الیکشن کمیشن میں اکثریتی فیصلے ضروری ہیں: ایس وائی قریشی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-09-2026
الیکشن کمیشن میں اکثریتی فیصلے ضروری ہیں: ایس وائی قریشی
الیکشن کمیشن میں اکثریتی فیصلے ضروری ہیں: ایس وائی قریشی

 



نئی دہلی: سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے بدھ کو کہا کہ الیکشن کمیشن میں کسی بھی انتظامی یا پالیسی فیصلے کو اکثریتی اتفاقِ رائے کے بغیر نافذ کرنا بنیادی طور پر غیر قانونی ہے۔ ان کا یہ بیان الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات سے متعلق جاری قومی بحث کے درمیان سامنے آیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ دو الیکشن کمشنروں نے خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں سے متعلق فیصلوں پر کئی مرتبہ اعتراضات اٹھائے، قریشی نے کہا کہ 1993 میں بنائے گئے قانونی نظام کے تحت کسی ایک فرد کو یک طرفہ طور پر فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے پہلے الیکشن کمیشن میں صرف ایک چیف الیکشن کمشنر ہوتا تھا، لیکن بعد میں اسے کثیر رکنی ادارہ بنایا گیا۔ ایس وائی قریشی نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بہت واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ تمام فیصلے... جب 1993 میں کثیر رکنی کمیشن بنایا گیا، اس وقت یہ طے کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے صرف ایک چیف الیکشن کمشنر ہوتا تھا، جو اپنی نظر میں حاکم، مالک اور سب کچھ ہوتا تھا۔ اس کے بعد حکومت نے کثیر رکنی کمیشن بنایا اور واضح طور پر کہا گیا کہ جہاں تک ممکن ہو فیصلے متفقہ ہوں، لیکن کسی بھی صورت میں فیصلہ اکثریت سے ہونا چاہیے۔

تینوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ جو بھی دو ارکان اکثریت میں ہوں گے، ان کی رائے نافذ ہوگی، چاہے وہ دونوں کمشنر ہوں یا ایک کمشنر اور چیف الیکشن کمشنر۔‘‘ ماضی میں الیکشن کمیشن کو درپیش انتظامی چیلنجوں کا حوالہ دیتے ہوئے سابق چیف الیکشن کمشنر نے ان اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ مبینہ طور پر بعض اہم معاملات میں دیگر کمشنروں کو فیصلوں کے عمل سے الگ رکھا گیا۔ سپریم کورٹ کے 1995 کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قریشی نے کہا، ’’اس معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ دونوں الیکشن کمشنر کئی معاملات پر سختی سے سوال اٹھا رہے تھے اور مخالفت کر رہے تھے، لیکن انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض اوقات چار چار ماہ تک الیکشن کمیشن کی کوئی میٹنگ ہی نہیں ہوئی۔ ایسی صورتحال ٹی این سیشن کے دور میں بھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے 1995 میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سیشن صاحب کو اختیارات استعمال کرنے کی عادت ہوگئی تھی اور کوئی شخص کتنا ہی دانش مند یا ذہین کیوں نہ ہو، الیکشن کمیشن کے اتنے زیادہ اختیارات ایک فرد کے ہاتھ میں دینا مناسب نہیں ہے۔ ایک کثیر رکنی ادارہ زیادہ موزوں ہے۔ اس کے بعد حکومت نے اسے کثیر رکنی ادارہ بنایا اور اس معاملے کا دفاع بھی کیا۔‘‘ قریشی نے کہا کہ اگر فیصلے اکثریت سے نہیں کیے گئے تو ان کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے۔

ان کے مطابق پورے معاملے میں شفافیت ضروری ہے اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران لیے گئے تمام فیصلوں کی مکمل فہرست عوام کے سامنے لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’کتنے فیصلے متفقہ تھے؟ وہ فیصلے، چاہے اچھے ہوں یا برے، اگر متفقہ تھے تو درست ہیں۔ کتنے فیصلے اکثریت سے لیے گئے؟ وہ بھی درست ہیں اور انہیں کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر کوئی فیصلہ اقلیت کی رائے کے باوجود، ارکان کو نظرانداز کرکے، ان کے اعتراضات کو مسترد کرکے یا انہیں نظرانداز کرتے ہوئے لیا گیا ہے تو ایسے فیصلے غیر قانونی ہیں۔ اس لیے ان تمام فیصلوں کو واپس لیا جانا چاہیے اور انہیں منسوخ کرنا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوری اداروں کو قانون بنانے والوں کی منشا کے مطابق کام کرنا چاہیے۔ قریشی کے مطابق متعلقہ قانون میں واضح ہے کہ جہاں ممکن ہو فیصلے اتفاقِ رائے سے کیے جائیں، لیکن اختلاف کی صورت میں اکثریتی فیصلہ نافذ ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ایک جمہوریت میں رہتے ہیں، یہ کوئی بنانا ریپبلک نہیں ہے۔ ہم جمہوری نظام کے تحت کام کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن، جو جمہوریت کا سب سے اہم ادارہ ہے، اسے بھی جمہوری طریقے سے کام کرنا چاہیے۔ قانون واضح طور پر اکثریتی فیصلے کا تقاضا کرتا ہے۔ جو فیصلہ اکثریت سے نہیں لیا گیا، وہ غیر قانونی ہے۔ بات ختم۔

‘‘ الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کو کم اہم ظاہر کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی جانے والی معلومات پر بھی قریشی نے سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے ہے تو ادارے کو کھل کر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔ قریشی نے کہا، ’’یہ معاملہ اب سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔ سپریم کورٹ کو فیصلوں کی پوری فہرست طلب کرنی چاہیے، کیونکہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے۔ آج ’ذرائع‘ کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ نہیں، نہیں، سب کچھ متفقہ تھا۔ کیا ’ذرائع‘ کے ذریعے یہ کھیل کھیل کر پورے ملک کو بیوقوف سمجھا جا رہا ہے؟ یہ کیسی بچکانہ بات ہے؟

’ذرائع‘ کے ذریعے خبریں لیک کرنے کے بجائے پریس کانفرنس کیجیے۔ آپ کو بیرون ملک پریس کانفرنسیں کرنا پسند ہے، تو یہاں بھی تینوں ارکان کی موجودگی میں پریس کانفرنس کریں اور ریکارڈ پر کہیں کہ آج کی رپورٹ غلط اور بے بنیاد ہے اور تمام فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے تھے۔ ایسی صورت میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، ہم بھی ان کی تعریف کریں گے۔‘‘ الیکشن کمیشن میں موجودہ انتظامی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے قریشی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے کمشنروں کے کام کرنے کے طریقے کے بارے میں سوال اٹھاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’’میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے یہ بات کہہ رہا ہوں اور پہلے ہچکچاہٹ کے ساتھ بات کرتا تھا، کیونکہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اختلافات اتنے گہرے ہیں۔ سچ کہوں تو میں دونوں الیکشن کمشنروں سے کافی مایوس ہوتا تھا اور سوچتا تھا کہ آئین اور حکومت نے آخر انہیں اس عہدے پر کیوں مقرر کیا ہے... جیسا کہ عدالت نے بھی کہا ہے۔‘‘ اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک لانے کی کوشش کی تھی۔ اپریل 2026 میں کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا تھا کہ اپوزیشن کے 73 راجیہ سبھا ارکان نے چیف الیکشن کمشنر کو ’’ثابت شدہ بدسلوکی‘‘ کی بنیاد پر عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کا نیا نوٹس جمع کرایا ہے۔