ممبئی طیارہ حادثہ: غیر مستحکم لینڈنگ اور پائلٹ کی غلطیاں اہم وجہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 17-10-2026
ممبئی طیارہ حادثہ: غیر مستحکم لینڈنگ اور پائلٹ کی غلطیاں اہم وجہ
ممبئی طیارہ حادثہ: غیر مستحکم لینڈنگ اور پائلٹ کی غلطیاں اہم وجہ

 



ممبئی:، ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) نے ستمبر 2023 میں ممبئی ہوائی اڈے پر وی ایس آر وینچرز کے لئیر جیٹ 45 ایکس آر طیارے کے حادثے کی ممکنہ وجہ طیارے کے عملے کی جانب سے خراب موسمی حالات میں غیر مستحکم لینڈنگ کی کوشش جاری رکھنا اور طیارے کو غلط طریقے سے سنبھالنا قرار دیا ہے۔ اے اے آئی بی کی جانب سے ہفتے کو جاری کردہ حتمی رپورٹ کے مطابق، پائلٹوں کی ان غلطیوں کے نتیجے میں کم بلندی پر طیارے کے پروں سے پیدا ہونے والی قوتِ پرواز ختم ہو گئی، جس کے باعث 14 ستمبر 2023 کو حادثہ پیش آیا۔ یہ طیارہ وشاکھاپٹنم سے ممبئی جانے والی ایک غیر مقررہ مسافر چارٹر پرواز پر تھا۔

اس میں کل آٹھ افراد سوار تھے، جن میں کمانڈر پائلٹ، معاون پائلٹ، ایک فضائی میزبان اور پانچ مسافر شامل تھے۔ کمانڈر پائلٹ کے پاس ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس (اے ٹی پی ایل)، جبکہ معاون پائلٹ کے پاس کمرشل پائلٹ لائسنس (سی پی ایل) تھا۔ تحقیقاتی بیورو نے حادثے میں کئی دیگر اہم عوامل کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ان میں پائلٹوں کی جانب سے طیارے کی رفتار پر نظر نہ رکھنا، دوبارہ چکر لگا کر اترنے یعنی گو اراؤنڈ کا فیصلہ کرنے میں تاخیر، تیز پچھلی ہواؤں اور حدِ نگاہ کم ہونے جیسے خراب موسمی حالات اور ممبئی ہوائی اڈے کے مقررہ محدود عملی اوقات شروع ہونے سے پہلے ہر حال میں لینڈنگ مکمل کرنے کی کوشش شامل ہیں۔

تحقیقات 2017 کے طیارہ حادثات اور واقعات کی تحقیقات سے متعلق ضابطوں کے تحت کی گئیں۔ اس عمل میں امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) اور طیارہ بنانے والی کمپنی کے تکنیکی مشیروں نے بھی تعاون کیا۔ تحقیقات میں بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (آئی سی اے او) کے ضمیمہ 13 میں طے کردہ معیارات کی پابندی کی گئی۔ حفاظتی سفارشات میں اے اے آئی بی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) سے پائلٹوں کی مسلسل تربیت کے تقاضوں کا جائزہ لینے کو کہا ہے۔ خاص طور پر لینڈنگ کے دوران طیارے کے پروں سے قوتِ پرواز ختم ہونے کی صورت میں اسے دوبارہ قابو میں لانے کی تربیت پر زور دیا گیا ہے۔

بیورو نے غیر مقررہ پروازیں چلانے والی کمپنیوں اور عمومی ہوابازی کے اداروں میں کام کرنے والے فکسڈ ونگ طیاروں کے پائلٹوں کے تربیتی ریکارڈ کا ایک مرتبہ خصوصی آڈٹ کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیر مستحکم لینڈنگ کی صورت میں گو اراؤنڈ کے طریقۂ کار پر سختی سے عمل کرایا جائے، عملے کے ارکان کے درمیان رابطے اور باہمی تعاون کی تربیت بہتر بنائی جائے، اندرونی جانچ کے نظام کو مضبوط کیا جائے اور طیارہ آپریٹرز کی ہدایات اور کتابچوں کی پابندی کی تصدیق کی جائے۔ اس کے علاوہ وی ایس آر وینچرز کو چیک لسٹ پر زیادہ سختی سے عمل کرنے اور طیاروں کے لاگ بُک درست طور پر برقرار رکھنے کی ہدایت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) کے ایئر ٹریفک کنٹرولروں کو بھی طیاروں کے پیچھے پیدا ہونے والی ہوا کے بھنور سے محفوظ فاصلے کے ضابطوں پر عمل کرنے کی ہدایت دینے کو کہا گیا ہے۔ 14 ستمبر 2023 کو وشاکھاپٹنم سے ممبئی آنے والا وی ایس آر وینچرز کا لئیر جیٹ 45 ایکس آر طیارہ شدید بارش اور حدِ نگاہ کم ہونے کے دوران لینڈنگ کی کوشش کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔

اترنے کے دوران طیارہ غیر مستحکم ہو گیا اور مقررہ راستے سے ہٹ گیا۔ اس دوران کاک پٹ میں طیارے کے پروں سے قوتِ پرواز ختم ہونے اور زمین کے قریب پہنچنے سے متعلق انتباہی الارم بجنے لگے۔ اس کے بعد طیارہ رن وے سے باہر جا گرا اور اس میں آگ لگ گئی۔ طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد کو زخمی حالت میں باہر نکال کر اسپتال پہنچایا گیا۔ ہنگامی امدادی ٹیموں نے آگ پر قابو پایا۔ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے ہندوستانی ہوابازی حکام نے امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے تعاون سے تحقیقات شروع کی تھیں، جن کی تفصیلات اب حتمی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔