نئی دہلی: بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (بی سی جی) کی ایک رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے سات ماہ میں ہندوستان میں انضمام اور حصولِ کمپنیوں (ایم اینڈ اے) کے سودوں کی تعداد میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد کمی آئی ہے، تاہم مجموعی سودوں کی مالیت مستحکم رہی، کیونکہ کمپنیوں نے بڑی مالیت کے سودوں پر زیادہ توجہ دی۔ بی سی جی نے اپنی رپورٹ ’’انڈیا ایم اینڈ اے 2026: کم سودے، بڑے فیصلے‘‘ میں کہا کہ ہندوستان میں سودوں کی تعداد میں کمی عالمی سطح پر ریکارڈ کی گئی تقریباً 18 فیصد کمی سے بھی کچھ زیادہ رہی۔
بی سی جی کے اے پی اے سی کارپوریٹ فنانس اینڈ اسٹریٹیجی کے سربراہ، منیجنگ ڈائریکٹر اور سینئر پارٹنر کنچن سمنتانی نے کہا، ’’سودوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، جبکہ مارکیٹ ان کمپنیوں کو اہمیت دے رہی ہے جو اب بھی اعتماد کے ساتھ سودے کر رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیوں کے بورڈ رومز کو انضمام و حصول کی سرگرمیوں کو جاری رکھنا چاہیے اور یہ دوبارہ غور کرنا چاہیے کہ مارکیٹ میں کب اور کس طرح داخل ہونا ہے، بجائے اس کے کہ مارکیٹ کے رجحان بہتر ہونے تک انتظار کیا جائے۔‘‘
مجموعی کمی کے باوجود بڑے سودے نسبتاً مضبوط رہے۔ 2026 کے پہلے سات ماہ میں 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کے 45 سودے ہوئے، جبکہ 2025 میں ایسے سودوں کی تعداد 51 اور 2024 میں 37 تھی۔ 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کے سودوں کا حصہ مجموعی سودوں کی مالیت کا تقریباً 59 فیصد رہا۔ ایک ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے سودوں کا مجموعی سودوں کی مالیت میں حصہ 2025 کے مقابلے میں تقریباً 14 سے 15 فیصد پوائنٹس زیادہ رہا، ان سودوں میں جہاں مالیت ظاہر کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق سودوں میں کمی بنیادی طور پر چھوٹی مالیت کے لین دین میں ہوئی۔ 10 لاکھ ڈالر سے کم مالیت کے سودوں نے مجموعی سودوں کی تعداد میں ہونے والی کمی کا تقریباً نصف حصہ تشکیل دیا۔
بیرون ملک حصولِ کمپنیوں کا رجحان بھی نمایاں طور پر سامنے آیا ہے۔ ہندوستانی کمپنیاں بیرون ملک اثاثے اور کاروبار خریدنے پر پہلے سے زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔ بیرون ملک کیے گئے سودوں کی مجموعی مالیت میں تقریباً 3.8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ ملک کے اندر ہونے والے سودوں کی مالیت میں 1.6 ارب ڈالر اور بیرون ملک کمپنیوں کی جانب سے ہندوستان میں کیے گئے سودوں کی مالیت میں 3.7 ارب ڈالر کی کمی آئی۔
بی سی جی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور پارٹنر دھرو شاہ نے کہا، ’’ہندوستانی کمپنیوں کی بیرون ملک حصول کا رجحان اب صرف بڑے کاروباری گروپوں تک محدود نہیں رہا۔ ہم درمیانے درجے کی کمپنیوں کو بھی بیرون ملک صلاحیتیں اور مارکیٹ تک رسائی حاصل کرتے دیکھ رہے ہیں، جو اعتماد کے لحاظ سے ایک مثبت علامت ہے۔‘‘ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انضمام و حصول کے اعلانات پر اسٹاک مارکیٹ کا ردعمل زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ 2026 میں ایسے سودوں سے حصص یافتگان کو 30 دن کی مدت میں اوسطاً 3.7 فیصد اضافی منافع ملا، جبکہ یہ شرح 2024 میں منفی 0.4 فیصد اور 2025 میں منفی 2.7 فیصد تھی۔