نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 242 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس کی جاری تحقیقات کے سلسلے میں مہاراشٹر کے یوتمل ضلع میں نو مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائی کی۔ یہ معاملہ یوتمل کے اودھوت واڑی پولیس اسٹیشن میں باباجی ڈیٹ مہیلا سہکاری بینک کے عہدیداروں اور ملازمین اور بینک سے قرض لینے والے افراد کے خلاف درج کئی ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع ہوا ہے۔
ای ڈی کے ممبئی زون نے کچھ موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز کے ساتھ قریبی رابطے میں یہ تلاشی کارروائی کی۔ باباجی ڈیٹ مہیلا سہکاری بینک لمیٹڈ، یوتمل، کو ابتدا میں مہاراشٹر کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 1960 کی دفعہ 9(1) کے تحت رجسٹر کیا گیا تھا۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے 2022 میں بینک کا لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔ دھوکہ دہی اور جمع کنندگان کی رقم کے غلط استعمال کی متعدد شکایات کے بعد ریاستی حکومت نے بینک کا خصوصی آڈٹ کرانے کا حکم دیا تھا۔
آڈٹ میں پایا گیا کہ بینک کے سی ای او، چیئرپرسن، چیئرمین، ڈائریکٹروں اور دیگر عہدیداروں نے قرض لینے والوں، ویلیوئرز اور آڈیٹروں کے ساتھ ملی بھگت کرکے مناسب ضمانت اور قرض واپس کرنے کی صلاحیت کا مناسب جائزہ لیے بغیر قرضے منظور اور جاری کیے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ قرض کی رقم کو بینک کے ضوابط، قرض پالیسی اور ریزرو بینک کی ہدایات کے خلاف دوسرے مقاصد کے لیے منتقل کیا گیا۔
عہدیداروں نے کہا، ’’یہ بھی پایا گیا کہ چیئرپرسن اور بینک کے عہدیداروں نے قرض حاصل کرنے والوں کے ساتھ ملی بھگت کرکے 242 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی۔‘‘ ای ڈی کی اب تک کی تحقیقات میں اس دھوکہ دہی میں بینک کے عہدیداروں اور قرض لینے والوں کے ایک بڑے نیٹ ورک کے وجود کا انکشاف ہوا ہے۔ ای ڈی کی تحقیقات کے مطابق قرض لینے والوں نے حاصل کی گئی رقم کو ذاتی استعمال کے لیے منتقل کیا، نقد رقم نکالی، پرانے قرضوں کو نئے قرضوں کے ذریعے جاری رکھا اور دیگر طریقوں کے علاوہ مبینہ طور پر بینک کے عہدیداروں کے کھاتوں میں بطور کمیشن رقم منتقل کی۔