ٹریفک چالان کے نئے نظام کے خلاف دہلی کی ساتوں ضلعی عدالتوں میں وکلا کی ہڑتال

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-09-2026
ٹریفک چالان کے نئے نظام کے خلاف دہلی کی ساتوں ضلعی عدالتوں میں وکلا کی ہڑتال
ٹریفک چالان کے نئے نظام کے خلاف دہلی کی ساتوں ضلعی عدالتوں میں وکلا کی ہڑتال

 



نئی دہلی: ٹریفک چالان کے نظام میں کی گئی ترمیم، خاص طور پر عدالت سے رجوع کرنے سے پہلے چالان کی رقم کا 50 فیصد جمع کرانے کی شرط کے خلاف دہلی کی ساتوں ضلعی عدالتوں کے وکلا نے پیر کو کام کا بائیکاٹ کیا۔ وکلا کی ایک روزہ ہڑتال کے باعث دہلی کی ضلعی عدالتوں میں عدالتی کام کاج متاثر رہا۔ یہ ہڑتال تمام ضلعی عدالتوں کی بار ایسوسی ایشنز کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کی اپیل پر کی گئی۔

کمیٹی نے سنٹرل موٹر وہیکل رولز، 1989 کے ترمیم شدہ ضابطہ 167 پر اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔ احتجاج کے دوران وکلا تمام ضلعی عدالتوں میں جمع ہوئے اور دہلی حکومت سے ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ نئے نظام کے تحت جس شخص کا چالان کیا گیا ہے، اسے یا تو چالان قبول کرکے اس کی رقم ادا کرنی ہوگی یا مقررہ پورٹل کے ذریعے ریاستی حکومت کی جانب سے نامزد اتھارٹی کے سامنے اسے چیلنج کرنا ہوگا۔

چالان کو چیلنج کرنے کے لیے 45 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ وکلا کا سب سے بڑا اعتراض اس شق پر ہے کہ اگر نامزد اتھارٹی چالان کے خلاف دائر اعتراض کو مسترد کر دیتی ہے تو متعلقہ شخص اس کے بعد ہی مجاز عدالت سے رجوع کر سکتا ہے، جب وہ چالان کی کل رقم کا 50 فیصد پہلے جمع کرا دے۔ وکلا نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عدالت جانے سے پہلے کسی شخص کے اعتراض کا فیصلہ کرنے کا اختیار ایگزیکٹو اتھارٹی کو کیوں دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کے خلاف ٹریفک خلاف ورزی کے الزام پر فیصلہ کرنا بنیادی طور پر عدالتی نوعیت کا معاملہ ہے۔ احتجاج کرنے والے وکلا کے مطابق پہلے سے 50 فیصد رقم جمع کرانے کی لازمی شرط ایسے شخص کے لیے اضافی مالی بوجھ بن سکتی ہے جو ٹریفک خلاف ورزی کے الزام سے ہی اختلاف کرتا ہو۔ ان کا خدشہ ہے کہ اس شرط کی وجہ سے بعض لوگ اپنے معاملے میں عدالتی کارروائی کا راستہ اختیار کرنے سے بھی گریز کر سکتے ہیں۔

وکلا نے اس شق پر بھی اعتراض کیا ہے جس کے تحت اگر کوئی شخص مقررہ مدت کے اندر نامزد اتھارٹی کے سامنے چالان کو چیلنج نہیں کرتا تو اسے ’قبول شدہ تصور‘ کیا جائے گا۔ نئے ڈیجیٹل نظام کے حوالے سے بھی وکلا نے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ آن لائن نظام سے زیادہ واقف نہیں ہیں، ان کے لیے اس طریقے سے چالان کو چیلنج کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر کمرشل گاڑیوں اور ٹرکوں کے ڈرائیوروں کو اس سلسلے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

احتجاج کرنے والے وکلا کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئے نظام میں کسی شخص کو عدالت سے رجوع کرنے سے پہلے مبینہ ٹریفک خلاف ورزی کے حالات اور اپنے موقف کی وضاحت کرنے کا موقع محدود ہو سکتا ہے۔ ضلعی عدالتوں کی بار ایسوسی ایشنز کی کوآرڈی نیشن کمیٹی نے 20 ستمبر کو جاری کیے گئے ایک سرکلر میں موٹر وہیکل رولز کے ضابطہ 167 میں کی گئی ترامیم پر اپنے اعتراضات درج کرائے تھے۔ اس کے بعد پیر کو وکلا نے ایک روزہ کام کا بائیکاٹ کیا، جس سے دہلی کی تمام ضلعی عدالتوں کی معمول کی کارروائی متاثر ہوئی۔