ایم سی ڈی پرائمری ٹیچر بھرتی میں عمر کی چھوٹ کی درخواست مسترد

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 01-10-2026
ایم سی ڈی پرائمری ٹیچر بھرتی میں عمر کی چھوٹ کی درخواست مسترد
ایم سی ڈی پرائمری ٹیچر بھرتی میں عمر کی چھوٹ کی درخواست مسترد

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) میں پرائمری ٹیچر کی تقرری کے لیے عمر میں 10 سال کی چھوٹ مانگنے والی ایک خاتون کی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے کہا کہ دہلی حکومت کے اسکولوں کے لیے جاری عمر میں چھوٹ کا نوٹیفکیشن ایم سی ڈی کی بھرتی پر خود بخود لاگو نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایم سی ڈی میں تقرری الگ بھرتی قوانین کے تحت ہوتی ہے۔ جسٹس انیل کھیترپال اور جسٹس بھارت پراشار پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یکم اکتوبر کو اپنے فیصلے میں مرکزی انتظامی ٹریبونل کے اس حکم کو برقرار رکھا، جس میں درخواست گزار کی عمر میں چھوٹ اور اس کے نتیجے میں تقرری کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

درخواست گزار پونم پٹوال نے ٹریبونل کے 18 دسمبر 2025 کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ وہ ایم سی ڈی میں ٹیچر (پرائمری)، پوسٹ کوڈ 01/18 کے عہدے پر تقرری کے لیے عمر میں چھوٹ چاہتی تھیں۔ پونم پٹوال 27 اپریل 1982 کو پیدا ہوئی تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ 2012 سے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں گیسٹ ٹیچر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

ان کی درخواست کی بنیاد یکم نومبر 1980 کو ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی جانب سے جاری کیے گئے ایک نوٹیفکیشن پر تھی۔ یہ نوٹیفکیشن دہلی اسکول ایجوکیشن رولز، 1973 کے رول 43 کے تحت جاری کیا گیا تھا، جس میں خواتین امیدواروں کے لیے مختلف تدریسی عہدوں پر تقرری کی مقررہ زیادہ سے زیادہ عمر میں عمومی طور پر 10 سال کی چھوٹ دی گئی تھی۔ دوسری طرف، ایم سی ڈی میں پرائمری ٹیچروں کی بھرتی کے لیے نافذ قوانین میں براہ راست تقرری کی زیادہ سے زیادہ عمر 30 سال مقرر تھی۔ دہلی سب آرڈینیٹ سروسز سلیکشن بورڈ (ڈی ایس ایس ایس بی) نے 26 جون 2018 کو اشتہار نمبر 01/18 جاری کیا تھا، جس کے تحت 4366 آسامیوں پر بھرتی ہونی تھی۔

اس اشتہار میں بھی زیادہ سے زیادہ عمر 30 سال مقرر کی گئی تھی اور مختلف زمروں کے امیدواروں کو دستیاب عمر میں چھوٹ کی تفصیلات دی گئی تھیں۔ پونم پٹوال نے اس سے قبل ٹریبونل سے رجوع کیا تھا، جہاں انہیں عبوری حکم کے ذریعے انتخابی عمل میں شامل ہونے کی اجازت مل گئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے اکتوبر 2018 میں تحریری امتحان دیا اور 123.01 نمبر حاصل کیے، جبکہ غیر محفوظ زمرے کی کٹ آف 117.52 نمبر تھی۔ انہیں ای ڈوزیئر اپ لوڈ کرنے کے لیے بھی شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 1980 کا نوٹیفکیشن 6 مارچ 2020 کو واپس لیا گیا، لیکن 2018 میں جب بھرتی کا اشتہار جاری ہوا، اس وقت یہ نوٹیفکیشن نافذ تھا۔ اس لیے بعد میں نوٹیفکیشن واپس لیے جانے کی وجہ سے انہیں ماضی میں حاصل ہونے والی عمر کی چھوٹ سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ ان کے نمبر غیر محفوظ زمرے میں آخری منتخب امیدوار سے زیادہ تھے۔

ہائی کورٹ نے تاہم کہا کہ اصل سوال صرف یہ نہیں ہے کہ 1980 کا نوٹیفکیشن 2020 میں واپس لیا گیا تھا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ نوٹیفکیشن ایم سی ڈی کے ایسے عہدے پر بھرتی کے لیے بھی لاگو ہوتا تھا، جس کی بھرتی الگ قوانین کے تحت ہوتی ہے اور جس میں زیادہ سے زیادہ عمر 30 سال مقرر کی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایم سی ڈی ایک خود مختار مقامی ادارہ ہے اور اس کا انتظام اپنے قانونی نظام اور سروس شرائط کے تحت ہوتا ہے۔ درخواست گزار یہ ثابت نہیں کر سکیں کہ 1980 کے نوٹیفکیشن کو کبھی ایم سی ڈی نے اختیار کیا تھا یا اسے پرائمری ٹیچر کے عہدے سے متعلق بھرتی قوانین میں شامل کیا گیا تھا۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ اشتہار نمبر 01/18 میں ایسی کوئی شق موجود نہیں تھی جس کے ذریعے 1980 کے نوٹیفکیشن میں دی گئی 10 سال کی عمر میں چھوٹ کو ایم سی ڈی کے عہدوں کے امیدواروں پر لاگو کیا گیا ہو۔

عدالت کے مطابق درخواست گزار دراصل ایک دوسرے قانونی نظام میں دی گئی عمر کی چھوٹ کو ایم سی ڈی کی بھرتی کے عمل میں شامل کرنا چاہتی تھیں۔ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے، دہلی سب آرڈینیٹ سروسز سلیکشن بورڈ بنام سیما کپور، کا بھی حوالہ دیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی مخصوص طبقے یا بھرتی کے لیے دی گئی عمر میں چھوٹ کو اس شق کے واضح الفاظ سے آگے بڑھا کر دوسرے امیدواروں یا بھرتیوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ محض کسی ادارے کے ساتھ انتظامی تعلق یا اس کے مقامی یا خود مختار ادارہ ہونے کی بنیاد پر عمر میں چھوٹ کا دائرہ نہیں بڑھایا جا سکتا۔

عدالت نے یہ دلیل بھی مسترد کر دی کہ درخواست گزار نے امتحان میں حصہ لیا اور 123.01 نمبر حاصل کیے، اس لیے انہیں تقرری کا حق حاصل ہو گیا۔ بنچ نے کہا کہ عبوری حکم کی بنیاد پر امتحان میں حصہ لینے سے تقرری کا کوئی بنیادی حق پیدا نہیں ہوتا۔ میرٹ کا فائدہ صرف ان امیدواروں کو مل سکتا ہے جو مقررہ اہلیت کی شرائط پوری کرتے ہوں۔ ہائی کورٹ نے درخواست گزار کی جانب سے پیش کیے گئے دہلی ہائی کورٹ کے دیگر فیصلوں، جن میں ستیش کمار مینا اور نیتو کماری کے مقدمات شامل تھے، کو بھی موجودہ معاملے سے الگ قرار دیا۔

عدالت نے کہا کہ ان مقدمات میں بھرتی کے اشتہارات میں واضح طور پر دہلی حکومت اور اس کے مقامی و خود مختار اداروں کے ملازمین کو عمر میں چھوٹ دی گئی تھی، جبکہ موجودہ ایم سی ڈی بھرتی کے اشتہار میں ایسی کوئی شق موجود نہیں تھی۔ عدالت نے یہ دلیل بھی مسترد کر دی کہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں گیسٹ ٹیچر کے طور پر پونم پٹوال کی ملازمت اور ایم سی ڈی کے پرائمری ٹیچر کے عہدے کا ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے ٹی جی ٹی عہدے سے مبینہ تعلق، دونوں سروسز کو عمر میں چھوٹ کے مقصد سے برابر قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ پرائمری ٹیچروں کی خالی آسامیوں یا اساتذہ کی مبینہ کمی کی بنیاد پر کسی ایسے امیدوار کو تقرری کی اہلیت نہیں دی جا سکتی جو مقررہ بھرتی قوانین کے تحت اہل نہ ہو۔ عدالت نے کہا، ’’چنانچہ 18 دسمبر 2025 کے متنازعہ حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست ناکام ہوتی ہے۔‘‘ بنچ نے قرار دیا کہ ٹریبونل نے 1980 کے نوٹیفکیشن میں دی گئی عمر کی چھوٹ کو ایم سی ڈی کی بھرتی پر لاگو نہ کرنے کا درست فیصلہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے درخواست اور زیر التوا تمام درخواستوں کو خارج کر دیا۔