نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ’وندے ماترم‘ سے متعلق سزا کے التزام کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے منگل کو مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں 1986 کے ’بجو ایمانوئل بنام ریاست کیرالہ‘ فیصلے میں طے کیے گئے اصولوں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے، جس میں قومی ترانے کے احترام کے باوجود اسے نہ گانے والے اسکولی بچوں کو ان کے ضمیر کی بنیاد پر سزا سے تحفظ دیا گیا تھا۔ یہ عرضی کرناٹک موسیقی کے معروف گلوکار ٹی ایم کرشنا نے دائر کی ہے۔ ان کی جانب سے ’وندے ماترم‘ کے تمام چھ بند گانا لازمی قرار دینے والی قانونی ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے۔
عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آخری چار بند ملک کے سیکولر کردار سے متعلق سوالات پیدا کرتے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ یہ طے کرنا اس کا کام نہیں ہے کہ ملک کا قومی گیت کیا ہونا چاہیے، تاہم وہ اس بات کا جائزہ ضرور لے گی کہ قانون کے تحت ایسے شخص کے حقوق محفوظ ہیں یا نہیں جو اپنے ضمیر، خاص طور پر مذہبی بنیاد پر، ’وندے ماترم‘ گانے سے انکار کرتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ قومی گیت کا تعین جمہوری نظام حکومت کا معاملہ ہے اور عدالت ’وندے ماترم‘ سے وابستہ قومی جذبات یا امنگوں پر سوال نہیں اٹھا رہی۔
تاہم عدالت نے اشارہ دیا کہ اگر کوئی شخص اپنے ضمیر کی بنیاد پر ’وندے ماترم‘ کے ایک یا ایک سے زیادہ بند گانے سے انکار کرتا ہے تو اس کے خلاف محض اس بنیاد پر فوجداری کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ جسٹس باگچی نے کہا کہ اگر کسی شخص کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آئین کی دفعات 25 اور 26 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں، یا وہ اپنے ضمیر اور مذہبی عقیدے کی بنیاد پر اعتراض کرتا ہے، تو اسے سزا کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت اس بات کا جائزہ نہیں لے رہی کہ قومی گیت کیا ہونا چاہیے۔
عرضی گزار کے دلائل ٹی ایم کرشنا کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ایس مریدھر نے کہا کہ قانون میں ’قومی گیت‘ کی واضح تعریف نہیں دی گئی ہے، جس کی وجہ سے ابہام اور اس کے ممکنہ غلط استعمال کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت داخلہ نے دفتری یادداشت کے ذریعے کچھ ہدایات جاری کی تھیں، لیکن انہیں گزٹ میں باقاعدہ نوٹیفائی نہیں کیا گیا۔
ان کے مطابق حکومت نے انتظامی ہدایات کے ذریعے ’وندے ماترم‘ سے متعلق پہلے سے قائم سمجھ میں تبدیلی کی ہے۔ سینئر وکیل نے عدالت میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ ترمیم شدہ قانون میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ’وندے ماترم‘ کا کون سا ورژن یا اس کے کون سے بند قومی گیت کا حصہ تصور کیے جائیں گے۔ جب جسٹس باگچی نے کہا کہ روایتی طور پر ’وندے ماترم‘ کو قومی گیت سمجھا جاتا رہا ہے تو مریدھر نے جواب دیا کہ اب تک کی قائم شدہ سمجھ کے مطابق اس کے پہلے دو بند ہی اس حیثیت سے دیکھے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ترمیم جلد بازی میں اور ’’قومی اتفاق رائے کے عمل کے بغیر‘‘ کی گئی۔
سالیسٹر جنرل نے اعتراضات کی مخالفت کی سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عرضی گزار کے دلائل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’سیکولرازم اتنا محدود تصور نہیں ہو سکتا۔‘‘ سماعت کے دوران مہتا کے ایک تبصرے پر بھی بحث ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی ’’نکسلیوں کی سوچ‘‘ کے مطابق نہیں ہو سکتی۔ اس پر مریدھر نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایسی زبان کسی قانونی افسر کو زیب نہیں دیتی اور ان سے اپنا تبصرہ واپس لینے کی اپیل کی۔ مہتا نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ ان لوگوں کی طرف تھا جو ان کے مطابق قانون سازی کے عمل کا احترام نہیں کرتے۔ سماعت کے بعد بھی مریدھر نے تبصرہ واپس لینے کا مطالبہ کیا، لیکن سالیسٹر جنرل نے اس سے انکار کردیا۔
مہتا نے کہا کہ وہ اپنے بیان کو دوبارہ بھی دہرا سکتے ہیں اور انہیں اس پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ ان کے مطابق قانون کے مطابق چلنا ہی آئینی طریقہ ہے۔ بعد میں مریدھر نے سالیسٹر جنرل پر الزام لگایا کہ وہ لوگوں کو متاثر کرنے کے لیے اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے اس بحث میں مداخلت نہیں کی اور کہا کہ وہ ان تبصروں کا نوٹس نہیں لے رہی ہے۔
سالیسٹر جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ عرضی پر باضابطہ نوٹس جاری نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے معاملہ ’’سنسنی خیز‘‘ بن سکتا ہے۔ جسٹس باگچی نے مرکز کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عدالت فی الحال رسمی نوٹس جاری کرنے کی خواہش مند نہیں ہے، تاہم اسے امید ہے کہ ’بجو ایمانوئل‘ کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے طے کیا گیا قانونی اصول ترمیم شدہ دفعات پر بھی لاگو ہوگا۔ عرضی میں قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام ایکٹ، 1971 کی 2026 میں ترمیم شدہ دفعہ 3 کے علاوہ وزارت داخلہ کے 28 جنوری اور 9 جولائی 2026 کے احکامات کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔