ہندوستانی بحریہ کی طاقت میں بڑا اضافہ، 8 جدید جنگی بحری جہاز بنائے جائیں گے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 30-10-2026
ہندوستانی بحریہ کی طاقت میں بڑا اضافہ، 8 جدید جنگی بحری جہاز بنائے جائیں گے
ہندوستانی بحریہ کی طاقت میں بڑا اضافہ، 8 جدید جنگی بحری جہاز بنائے جائیں گے

 



نئی دہلی: ہندوستانی بحریہ کی جنگی صلاحیت میں اضافے اور ملک میں دفاعی ساز و سامان کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے مرکزی حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی کابینہ کمیٹی برائے سلامتی (سی سی ایس) نے ہندوستانی بحریہ کے لیے 8 نئی نسل کے جنگی بحری جہاز (نیکسٹ جنریشن کارویٹس) بنانے کے 40 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے۔

سرکاری حکام نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ اس منصوبے کو بدھ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہونے والی سی سی ایس کی میٹنگ میں منظوری دی گئی۔ ان 8 جنگی بحری جہازوں کی تعمیر کے لیے آئندہ چند دنوں میں کولکاتا کی گارڈن ریچ شپ بلڈرز اور گوا شپ یارڈ لمیٹڈ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت ہندوستانی بحریہ کے لیے 8 جدید جنگی بحری جہاز تیار کیے جائیں گے۔

ان کی تعمیر ملک کے دو سرکاری جہاز ساز ادارے کریں گے۔ ان میں کولکاتا میں واقع گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز (جی آر ایس ای) اور گوا شپ یارڈ لمیٹڈ (جی ایس ایل) شامل ہیں۔ تقریباً 2,000 ٹن وزن والے یہ تیز رفتار جنگی بحری جہاز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گے۔ ان کے لیے اسٹیلتھ ڈیزائن تیار کیا گیا ہے، جسے ہندوستانی بحریہ نے خود وضع کیا ہے۔

اس ڈیزائن کا مقصد دشمن کے ریڈار کی نظروں سے بچنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا اور سمندر میں ہندوستان کی فوجی طاقت کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ ہر جنگی جہاز کا وزن تقریباً 2,000 ٹن ہوگا اور یہ تقریباً 30 ناٹ کی رفتار سے سفر کر سکے گا۔ پہلے جہاز کی حوالگی 2030 تک متوقع ہے، تاہم حکومت تعمیراتی کام کی مدت کم کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق نئی نسل کے یہ کارویٹس جدید اور کئی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے جنگی بحری پلیٹ فارم ہوں گے۔ انہیں بحر ہند کے خطے میں سمندری سلامتی سے متعلق مختلف نوعیت کے مشن انجام دینے کے لیے تیار کیا جائے گا۔

ان 8 جنگی بحری جہازوں کی ملک میں ہی تعمیر سے نہ صرف بحریہ کی جنگی تیاریوں میں اضافہ ہوگا بلکہ وزیر اعظم کے وژن ساگر (خطے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی) کو بھی تقویت ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی آتم نربھر بھارت کے تحت دفاعی شعبے میں خود انحصاری اور مقامی سطح پر جدید فوجی ساز و سامان تیار کرنے کی حکومتی کوششوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔