مدھیہ پردیش میں چیتوں کا نیا مسکن تیار، دو چیتے ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو منتقل ہوں گے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
مدھیہ پردیش میں چیتوں کا نیا مسکن تیار، دو چیتے ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو منتقل ہوں گے
مدھیہ پردیش میں چیتوں کا نیا مسکن تیار، دو چیتے ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو منتقل ہوں گے

 



بھوپال: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو بدھ کے روز کونو نیشنل پارک سے لائے گئے دو چیتوں کو ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو میں چھوڑیں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ ریاست میں چیتوں کا تیسرا مسکن بن جائے گا۔ اس سے پہلے کونو نیشنل پارک اور گاندھی ساگر وائلڈ لائف سینکچری میں چیتے موجود ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق چیتوں کی حفاظت اور نئے ماحول سے ہم آہنگی کے لیے ریزرو کے تقریباً 439 ہیکٹر علاقے میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ان کے لیے محفوظ مسکن تیار کیا گیا ہے، جہاں جدید باڑے، جنہیں ’بوما‘ کہا جاتا ہے، اور دیگر ضروری سہولتیں موجود ہیں۔ محکمہ جنگلات نے چیتوں کی حفاظت، باقاعدہ نگرانی اور علاج معالجے کے لیے بھی انتظامات کیے ہیں۔ علاقے میں موجود دیگر جنگلی جانوروں کے لیے بھی محفوظ اور موزوں ماحول تیار کیا گیا ہے۔ ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو، جسے پہلے نوردیہی ٹائیگر ریزرو کے نام سے جانا جاتا تھا، مدھیہ پردیش کا سب سے بڑا ٹائیگر ریزرو ہے۔

یہ ساگر، دموہ اور نرسنگھ پور اضلاع میں تقریباً 2,339 مربع کلومیٹر کے علاقے میں پھیلا ہوا ہے۔ یہ ریزرو 1997 میں قائم کیا گیا تھا اور 20 ستمبر 2023 کو اسے ٹائیگر ریزرو کا درجہ دیا گیا۔ اس کے لیے نوردیہی وائلڈ لائف سینکچری کو ٹائیگر ریزرو میں شامل کیا گیا تھا۔ یہاں شیر، تیندوے، چیتل، سانبھر، نیل گائے اور ریچھ سمیت کئی طرح کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقہ خطرے سے دوچار ہندوستانی گدھ کی مختلف اقسام کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔

چیتوں کی آمد سے ساگر اور وسیع تر بندیل کھنڈ خطے میں جنگلی حیات کی سیاحت کو فروغ ملنے کی امید ہے۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے ساتھ مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ چیتوں کو دیکھنے کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے سیاح آنے کی توقع ہے، جس سے ہوٹلوں، ریزورٹس، ہوم اسٹے، ٹرانسپورٹ، سیاحتی رہنماؤں، گاڑی چلانے والوں، چھوٹے کاروبار اور دستکاری سے وابستہ لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ 5 اکتوبر 2026 کو کونو نیشنل پارک میں ہندوستان میں پیدا ہونے والی مادہ چیتا کے جے پی 21 نے پانچ بچوں کو جنم دیا، جس کے بعد ملک میں چیتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 60 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 41 چیتے ہندوستان میں پیدا ہوئے ہیں۔

کونو نیشنل پارک سے نر چیتا تھولو اور مادہ چیتا سی سی بی-3 کو ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو لایا جائے گا۔ ان دونوں کی منتقلی کے بعد کونو میں 54 چیتے رہ جائیں گے۔ دوسری جانب گاندھی ساگر وائلڈ لائف سینکچری میں جنوبی افریقہ سے لائے گئے نر چیتے پربھاس اور پاوک، مادہ چیتا دھیرا اور بوٹسوانا سے لائی گئی مادہ چیتا رادھا موجود ہیں۔ رادھا کو ستمبر 2026 میں یہاں چھوڑا گیا تھا۔ ویرانگنا درگاوتی ٹائیگر ریزرو میں دو چیتوں کی آمد کے ساتھ مدھیہ پردیش میں چیتوں کی دوبارہ آبادکاری کا پروگرام ایک نئے مرحلے میں داخل ہوجائے گا۔ اس طرح چیتوں کا مسکن کونو اور گاندھی ساگر سے آگے بڑھاتے ہوئے ریاست کے ایک اور بڑے جنگلاتی علاقے تک پھیل جائے گا۔