سری نگر: کشمیر کے میر واعظ عمر فاروق نے بدھ کو جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے قابل اعتراض مواد کے الزام میں 4,700 سے زیادہ کتابیں واپس لینے کے فیصلے کو ’’تشویش ناک اور افسوس ناک‘‘ قرار دیا ہے۔ جموں و کشمیر حکومت نے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے کالجوں سے 4,700 سے زیادہ کتابیں واپس لی ہیں، جن میں 518 ممنوعہ کتابیں بھی شامل ہیں۔ یہ کارروائی تقریباً 22 لاکھ کتابوں اور دیگر مطبوعات کی جانچ کے بعد کی گئی ہے۔
عوامی اتحاد پارٹی کے لانگیٹ سے رکن اسمبلی خورشید احمد شیخ کے اسمبلی میں پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں حکومت نے بتایا کہ اب تک 21,81,582 کتابوں اور مطبوعات کی جانچ کی جاچکی ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے سوال اٹھایا کہ آخر ان کتابوں میں ایسا کیا مواد تھا جس کی وجہ سے انہیں قابل اعتراض قرار دیا گیا؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واپس لی گئی کتابوں کے نام اور انہیں ہٹانے کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
میر واعظ نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا، ’’حکومت کی جانب سے اسمبلی میں یہ انکشاف کہ اعلیٰ تعلیم کے محکمے نے جموں و کشمیر کے کالجوں اور لائبریریوں سے 4,249 ’قابل اعتراض‘ کتابیں واپس لی ہیں، جن میں تقریباً 4,000 صرف کشمیر سے ہیں، تشویش ناک اور افسوس ناک ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیمی آزادی اور مختلف نقطۂ نظر تک رسائی تعلیم اور معاشرے کی فکری ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔‘‘
میر واعظ نے کہا کہ طلبہ کیا پڑھ سکتے ہیں اور کیا نہیں، اس کو نظریاتی بنیادوں پر محدود کرنے کی کوششیں تعلیم اور تنقیدی سوچ کے دائرے کو محدود کر دیتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا، ’’ان کتابوں کو واپس لے کر حکومت آخر کس ایجنڈے پر عمل کر رہی ہے؟ اپنا یا کسی اور کا؟ عوام کو اس بارے میں وضاحت ملنی چاہیے۔