نئی دہلی: کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے ہفتہ کو وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر کرناٹک میں خشک سالی کی صورتحال کے درمیان کسانوں کے لیے فوری مرکزی امداد کا مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم کو لکھے خط میں کھڑگے نے کہا کہ کرناٹک گزشتہ چند برسوں کی شدید ترین خشک سالی کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ ریاست کے کئی علاقوں میں بارش کی کمی، بڑے پیمانے پر فصلوں کو نقصان اور لاکھوں کسان خاندانوں میں پریشانی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست نے قومی آفات سے نمٹنے کے فنڈ (این ڈی آر ایف) اور ریاستی آفات سے نمٹنے کے فنڈ (ایس ڈی آر ایف) کے تحت 3,705.30 کروڑ روپے کی امداد طلب کی ہے، جبکہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ مجموعی نقصان 18,748.23 کروڑ روپے کا ہے۔ کھڑگے نے اپنی درخواست میں چھ اہم مطالبات پیش کیے۔ ان میں کلیان کرناٹک کے علاقوں میں خشک سالی سے ہونے والے نقصانات کا زمینی جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر مرکزی ٹیم بھیجنا اور ریاست کی جانب سے طلب کی گئی پوری 3,705.30 کروڑ روپے کی رقم جاری کرنا شامل ہے۔
انہوں نے مرکز سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چھوٹے اور معمولی کسانوں کے لیے ان پٹ سبسڈی کا حساب 2015-16 کی زرعی مردم شماری کے بجائے کرناٹک کے تازہ ترین ’’بھومی‘‘ اراضی ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے امداد کے حقدار کسانوں کو راحت سے محروم ہونے سے بچایا جاسکے گا۔ کانگریس صدر نے مزید کہا کہ خشک سالی سے متاثرہ 11 مزید تعلقہ جات میں، جہاں اس وقت زمینی تصدیق کا عمل جاری ہے، خشک سالی کے اعلان کا عمل فوری طور پر مکمل کیا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو دیگر علاقے بھی مقررہ معیار پر پورے اترتے ہیں، انہیں بھی اسی امدادی عمل میں شامل کیا جائے اور مرکزی امداد کے لیے ان تمام علاقوں کو ایک ہی مسلسل خشک سالی کے واقعے کا حصہ سمجھا جائے۔ کھڑگے نے پینے کے پانی کی فراہمی اور متبادل بجلی کی لاگت کے لیے بھی اضافی امداد کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دریائے کاویری اور پن بجلی کے علاقوں میں آبی ذخائر کی کم ہوتی سطح کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں اضافی تعاون کی ضرورت ہے۔ کھڑگے نے کہا، ’’خشک سالی سے راحت رسانی ایک انسانی ضرورت ہے اور اسے مرکز اور ریاست کے درمیان سیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا چاہیے۔‘
‘ انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری کارروائی کرتے ہوئے لوگوں کے گزارے، مویشیوں کے چارے، پانی اور روزگار کے تحفظ کے لیے بروقت امداد فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے 31 لاکھ سے زیادہ کسان خاندانوں کو درپیش مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے امداد ’’میرٹ کی بنیاد پر اور انتہائی فوری طور پر، سیاسی مفادات سے متاثر ہوئے بغیر‘‘ جاری کی جانی چاہیے۔ کھڑگے نے بتایا کہ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو بھی خط لکھ کر اسی طرح کی مداخلت اور امداد کا مطالبہ کیا ہے۔
کرناٹک میں خشک سالی کی صورتحال کے بگڑنے کے درمیان ریاست مسلسل مرکزی امداد کا مطالبہ کررہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ریاست نے 177 تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا ہے، جبکہ مزید علاقوں میں زمینی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ ریاست نے ابتدائی طور پر 101 خشک سالی سے متاثرہ تعلقہ جات کے لیے 3,705.30 کروڑ روپے کی مرکزی امداد طلب کی تھی۔