نئی دہلی: مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جگت پرکاش نڈا نے جمعرات کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ قومی تقریب میں ’ٹی بی مکت بھارت ابھیان‘ کے تحت جوش (JOSH) ٹیموں کا آغاز کیا۔ اس پہل کا مقصد ملک میں تپِ دق (ٹی بی) کے خاتمے کی کوششوں میں نوجوانوں کی فعال شمولیت کو مضبوط بنانا ہے۔ اس مہم کے ذریعے نوجوانوں کی توانائی، رسائی اور عزم کو استعمال کرتے ہوئے ملک بھر کی برادریوں تک ٹی بی سے بچاؤ، بروقت تشخیص، مناسب علاج اور اس بیماری سے وابستہ سماجی بدنامی کے خاتمے کا پیغام پہنچایا جائے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نڈا نے جوش ٹیموں کے آغاز کو ہندوستان میں ٹی بی کے خلاف اجتماعی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی سے پاک ہندوستان کی کوششیں اب محض ایک روایتی صحت پروگرام تک محدود نہیں رہی ہیں بلکہ ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہیں، جس میں عوامی شمولیت اور برادری کی ذمہ داری قومی کوششوں کے اہم ستون بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف حکومتی اقدامات کے ذریعے ٹی بی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اس کے لیے برادریوں، شہریوں، منتخب نمائندوں، صحت کارکنوں اور خاص طور پر نوجوانوں کی فعال شمولیت ضروری ہے۔
نڈا نے کہا کہ نوجوانوں کی توانائی، عزم اور عوام تک رسائی ٹی بی کے خاتمے کی مہم کو نئی رفتار دے سکتی ہے۔ انہوں نے وزارتِ نوجوان امور و کھیل اور وزارتِ دفاع کے تعاون سے جوش پہل کو نچلی سطح تک پہنچانے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ جوش ٹیموں کا مقصد حکومت، برادریوں اور شہریوں کو منظم اور مسلسل انداز میں ایک ساتھ لانا ہے۔ یہ پہل صرف معلومات پھیلانے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ لوگوں کے درمیان بامعنی گفتگو، اعتماد سازی اور ان کے خدشات دور کرنے پر بھی توجہ دے گی، تاکہ لوگ بروقت جانچ اور علاج کے لیے آگے آئیں۔
مرکزی وزیر صحت نے زور دیا کہ ہندوستان کی ٹی بی کے خاتمے کی حکمت عملی صرف بیداری اور جانچ تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ تشخیص، علاج اور علاج مکمل ہونے تک مریض کی مدد کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، ’’بیداری ضروری ہے، جانچ ضروری ہے، لیکن ہماری ذمہ داری یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ہمیں تشخیص، علاج اور علاج مکمل ہونے کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔‘‘ انہوں نے فعال طور پر ٹی بی کے مریضوں کی تلاش کا دائرہ وسیع کرنے پر بھی زور دیا، کیونکہ ایسے بہت سے افراد ہوسکتے ہیں جو بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود اس سے واقف نہ ہوں اور صحت کے باقاعدہ نظام سے باہر رہ جائیں۔ ایسے افراد کی ابتدائی مرحلے میں شناخت نہ صرف بروقت علاج کے لیے ضروری ہے بلکہ خاندانوں اور برادریوں میں بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی اہم ہے۔
نڈا نے عالمی ادارۂ صحت کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ٹی بی کے واقعات میں 21 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ کمی 12 فیصد رہی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں ٹی بی کے علاج کی کوریج بڑھ کر 92 فیصد ہوگئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 78 فیصد ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ان کامیابیوں کے باوجود غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا۔ انہوں نے ٹی بی کے خلاف جنگ میں ٹیکنالوجی اور جدت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت سے لیس قابلِ نقل ایکسرے مشینوں کے ذریعے ان افراد کی شناخت میں مدد مل رہی ہے جن میں ٹی بی کی علامات ہوسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ تیز رفتار سالماتی تشخیصی ٹیکنالوجی کے ذریعے بیماری کی بروقت تصدیق اور ادویات کے خلاف مزاحمت کی شناخت ممکن ہورہی ہے، جس سے مریض کو مناسب علاج جلد فراہم کیا جاسکتا ہے۔ نڈا نے جوش ٹیموں کے رضاکاروں سے کہا کہ وہ لوگوں کے خدشات سنیں، ان کے سوالات کا جواب دیں اور ٹی بی سے وابستہ خوف اور سماجی بدنامی کو دور کرنے میں مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی بی قابلِ بچاؤ اور قابلِ علاج بیماری ہے اور اس میں مبتلا کسی بھی شخص کو امتیاز یا سماجی تنہائی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے حفظانِ صحت، صحت مند طرزِ زندگی اور تمباکو و نشہ آور اشیا کے مضر اثرات سے متعلق بیداری پھیلانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹی بی کی تشخیص علاج کے سفر کا صرف آغاز ہے۔ ہر مریض کو مناسب علاج سے جوڑنا اور صحت یابی تک اس کی مدد کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ادویات، غذائی مدد اور علاج کی پابندی کی اہمیت اجاگر کی اور بتایا کہ ہندوستان نے ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والی ٹی بی کے لیے بھی مختصر مدت کے علاج سمیت علاج کے طریقوں کو مضبوط کیا ہے۔ نڈا نے بتایا کہ جوش ٹیموں کا پہلے مرحلے میں 11 ریاستوں میں آغاز کیا جارہا ہے، جس کے بعد ان کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ یہ ٹیمیں ضلع اور بلاک کی سطح پر کام کریں گی اور ان کی نگرانی و عمل درآمد کے لیے ڈیجیٹل نظام بھی استعمال کیا جائے گا۔ مرکزی وزیر صحت نے 2026 میں ٹی بی سے پاک قرار دی گئی 697 اضلاع کی 67,933 پنچایتوں کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی عوامی شمولیت اور مقامی قیادت کی طاقت کی عکاس ہے۔ انہوں نے منتخب نمائندوں، صحت کارکنوں، رضاکاروں اور برادری کے ارکان کی کوششوں کو سراہا۔
نڈا نے کہا کہ ہندوستان اب اپنے ہدف کے قریب پہنچ چکا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے آخری مرحلے میں عزم اور مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے این سی سی کیڈٹس اور ’مائی بھارت‘ رضاکاروں سے ٹی بی سے پاک ہندوستان کی مہم کے سفیر بننے اور ہر گھر اور برادری تک بیماری سے بچاؤ، بروقت جانچ، مناسب علاج اور سماجی بدنامی کے خاتمے کا پیغام پہنچانے کی اپیل کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے نوجوان امور و کھیل منسکھ مانڈویہ نے کہا کہ ’’صحت مند شہری، صحت مند معاشرہ، صحت مند ملک‘‘ کا تصور اسی وقت حقیقت بن سکتا ہے جب شہری صحت مند معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کریں۔
انہوں نے قومی صحت کی مہمات میں عوامی شمولیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل لوگوں کو بیداری پھیلانے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور بروقت علاج کے لیے دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ترغیب دیتے رہے ہیں۔ مانڈویہ نے ٹی بی سے پاک ہندوستان کے تصور کو عملی شکل دینے اور جوش ٹیموں کے ذریعے نوجوانوں کے مختلف نیٹ ورکس کو ایک ساتھ لانے کے لیے مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کی کوششوں کو بھی سراہا۔ عالمی ادارۂ صحت کے 2030 تک ٹی بی کے خاتمے کے ہدف کا ذکر کرتے ہوئے مانڈویہ نے کہا کہ ہندوستان اس مقصد کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے اور عالمی ہدف سے پہلے ہی اسے حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بڑے ممالک میں ہندوستان کی نوجوان آبادی سب سے زیادہ ہے، اس لیے نوجوانوں کو مناسب رہنمائی، تربیت اور مواقع فراہم کرکے ملک کی تعمیر میں ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔