جے شنکر نے ہندوستان-روس تعلقات پر مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ کی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 03-10-2026
جے شنکر نے ہندوستان-روس تعلقات پر مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ کی
جے شنکر نے ہندوستان-روس تعلقات پر مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ کی

 



نئی دہلی: وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہفتہ کو ہندوستان اور روس کے تعلقات پر مشاورتی کمیٹی کی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جے شنکر نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ میٹنگ میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، رابطے، ثقافت اور عوامی سطح پر باہمی تعلقات سمیت دونوں ممالک کے درمیان کثیر جہتی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازع کو ختم کرنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی ہندوستان کی فعال حمایت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

میٹنگ میں باہمی تجارت کو متوازن انداز میں بڑھانے کے مشترکہ عزم پر بھی بات ہوئی۔ اس سلسلے میں روس کو ہندوستانی برآمدات میں اضافے کے لیے سات شعبوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں آٹوموبائل، ادویات، خوراک، سمندری مصنوعات، انجینئرنگ سامان، کیمیکل اور ٹیکسٹائل شامل ہیں۔ دونوں جانب سے ہندوستان-یوریشین اکنامک یونین آزاد تجارتی معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں چنئی-ولادی ووستوک اقتصادی راہداری، بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور (آئی این ایس ٹی سی) اور شمالی سمندری راستے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ہندوستان نے واضح کیا کہ اس کی ترجیح ہندوستانی صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے اور ملک مختلف ذرائع سے اشیا کی فراہمی برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ روس نے رواں سال تقریباً 70 ہزار ہنرمند ہندوستانی کارکنوں کو ملازمت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، خاص طور پر تعمیرات اور لاجسٹکس کے شعبوں میں۔ حکومت نے ایسے ہندوستانی شہریوں کی جلد رہائی کے لیے روسی حکام کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح سمیت مختلف سطحوں پر رابطہ کیا ہے۔ اب تک تقریباً 140 ہندوستانی شہریوں کو روس سے واپس لایا جا چکا ہے۔

ہندوستانی فریق روسی حکام سے ان 55 ہندوستانی شہریوں کے بارے میں بھی رابطے میں ہے، جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ روسی فوج میں موجود ہیں۔ ہندوستانی قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے ایجنٹوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہے ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرکے روسی فوج میں بھرتی کراتے ہیں۔ میٹنگ میں ارکان کو روسی فوج میں شامل ہونے سے ہندوستانی شہریوں کو لاحق سنگین خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں جاری یوکرین تنازع کے خاتمے اور امن کی واپسی کے لیے ہندوستان کی حالیہ کوششوں پر بھی بات ہوئی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بشکیک میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ’’اب لامتناہی جنگ کو جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔‘‘ دونوں رہنماؤں کی حال ہی میں نئی دہلی میں بھی ملاقات ہوئی تھی۔ جے شنکر گزشتہ ماہ یوکرین گئے تھے اور نیویارک میں یوکرین اور روس کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اپنی بات چیت میں کہا تھا کہ اگر ہندوستان جنگ ختم کرانے میں کسی بھی طرح مدد کر سکتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہے۔

اس سلسلے میں ماسکو میں والڈائی کلب کے اجلاس میں صدر پوتن کے اس بیان کا بھی ذکر کیا گیا کہ وزیر اعظم مودی کے پاس ’’باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرنے کے لیے بہت اچھے خیالات‘‘ ہیں۔ یوکرین کے وزیر خارجہ کی جانب سے ہندوستان کی کوششوں کی تعریف کا بھی اجلاس میں ذکر کیا گیا۔