دہلی میں بین الاقوامی سائبر فراڈ گروہ بے نقاب، 6 گرفتار

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-10-2026
دہلی میں بین الاقوامی سائبر فراڈ گروہ بے نقاب، 6 گرفتار
دہلی میں بین الاقوامی سائبر فراڈ گروہ بے نقاب، 6 گرفتار

 



نئی دہلی: دہلی پولیس نے بین الاقوامی سائبر فراڈ کے ایک گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے 6 افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں 5 بینک ملازمین شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں سائبر دھوکہ دہی کے مختلف معاملات کی تحقیقات کے دوران عمل میں آئیں۔ پولیس کے مطابق، ملزمان مبینہ طور پر کرپٹو کرنسی کے ذریعے دھوکہ دہی سے حاصل کی گئی رقم کی منتقلی کرتے تھے اور ان کے رابطے ایک چینی شہری سے بھی تھے۔ اس کام کے بدلے انہیں نقد رقم ملنے کی اطلاع ہے۔

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروہ 2013 سے سرگرم تھا۔ تحقیقات کے دوران کیرالہ کے 2 علاقائی بینکوں کے مبینہ طور پر اس نیٹ ورک سے جڑے ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق، ملزمان سائبر فراڈ کے لیے ایک پیچیدہ طریقۂ کار اختیار کرتے تھے۔ وارداتوں میں استعمال ہونے والے موبائل فون ان کے ٹھکانوں سے کم از کم 5 کلومیٹر دور رکھے جاتے تھے، تاکہ پولیس ان کی اصل جگہ کا پتا نہ لگا سکے۔

پولیس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سے قبل غازی آباد کرائم برانچ نے ملک گیر سائبر فراڈ کے ایک معاملے میں 7 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ اس گروہ پر جعلی موٹر انشورنس پالیسیوں کے ذریعے لوگوں سے 60 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم دھوکہ دہی سے حاصل کرنے کا الزام ہے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس، کرائم برانچ، بلونت چودھری نے جمعہ کو بتایا کہ اس معاملے کے اہم ملزم دیپک کھنہ نے راہل اور نیرج بھاٹی کے ساتھ مل کر ایک جعلی کال سینٹر قائم کرنے کی سازش رچی تھی۔ اس کا مقصد قانونی انشورنس پالیسی جاری کرنے کے بہانے شہریوں سے بڑی رقم وصول کرنا تھا۔ گروہ نے جعلی کال سینٹر قائم کیا اور ایک معروف انشورنس کمپنی کے نام سے گوگل ایڈز پر آن لائن اشتہارات بھی جاری کیے۔

اس مقصد کے لیے جعلی ای میل اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔ ایک خفیہ اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جال بچھایا اور 7 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ کارروائی کے دوران پولیس نے کئی موبائل فون، اے ٹی ایم اور ڈیبٹ کارڈ، چیک بکس، مختلف مالیاتی اداروں کی بینک پاس بکس اور نقد رقم برآمد کی۔ اس معاملے کا مرکزی سرغنہ دیپک کمار، جو غازی آباد کا رہائشی ہے، تاحال فرار ہے۔ پولیس ٹیمیں اس کی تلاش میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسے جلد گرفتار کیے جانے کی توقع ہے۔