کھمم: تلنگانہ کے کھمم ضلع کے ستھوپلی منڈل میں بیتھوپلی جھیل میں بچاؤ کارروائی کے دوران لاپتہ ہونے والے 8 ماہی گیروں اور ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کے اہلکاروں کو نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیموں نے جمعرات کی صبح بحفاظت بچا لیا۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔ کھمم پولیس کے مطابق این ڈی آر ایف کی ٹیموں نے ان 8 ماہی گیروں اور ایس ڈی آر ایف کے اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا جو گزشتہ روز جھیل میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ انہیں جمعرات کی صبح تقریباً 5:30 بجے بحفاظت نکال لیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ بچاؤ کارروائی مکمل ہوچکی ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا، جب بیتھوپلی جھیل میں سیلابی پانی کے باعث کچھ ماہی گیر پھنس گئے تھے۔ اس کے بعد ایس ڈی آر ایف کی ایک ٹیم نے انہیں بچانے کے لیے کارروائی شروع کی۔ تاہم، ماہی گیروں اور ایس ڈی آر ایف اہلکاروں کو لے جانے والی کشتیاں کارروائی کے دوران لاپتہ ہوگئیں۔ صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے ایس ڈی آر ایف کی کشتیوں کے لاپتہ ہونے کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور ضلع کلکٹر کو ہدایت دی کہ تلاش اور بچاؤ کی کوششیں تیز کی جائیں اور اہلکاروں کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
وزیر اعلیٰ نے چیف سیکریٹری کو بھی ہدایت دی کہ وہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کریں اور وقتاً فوقتاً اس کا جائزہ لیتے رہیں۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) نے یہ اطلاع دی۔ ادھر مرکزی وزیر بندی سنجے کمار نے بھی لاپتہ ایس ڈی آر ایف کی کشتیوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور کھمم کے ضلع کلکٹر دیواکر سے فون پر بات کی۔ انہوں نے بچاؤ ٹیموں کی تعیناتی کے لیے این ڈی آر ایف کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا۔
سنجے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’تلنگانہ کے کھمم ضلع کے ستھوپلی میں بیتھوپلی جھیل کے سیلابی پانی میں پھنسے ماہی گیروں کو بچانے کی کارروائی کے دوران ایس ڈی آر ایف کے اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی خبر سے مجھے گہری تشویش ہوئی۔ میں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کلکٹر کھمم شری دیواکر جی سے بات کی اور بچاؤ ٹیموں کی تعیناتی کے لیے فوری طور پر این ڈی آر ایف کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ این ڈی آر ایف کے اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے اور وہ جنگی بنیادوں پر بچاؤ کارروائی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے اور اس کارروائی میں شامل تمام افراد کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم ہے۔