زیادہ یونیکورن کام کر رہے ہیں۔‘‘ اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے نتن نَبین نے کہا کہ ریاست کے مستقبل کی تشکیل میں نوجوانوں کا اہم کردار ہے اور انہیں روایتی ملازمتوں سے آگے بڑھ کر مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیت دکھانے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ آج سوشل میڈیا پر وہی ’ریل‘ کامیاب ہوتی ہے جو حقیقت پر مبنی ہو۔ فرضی ریل زیادہ دیر نہیں چلتی۔ ان کے مطابق آج کی نوجوان نسل حقیقت پر مبنی چیزوں پر زیادہ اعتماد کرتی ہے اور بناوٹ کو پسند نہیں کرتی۔ نتن نَبین نے کہا کہ موجودہ دور میں کھیل اور ثقافت کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ پہلے بچے شام تین یا چار بجے ہوتے ہی کھیل کے میدانوں کا رخ کرتے تھے، لیکن اب موبائل فون نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا کھیل کے میدان میں گزارا جانے والا وقت اب موبائل فون پر صرف ہو رہا ہے اور اسی وجہ سے معاشرے کی ایک بڑی طاقت کمزور پڑ گئی ہے۔
انہوں نے مغربی بنگال کی کھیل، فن، ادب اور ثقافت سے گہری وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام عناصر ریاست کے لوگوں کی سماجی شناخت کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں مغربی بنگال ایک ایسی ریاست ہے جہاں یہ تمام خصوصیات ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔ اس سے قبل اے این آئی سے بات کرتے ہوئے نتن نَبین نے کہا کہ ریاست میں نوجوانوں کے درمیان انہیں نئی امید نظر آئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کو وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے عملی شکل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط اور عوام سے جڑی قیادت میں مغربی بنگال صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور خوف کے ماحول سے اعتماد کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
انہوں نے اپنے دو روزہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دیکھا کہ بی جے پی کے منشور میں کیے گئے وعدوں کو مختصر مدت میں عملی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے سویندو ادھیکاری اور ان کی ٹیم کو ’مودی کی گارنٹی‘ کو پورا کرنے کے لیے مبارک باد بھی دی۔ نتن نَبین نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ان کی بات چیت سے انہیں نئی امید محسوس ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال اپنی ثقافت، فن، ادب اور کھیلوں کے لیے مشہور ہے اور حکومت ریاست کے ماضی کے وقار کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے ’ترقی یافتہ مغربی بنگال‘ کے خواب کو عوام کے ساتھ مل کر پورا کرنے کی بات بھی کہی۔
دریں اثنا، نتن نَبین نے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے انتخابی فہرستوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن پر کی گئی تنقید کا بھی جواب دیا۔ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، پر اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ اس کا مقصد حکمراں بی جے پی کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اس پر نتن نَبین نے کہا، ’’میں اسے مایوسی اور ناامیدی کی علامت سمجھتا ہوں۔ یہی کانگریس کے لوگ کیرالہ یا تمل ناڈو میں الیکشن جیتنے پر الیکشن کمیشن کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے، اور کرناٹک میں کامیابی حاصل کرنے پر بھی کمیشن میں خامی نہیں نکالتے۔ لیکن جب وہ مغربی بنگال اور گجرات میں ہارتے ہیں تو الیکشن کمیشن کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار نہیں چلے گا۔ ٹی ایم سی کو عوام کے دیے ہوئے سبق سے سیکھنا چاہیے۔‘‘