مودی کا دعویٰ: ہندوستان کی ترقی دنیا کے ساتھ، کسی کی قیمت پر نہیں

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 13-10-2026
مودی کا دعویٰ: ہندوستان کی ترقی دنیا کے ساتھ، کسی کی قیمت پر نہیں
مودی کا دعویٰ: ہندوستان کی ترقی دنیا کے ساتھ، کسی کی قیمت پر نہیں

 



نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ ہندوستان کی معاشی ترقی مضبوط بنیادوں اور مسلسل اصلاحات کی بدولت آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان عالمی معیشت میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے، لیکن اس کی ترقی دوسرے ممالک کی قیمت پر نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کے اصول پر مبنی ہے۔ بلومبرگ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا، ’’ہم کسی دوسرے کی قیمت پر ترقی نہیں کرتے۔ ہم دنیا کے ساتھ ترقی کرتے ہیں اور دنیا کے لیے بھی ترقی کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب دنیا جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تجارتی رکاوٹوں اور اہم ٹیکنالوجی و وسائل پر بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نے اپریل سے جون کی سہ ماہی میں ہندوستان کی 7.8 فیصد معاشی ترقی، 700 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کے زرمبادلہ کے ذخائر اور ٹیکس نظام، دیوالیہ پن سے متعلق قوانین اور محنت کشوں کے قوانین میں اصلاحات کو ملکی معیشت کی مضبوطی کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’غیر یقینی صورت حال سے بھری اس دنیا میں ہندوستان اعتماد اور استحکام کی علامت بن کر ابھر رہا ہے۔‘‘

مودی نے کہا کہ رواں سال اپریل سے جون کی سہ ماہی میں ہندوستان کی معاشی ترقی کی شرح 7.8 فیصد رہی اور اس ترقی کی بنیاد مضبوط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کا جاری کھاتے کا خسارہ، جو 12 سے 13 سال پہلے مجموعی گھریلو پیداوار کے 4 فیصد سے زیادہ تھا، اب کم ہو کر تقریباً نصف فیصد رہ گیا ہے۔ جاری کھاتے کا خسارہ کسی ملک کی بیرونی آمدنی اور ادائیگیوں کے درمیان عدم توازن کی ایک اہم علامت ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کسی ملک کی معاشی اور تکنیکی طاقت کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جانا چاہیے کہ اس کے پاس کتنی طاقت ہے، بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ وہ طاقت دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں کس طرح استعمال ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’اصل سوال یہ نہیں ہے کہ طاقت کس کے پاس ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس طاقت کو استعمال کیسے کیا جا رہا ہے؟‘‘ مودی نے اپنے نظریے کو ان الفاظ میں بیان کیا کہ طاقت کا مقصد دوسروں کو بااختیار بنانا ہونا چاہیے۔ مودی نے ہندوستان کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے، تیزی سے پھیلتے ہوئے اسٹارٹ اپ نظام اور صاف توانائی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ایسی مثالیں قرار دیا جن کے ذریعے ملک کی ترقی کے فوائد معاشرے کے تمام طبقوں تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ڈیجیٹل شناخت، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور عوامی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں اپنے تجربات دوسرے شراکت دار ممالک کے ساتھ بانٹ رہا ہے، خصوصاً ترقی پذیر ممالک اور عالمی جنوب کے ملکوں کے ساتھ۔ وزیر اعظم نے اصلاحات کے حوالے سے کہا، ’’ہمارے لیے اصلاحات کوئی مجبوری نہیں ہیں، بلکہ ہمارا پختہ یقین ہیں۔‘

‘ انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر سپلائی چین، توانائی، اہم معدنیات، ادائیگیوں کے نظام اور ٹیکنالوجی کو تیزی سے سیاسی دباؤ ڈالنے کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں قابل اعتماد شراکت داروں اور مضبوط معاشی نظام کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ مودی نے کہا، ’’یہ تمام چیزیں دباؤ ڈالنے اور دوسروں کو مجبور کرنے کے ہتھیار بنتی جا رہی ہیں۔‘‘ وزیر اعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، عالمی سپلائی چین میں اپنا کردار بڑھانے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مودی نے ہندوستان کی ترقی کو محض ملکی معیشت کی کامیابی قرار دینے کے بجائے اسے دوسرے ممالک کے لیے ٹیکنالوجی، ہنرمند افراد اور مسائل کے حل کا ذریعہ بھی بتایا۔

ان کے مطابق، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور اہم ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے عالمی مقابلے کے درمیان ہندوستان کی ترقی جامع معاشی ترقی کی ایک مثال پیش کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام، ڈیجیٹل شناخت اور عوامی بنیادی ڈھانچے سے متعلق تجربات دوسرے ممالک کے ساتھ بانٹ کر بین الاقوامی شراکت داری کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر عالمی جنوب کے ممالک کے ساتھ۔ وزیر اعظم نے ملک میں اسٹارٹ اپ اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں اضافے کا بھی ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی اور اختراع کے فوائد آمدنی اور جغرافیائی حدود سے قطع نظر تمام لوگوں تک پہنچنے چاہئیں۔ مودی نے کووڈ-19 وبا کے دوران 100 سے زیادہ ممالک کو ہندوستان کی جانب سے ویکسین فراہم کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی مثال ہے کہ ملکی صلاحیتوں کو عالمی ضروریات پوری کرنے کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان عالمی معیشت میں ترقی کے ایک بڑے محرک اور متبادل صنعتی و تکنیکی مرکز کے طور پر اپنی جگہ مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق، ہندوستان کی معاشی ترقی کا مقصد صرف اپنی خوش حالی میں اضافہ کرنا نہیں، بلکہ دوسرے ممالک کے لیے بھی ترقی اور تعاون کے نئے راستے کھولنا ہے۔