منشیات مخالف کارکن کے قتل کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
منشیات مخالف کارکن کے قتل کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے
منشیات مخالف کارکن کے قتل کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے

 



مانسا: مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے بدھ کے روز منشیات مخالف کارکن پرویندر سنگھ جھوٹا کے قتل کی تحقیقات باضابطہ طور پر اپنے ہاتھ میں لے لی اور مقدمہ دوبارہ درج کرلیا۔ حکام نے اس کی تصدیق کی ہے۔ بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات کرنے والے اس مرکزی ادارے کی ایک سینئر ٹیم مانسا پہنچ گئی ہے۔ ٹیم مقدمے سے متعلق دستاویزات اور ضبط شدہ اشیا اپنے قبضے میں لے کر اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ آیا اس قتل کا تعلق دوا کی دکانوں پر ممنوعہ نفسیاتی اثرات رکھنے والی ادویات کی کھلے عام فروخت سے ہے۔

سی بی آئی کی ایک ٹیم، جس کی قیادت ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سطح کے ایک سینئر افسر کر رہے ہیں، حوالگی کے عمل کو شروع کرنے کے لیے مقامی پولیس کو باضابطہ خط بھیجنے کے بعد مانسا پولیس اسٹیشن پہنچی۔ اس معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات میں مدد کے لیے فرانزک ماہرین، ڈرگ کنٹرولر اور دیگر تکنیکی ماہرین بھی جلد مانسا پہنچ رہے ہیں۔ ابتدائی کارروائی کے تحت تفتیشی ٹیم مانسا سرکٹ ہاؤس میں مقتول کارکن کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کرے گی۔ سی بی آئی حکام نے بتایا، ’’سی بی آئی کی ٹیم گزشتہ رات مانسا پولیس اسٹیشن پہنچی تاکہ مقدمے سے متعلق ریکارڈ اور ضبط شدہ اشیا اپنے قبضے میں لے سکے۔ پولیس کو باضابطہ خط بھیج دیا گیا ہے۔

مقتول کے اہل خانہ آج صبح ساڑھے گیارہ بجے مانسا سرکٹ ہاؤس پہنچ رہے ہیں، جہاں سینئر ڈی آئی جی کی قیادت میں سی بی آئی ٹیم ان سے پوچھ گچھ کرے گی۔ فرانزک ماہرین، ڈرگ کنٹرولر اور دیگر ماہرین بھی جلد مانسا پہنچ رہے ہیں۔‘‘ پنجاب پولیس سے دستاویزات حاصل کرنے کے علاوہ سی بی آئی اس معاملے کے ملزم دوا فروش اشونی کمار اور دیگر ملزمان کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کرے گی، تاکہ غیر قانونی منشیات کے کاروبار کے نیٹ ورک اور اس کے قتل سے ممکنہ تعلق کی گہرائی سے تحقیقات کی جاسکیں۔ 45 سالہ منشیات مخالف کارکن پرویندر سنگھ جھوٹا کو 13 اکتوبر 2026 کو پنجاب کے مانسا میں ایک دوا کی دکان کے اندر گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

اس وقت وہ فیس بک پر لائیو ویڈیو نشر کر رہے تھے۔ اس معاملے کے اہم ملزم اور میڈیکل اسٹور کے مالک اشونی کمار کو راجستھان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ مقتول کے اہل خانہ کے مطالبے اور سیاسی دباؤ کے بعد قتل کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کی گئیں۔ پرویندر سنگھ جھوٹا نے مانسا کے ایک بازار میں دوا فروش اشونی کمار سے اس وقت سامنا کیا تھا، جب ان پر ایک بزرگ شخص کو مبینہ طور پر نشہ آور ادویات غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اس دوران فائرنگ ہوئی، جس میں جھوٹا کی موت ہوگئی اور چار دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ اشونی کمار کو راجستھان کے سالاسر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اس قتل کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور مشتعل لوگوں نے دوا کی دکان کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ ملزم سے منسلک املاک کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ مقتول کے اہل خانہ، مختلف ایکشن کمیٹیوں اور اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کی مرکزی ایجنسی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے پنجاب دورے کے بعد وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے مقدمہ سی بی آئی کے حوالے کردیا۔ 20 اکتوبر کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پرویندر سنگھ جھوٹا کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی۔ جھوٹا کو 13 اکتوبر کو ایک میڈیکل اسٹور کے مالک کے ساتھ مبینہ طور پر نشہ آور ادویات کی فروخت کے معاملے پر تنازع کے دوران گولی مار دی گئی تھی۔

امت شاہ کا پنجاب دورہ ریاست میں منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر جاری سیاسی بحث کے درمیان ہوا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) عام آدمی پارٹی (آپ) کی حکومت پر منشیات کے بحران سے نمٹنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ شاہ نے الزام لگایا تھا کہ پنجاب میں ’چِٹّا‘ نامی منشیات کا کاروبار کرنے والے اسمگلر، عام آدمی پارٹی کی حکومت کی سرپرستی میں پھل پھول رہے ہیں۔ پنجاب میں ’چِٹّا‘ کی اصطلاح عام طور پر سکون آور اور نشہ آور مادوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔