ایف سی آر اے ترمیمی بل پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کا دوسرا اجلاس کل ہوگا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
ایف سی آر اے ترمیمی بل پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کا دوسرا اجلاس کل ہوگا
ایف سی آر اے ترمیمی بل پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کا دوسرا اجلاس کل ہوگا

 



 نئی دہلی : غیر ملکی چندہ (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 کا جائزہ لینے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کا دوسرا اجلاس منگل، 29 ستمبر کو پارلیمنٹ انیکسی میں منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں وزارت داخلہ اور وزارت قانون و انصاف کے افسران مجوزہ قانون کی مختلف دفعات کے بارے میں کمیٹی کے ارکان کو تفصیلی معلومات فراہم کریں گے۔

لوک سبھا سکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق، اجلاس 29 ستمبر کو صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک کمیٹی روم نمبر 3 میں ہوگا۔ اس کے بعد ورکنگ لنچ کا اہتمام کیا جائے گا۔اجلاس کے دوران وزارت داخلہ اور وزارت قانون و انصاف کے نمائندے غیر ملکی چندہ (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 کی مختلف دفعات پر شق وار تفصیلی بریفنگ دیں گے۔

دوپہر 2 بجے سے کمیٹی مختلف شعبوں کے ماہرین اور متعلقہ فریقوں کے خیالات بھی سنے گی۔ ان میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیئرمین چلہ سرینواسولو سیٹی اور دہلی ہائی کورٹ میں ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا چیتن شرما شامل ہیں۔

یہ نو تشکیل شدہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہوگا۔ اس سے قبل کمیٹی کا پہلا اجلاس 18 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا۔

پہلے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری گووند موہن نے کمیٹی کے ارکان کو مجوزہ قانونی ترامیم کی ضرورت، مقاصد اور ان کے وسیع تر پالیسی فریم ورک کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی تھیں۔

اس بریفنگ میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی تھی کہ مجوزہ ترامیم سے غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)، تعلیمی اداروں، تھنک ٹینکس اور غیر ملکی مالی امداد حاصل کرنے والے دیگر اداروں کے لیے ضابطوں کی پابندی، انتظامی شفافیت اور مالی نگرانی کے نظام میں کیا تبدیلیاں آئیں گی۔

پہلے اجلاس کے بعد کمیٹی کے چیئرمین اور بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنجے جیسوال نے کہا تھا کہ اجلاس میں مفید تبادلہ خیال ہوا اور تمام جماعتوں کے ارکان نے بحث میں حصہ لیا۔

انہوں نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اجلاس خوشگوار ماحول میں منعقد ہوا۔ ارکان پارلیمنٹ نے سوالات اٹھائے۔ ہمیں سرمائی اجلاس سے پہلے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ہم اسے پورا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔‘‘

غیر ملکی چندہ (ریگولیشن) ترمیمی بل 2026 کو حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے مانسون اجلاس کے دوران تفصیلی جانچ کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا گیا تھا۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے لوک سبھا میں اس سلسلے میں تحریک پیش کی تھی۔

کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ بل کی تمام دفعات کا جائزہ لے اور 2026 کے سرمائی اجلاس کے پہلے ہفتے کے آخری دن تک اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے۔ کمیٹی کے اجلاس کے لیے کورم اس کی مجموعی رکنیت کا ایک تہائی مقرر کیا گیا ہے۔

یہ بل 25 مارچ کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا، جبکہ نظرثانی شدہ ایف سی آر اے قواعد 2026 کو 22 جون کو نوٹیفائی کیا گیا تھا۔

کانگریس، سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سمیت اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ ترامیم کی مخالفت کی ہے۔ ان جماعتوں کا الزام ہے کہ بل کی بعض دفعات کو این جی اوز، اقلیتی تعلیمی اداروں اور غیر ملکی چندہ حاصل کرنے والی تنظیموں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، حکومت کا موقف ہے کہ مجوزہ ترامیم کا مقصد غیر ملکی چندے کے استعمال کی نگرانی کو مضبوط بنانا، شفافیت کو یقینی بنانا اور غیر ملکی فنڈز کے غلط استعمال یا انہیں دوسرے مقاصد کے لیے منتقل کیے جانے کی روک تھام کرنا ہے، تاکہ قومی مفادات متاثر نہ ہوں۔

غیر ملکی چندہ (ریگولیشن) ایکٹ ملک میں افراد، انجمنوں اور کمپنیوں کی جانب سے غیر ملکی فنڈز قبول کرنے اور ان کے استعمال کو منظم کرتا ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی مالی امداد سے ملک کی داخلی سلامتی یا قومی مفادات پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔

مجوزہ 2026 کے بل میں غیر ملکی چندہ حاصل کرنے والی تنظیموں کے لیے رپورٹنگ کے مزید سخت ضابطے متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ فنڈز کے حقیقی اور مقررہ مقاصد کے لیے استعمال کی جواب دہی یقینی بنائی جا سکے۔

اس کے علاوہ این جی اوز، تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں کے لیے ضابطوں کی پابندی کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے اور غیر ملکی فنڈز کے غلط استعمال یا انہیں غیر مجاز سرگرمیوں میں منتقل کرنے کی روک تھام کے لیے نگرانی کا نظام مزید سخت کرنے کی بھی تجویز ہے۔مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت مکمل کرکے سرمائی اجلاس سے قبل اپنی حتمی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنی ہے۔