حیدرآباد: بھارت بایوٹیک انٹرنیشنل لمیٹڈ (بی بی آئی ایل) نے آج اعلان کیا کہ اس نے عالمی ادارے گاوی، دی ویکسین الائنس اور یونیسیف کے ساتھ دنیا کی پہلی ملیریا ویکسین آر ٹی ایس، ایس/اے ایس 01 کی مناسب قیمت مقرر کرنے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔ یہ ویکسین ابتدا میں جی ایس کے نے تیار کی تھی اور اب بھارت بایوٹیک اسے موسکی ویک (Mosqivac) کے نام سے تیار کر رہی ہے۔ یونیسیف کے ذریعے طے پانے والے اس معاہدے کو گاوی مالی تعاون فراہم کرے گا۔
اس کے تحت ویکسین کی قیمت میں تقریباً 40 فیصد کمی کی جائے گی۔ اس اقدام سے 2027 سے 2029 کے درمیان بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے پروگراموں کو تقریباً 50 ملین امریکی ڈالر کی بچت ہوگی اور 10 لاکھ مزید بچوں کو ویکسین کی تمام 4 خوراکیں فراہم کی جاسکیں گی۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے انٹرنیشنل فنانس فیسیلٹی فار امیونائزیشن (آئی ایف ایف آئی ایم) کی جانب سے پیشگی ادائیگی کے ذریعے اس معاہدے کو ممکن بنایا گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں ویکسین کی قیمت کم ہوکر فی خوراک 5.50 یورو ہوجائے گی، جو موجودہ قیمت کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد کم ہے۔ توقع ہے کہ نئی قیمت 2027 کے اوائل تک نافذ ہوجائے گی۔ اس کا مقصد ملیریا کی ویکسین کی تیاری اور فراہمی کے لیے زیادہ پائیدار اور مسابقتی بازار تشکیل دینا ہے۔
جی ایس کے، پاتھ (PATH) اور ان کے شراکت داروں کی تیار کردہ آر ٹی ایس، ایس/اے ایس 01 پہلی ملیریا ویکسین تھی، جس کی عالمی ادارۂ صحت نے 2021 میں سفارش کی تھی۔ اس کے بعد سے جی ایس کے اور بھارت بایوٹیک نے پیداوار بڑھانے والی نئی فیکٹریوں، مصنوعات کی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر 200 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد ویکسین کی فراہمی میں اضافہ کرنا، پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا اور لاگت کم کرنا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں تک یہ ویکسین پہنچائی جاسکے۔
بھارت بایوٹیک انٹرنیشنل کے ایگزیکٹیو چیئرمین ڈاکٹر کرشنا ایلا نے کہا، ’’گاوی اور یونیسیف کا یہ معاہدہ ملیریا سے بچاؤ کے لیے ویکسین کے استعمال کو وسعت دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ گاوی اور یونیسیف کے اندازوں کے مطابق اس معاہدے سے 10 لاکھ مزید بچوں کو ملیریا سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ عالمی صحت عامہ کے شعبے میں شراکت دار کی حیثیت سے ہم نے ویکسین کی فراہمی بڑھانے، پیداواری نظام کو مضبوط بنانے اور ملیریا کی ویکسین تک پائیدار اور سستی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اب اصل ضرورت یہ ہے کہ اس پیش رفت کو صحت عامہ کے میدان میں عملی فائدے میں تبدیل کیا جائے۔
ممالک اور عالمی اداروں کو ویکسین متعارف کرانے کے عمل میں تیزی لانے کے لیے اہم کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے اور خطرے سے دوچار آبادی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ہم اس مقصد کے حصول اور ملیریا کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے پابند ہیں۔‘‘ جی ایس کے کی چیف گلوبل ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ہارمنی پی گارجز نے کہا، ’’یہ نیا معاہدہ جی ایس کے اور بی بی آئی ایل کی جانب سے کی گئی بڑی سرمایہ کاری کے بعد سامنے آیا ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں کے لیے آر ٹی ایس، ایس/اے ایس 01 ویکسین تک طویل مدتی اور منصفانہ رسائی یقینی بنانا ہے۔ ایسے وقت میں جب عالمی صحت کے لیے دستیاب وسائل پر بین الاقوامی اداروں اور مختلف ممالک، دونوں سطحوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، شراکت داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئی ہے۔
گاوی اور یونیسیف کے ساتھ یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی صحت کے شعبے میں قریبی تعاون سے ملیریا کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار بچوں کے لیے حقیقی فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔‘‘ 2024 میں ملیریا کی ویکسین لگانے کا عمل شروع ہونے کے بعد سے اس کی مانگ ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔ اب تک یونیسیف 74 ملین سے زیادہ خوراکیں حاصل کرکے مختلف ممالک تک پہنچا چکا ہے۔ گاوی کی مالی مدد سے چلنے والا ملیریا ویکسین پروگرام اب افریقہ کے 25 ممالک میں معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کا حصہ بن چکا ہے۔ ان ممالک میں دنیا بھر میں ملیریا کے 70 فیصد سے زیادہ کیس سامنے آتے ہیں۔
بین الاقوامی امداد کے لیے مالی وسائل میں غیر معمولی کمی کے اس دور میں ویکسین کی سستی اور پائیدار فراہمی یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔ گاوی اتحاد نے 2030 تک 50 ملین مزید بچوں کو ملیریا سے بچاؤ کی ویکسین دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ دنیا میں ہر منٹ ایک بچہ ملیریا سے ہلاک ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں ہر سال تقریباً 5 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ اندازوں کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں ملیریا کے 282 ملین کیس سامنے آئے اور اس بیماری سے 610,000 افراد کی موت ہوئی۔ ان میں سے 95 فیصد تک کیس افریقہ میں ہوئے، جبکہ اس خطے میں ملیریا سے ہونے والی اموات کا تقریباً 74 فیصد حصہ 5 سال سے کم عمر بچوں پر مشتمل تھا۔ آر ٹی ایس، ایس/اے ایس 01 ویکسین کی تمام 4 خوراکیں مکمل کرنے سے ان علاقوں میں ملیریا کے کیسز میں تقریباً 75 فیصد تک کمی آسکتی ہے جہاں یہ بیماری مخصوص موسموں میں زیادہ پھیلتی ہے، بشرطیکہ ویکسین اسی موسمی صورت حال کے مطابق دی جائے۔
ماہرین کے مطابق ملیریا سے بچاؤ کے لیے نئی اور بہتر ویکسین کی اہمیت مستقبل میں مزید بڑھ جائے گی۔ بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت سے بیماری کے پھیلاؤ کے انداز بدل رہے ہیں اور ملیریا نئے علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔ سیلاب اور دیگر شدید موسمی واقعات بھی لوگوں کو بے گھر کرتے ہیں، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور صحت کے نظام میں خلل پیدا کرتے ہیں۔ تاہم ویکسین ملیریا سے بچاؤ کی متعدد تدابیر میں سے صرف ایک ہے۔ اس کے ساتھ کیڑے مار دوا سے علاج شدہ مچھر دانیاں، مچھروں کو دور رکھنے والے آلات اور اسپرے، بیماری پھیلانے والے کیڑوں پر قابو پانے کے دیگر طریقے، احتیاطی ادویات، فوری تشخیص اور بروقت علاج بھی ضروری ہیں۔