اجین: آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے جمعہ کو کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے کہ آج کی نسل کے نوجوان ایسے وقت میں ’دھرم‘ پر گفتگو کر رہے ہیں جب کچھ لوگ اسے صرف بزرگوں کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے اجین میں منعقدہ یوا دھرم سنسد سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے تقریباً 1700 نوجوان طلبہ اور ’جن زیڈ‘ کے شرکا سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’دھرم‘ ہماری رگوں اور ہمارے عمل کا حصہ ہے اور ہمارے کاموں کی رہنمائی کرتا ہے۔
انہوں نے دھرم کو مذہب سے بالاتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہب انسان کو ایک دائرے میں باندھتا ہے، جبکہ دھرم انسان کو آزادی دیتا ہے اور موکش یعنی نجات کی طرف لے جاتا ہے۔ آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں سے اپنے تعصبات چھوڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص حقیقی طور پر دھرم کو سمجھنا چاہتا ہے، اسے پہلے سے قائم تصورات کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ادھرم‘ یعنی ناانصافی اور غلط طرز عمل جنگلات کی کٹائی کا سبب بنتا ہے اور انسانی وجود کے لیے خطرہ پیدا کرتا ہے۔ منتظمین کے مطابق یوا دھرم سنسد میں تقریباً 300 اسکالرز، اساتذہ، محققین اور مذہبی رہنما بھی شرکت کریں گے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو 19 ستمبر کو ہونے والے اختتامی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ منتظمین کے مطابق یہ یوا دھرم سنسد کا چھٹا ایڈیشن ہے۔ اس سے قبل کاشی، ایودھیا، متھرا، ہریدوار اور کانچی پورم میں اس کا انعقاد ہو چکا ہے۔ اگلے سال یہ پروگرام دوارکا میں منعقد کیا جائے گا۔