منی پور:23 ملکوں کا سفر مکمل کرکے 2 امُور باز واپس پہنچ گئے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-10-2026
منی پور:23 ملکوں کا سفر مکمل کرکے 2 امُور باز واپس پہنچ گئے
منی پور:23 ملکوں کا سفر مکمل کرکے 2 امُور باز واپس پہنچ گئے

 



نئی دہلی: مرکزی وزیر بھوپیندر یادو نے جمعہ کو بتایا کہ 2 مہاجر پرندے امُور باز، اپاپانگ اور الانگ، 23 ملکوں کا سفر مکمل کرکے منی پور واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس طرح ان کے تقریباً ایک سال پر محیط سفر کی نگرانی کا عمل بھی مکمل ہوگیا ہے۔ یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ دونوں پرندے جمعرات کو منی پور پہنچے۔

انہوں نے شمال مشرقی چین میں اپنے افزائش نسل کے علاقوں سے 11 دن پہلے سفر شروع کیا تھا۔ نومبر 2025 میں وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (ڈبلیو آئی آئی) کے سائنس دانوں نے ان پرندوں پر نگرانی کے لیے خصوصی آلات نصب کیے تھے۔ ان پرندوں کی ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقوں میں نقل مکانی کا ذکر کرتے ہوئے بھوپیندر یادو نے انہیں عالمی شہری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس دانوں کی جانب سے آلات نصب کیے جانے کے بعد منی پور واپسی ان کے طویل سفر کی تکمیل ہے۔ دونوں پرندوں نے اس دوران 23 ملکوں کا سفر کیا۔

یادو نے کہا، ’’23 ملکوں سے گزرتے ہوئے ہندوستان کا سفر! شمال مشرقی چین میں اپنے افزائش نسل کے علاقوں سے 11 دن پہلے روانہ ہونے والے دونوں امُور باز، اپاپانگ اور الانگ، کل منی پور پہنچ گئے۔ یہ ان کی تقریباً ایک سال طویل نقل و حرکت کی نگرانی اور نومبر 2025 میں ڈبلیو آئی آئی کے سائنس دانوں کی جانب سے آلات نصب کیے جانے کے بعد منی پور واپسی کے سفر کی کامیاب تکمیل ہے۔ افریقہ اور ایشیا میں اپنے سفر کے دوران 23 ملکوں سے گزرنے والے یہ پرندے واقعی عالمی شہری ہیں۔‘

‘ مرکزی وزیر نے مزید بتایا کہ دونوں پرندے منی پور کے تمینگ لونگ ضلع کے پہاڑی علاقوں میں منتخب مقامات پر 2 سے 3 ہفتے قیام کرسکتے ہیں۔ وہاں کے مقامی باشندے ہر سال ان کی واپسی کا انتظار کرتے ہیں اور ان کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ یادو نے کہا، ’’امید ہے کہ دونوں امُور باز اب منی پور کے تمینگ لونگ ضلع کے خوب صورت پہاڑی علاقوں میں منتخب مقامات پر 2 سے 3 ہفتے قیام کریں گے۔ وہاں کے مقامی لوگ ہر سال ان کی واپسی کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں۔‘‘

پرندوں کی نقل مکانی کے اگلے مرحلے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ قیام کے دوران یہ پرندے اپنے آس پاس نکلنے والی دیمک کھائیں گے، جس سے ان کے جسم میں چربی کے ذخائر بڑھیں گے۔ یہ ذخائر ان کے اگلے طویل سفر کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ’’قیام کے مقامات کے آس پاس نکلنے والی دیمک کھا کر امُور باز اپنے جسم میں چربی جمع کریں گے، جو ان کے اگلے سفر کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس مرحلے میں وہ یہاں سے صومالیہ تک تقریباً 6000 کلومیٹر کا سفر 6 دن میں مسلسل پرواز کرتے ہوئے طے کریں گے۔ اس سفر میں بحیرۂ عرب کے اوپر تقریباً 3000 کلومیٹر کی پرواز بھی شامل ہے۔ امُور باز نقل مکانی کے اپنے حیرت انگیز سفر کے لیے مشہور ہیں۔‘‘