آسام میں سروائیکل کینسر کی اسکریننگ کے لیے اے آئی پلیٹ فارم تیار کرنے کی پہل

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
آسام میں سروائیکل کینسر کی اسکریننگ کے لیے اے آئی پلیٹ فارم تیار کرنے کی پہل
آسام میں سروائیکل کینسر کی اسکریننگ کے لیے اے آئی پلیٹ فارم تیار کرنے کی پہل

 



گوہاٹی: آسام کے دیہی علاقوں میں سروائیکل کینسر کی اسکریننگ اور خواتین کی صحت سے متعلق کونسلنگ کو بہتر بنانے کے لیے تقریباً 100 آشا کارکنوں نے گوہاٹی میں منعقد ایک ورکشاپ میں حصہ لیا۔ اس ورکشاپ کا مقصد مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تربیتی پلیٹ فارم اور مختلف زبانوں میں آواز کے ذریعے سوالات کے جواب دینے والا چیٹ بوٹ تیار کرنے کے لیے آشا کارکنوں کی تجاویز حاصل کرنا تھا۔ یہ ورکشاپ دی جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ انڈیا نے آسام کے کچار کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے اشتراک سے منعقد کی۔ اس میں آشا کارکنوں کے علاوہ ٹرینرز، ڈاکٹر، پروگرام کوآرڈینیٹرز، محققین اور ٹیکنالوجی کے ماہرین نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران آشا کارکنوں نے خواتین کو سروائیکل کینسر کی اسکریننگ کے لیے تیار کرنے کے اپنے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے گھر گھر جا کر کام کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت پر بھی بات کی جو خواتین کو بہتر انداز میں مشورہ دینے اور ضروری معلومات تک فوری رسائی میں ان کی مدد کرسکے۔ یہ ورکشاپ ’’صلاحیت سازی کے ذریعے سروائیکل کینسر کی اسکریننگ کو مضبوط بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال‘‘ کے عنوان سے جاری تین سالہ پائلٹ پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ اس پروجیکٹ کو انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کی مالی مدد حاصل ہے اور یہ نومبر 2025 سے نومبر 2028 تک جاری رہے گا۔

ورکشاپ میں آشا کارکنوں کے سامنے سروائیکل کینسر اور اس کی اسکریننگ سے متعلق عام طور پر پوچھے جانے والے 155 سوالات رکھے گئے۔ بِنڈی کے ذریعے ووٹنگ کی ایک سرگرمی میں آشا کارکنوں نے بتایا کہ خواتین، ان کے شوہر، خاندان کے افراد اور دیگر لوگ ان سے کن سوالات کے بارے میں زیادہ پوچھتے ہیں۔ اس سرگرمی سے یہ بات سامنے آئی کہ طبی اعتبار سے اہم سمجھے جانے والے سوالات اور فیلڈ میں خواتین کی جانب سے سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوالات میں فرق ہوسکتا ہے۔

آشا کارکنوں کی جانب سے دی گئی معلومات کو مجوزہ چیٹ بوٹ کے لیے معلومات کا بنیادی ذخیرہ تیار کرنے میں استعمال کیا جائے گا، تاکہ طبی طور پر اہم معلومات کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر پیش آنے والے عملی مسائل کا بھی جواب دیا جاسکے۔ ورکشاپ میں آشا کارکنوں کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے واقفیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نوجوان اور درمیانی عمر کی کئی آشا کارکنوں نے بتایا کہ وہ رپورٹنگ، رابطے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے موبائل فون کا باقاعدگی سے استعمال کرتی ہیں۔ تاہم کچھ عمر رسیدہ آشا کارکنوں نے ڈیجیٹل ٹولز اور زبان سے متعلق مشکلات کا ذکر کیا، لیکن ساتھ ہی نئی مہارتیں سیکھنے میں دلچسپی بھی ظاہر کی۔ آشا کارکنوں نے اپنی تربیت اور کام سے متعلق ضروریات بھی بیان کیں۔ ان میں خواتین کو مشورہ دینا، ٹیسٹ کے نتائج سمجھانا، حمل اور بچے کی پیدائش سے متعلق سوالات کا جواب دینا اور ضرورت پڑنے پر خواتین کو مناسب طبی مرکز تک بھیجنا شامل ہے۔

شرکا نے مختصر آڈیو ویژول اسباق، عام سوالات کے جوابات، یاد دہانیوں، کوئز اور اپنی پیش رفت دیکھنے کی سہولت کو مفید قرار دیا۔ آشا کارکنوں نے خاص طور پر بنگالی زبان میں آواز کے ذریعے بات چیت، آسان زبان میں معلومات اور ایسے سرچ سسٹم کی ضرورت پر زور دیا جو ان کے سوال پوچھنے کے قدرتی انداز کو سمجھ سکے۔ ورکشاپ میں شریک ایک آشا کارکن نے کہا کہ وہ اس پروگرام میں شرکت کرکے بہت خوش ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے پہلے بھی کئی اجلاسوں میں شرکت کی ہے، لیکن یہ تجربہ مختلف تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بِنڈی کے ذریعے کھیل جیسے انداز میں یہ سمجھایا گیا کہ سروائیکل کینسر سے متعلق کون سی باتیں اہم ہیں اور کون سی نہیں۔

ان کے مطابق اس طریقے سے انہیں بہت سی ایسی معلومات حاصل ہوئیں جن سے وہ پہلے واقف نہیں تھیں۔ پروجیکٹ کی پرنسپل انویسٹی گیٹر اور دی جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کی سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر انیتا گڈگل نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم آشا کارکنوں کے حقیقی تجربات کی بنیاد پر تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ورکشاپ ایک سادہ اصول سے شروع ہوتی ہے: آشا کارکنوں کے لیے ٹیکنالوجی آشا کارکنوں کے ساتھ مل کر تیار کی جانی چاہیے۔

اسکریننگ سمجھانے، لوگوں کے خدشات کا جواب دینے اور ضرورت کے وقت معلومات تلاش کرنے کے ان کے تجربات اے آئی پلیٹ فارم کی زبان، مواد اور خصوصیات طے کرنے میں رہنمائی کریں گے۔ ہمارا مقصد ایسی طبی طور پر تصدیق شدہ مدد فراہم کرنا ہے جو ان کے کام کا حصہ بنے، نہ کہ ان پر ایک اور ڈیجیٹل بوجھ ڈالے۔‘‘ مجوزہ اے آئی پلیٹ فارم موجودہ تربیتی نظام کی معاونت کرے گا اور آشا کارکنوں کو طبی طور پر تصدیق شدہ معلومات فراہم کرے گا۔

اس کی تیاری میں کمزور انٹرنیٹ کنکشن اور گھر گھر جا کر کام کرنے کے دوران دستیاب محدود وقت جیسے عملی مسائل کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں محققین اے آئی پر مبنی تربیتی پلیٹ فارم اور چیٹ بوٹ تیار کرکے ان کی جانچ کریں گے۔ تربیتی مواد اور سوالات کا طبی ماہرین جائزہ لیں گے اور اسے آشا کارکنوں کے ساتھ بار بار آزمایا جائے گا۔ اس کے بعد 20 کلسٹرز میں تقریباً 110 آشا کارکنوں کو شامل کرتے ہوئے دو گروپوں پر مبنی کلسٹر رینڈمائزڈ کنٹرولڈ ٹرائل کیا جائے گا۔

اس تحقیق میں ٹیکنالوجی کے استعمال میں آسانی، اسے قبول کرنے کی شرح، استعمال کے طریقے اور مستقبل میں اسے بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ساتھ ہی آشا کارکنوں کے علم، رویے اور عملی طریقہ کار میں آنے والی تبدیلیوں کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔ مجوزہ چیٹ بوٹ آشا کارکنوں کو تربیت اور فیلڈ میں معلومات فراہم کرنے میں مدد دے گا، لیکن طبی معائنے، بیماری کی تشخیص یا پہلے سے طے شدہ مریضوں کو مناسب طبی مرکز بھیجنے کے نظام کی جگہ نہیں لے گا۔ سروائیکل کینسر ہندوستان میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس کی بروقت شناخت میں خواتین میں بیماری سے متعلق آگاہی اور اسکریننگ تک رسائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ آشا کارکن اکثر دیہی اور مقامی برادریوں کو صحت کے نظام سے جوڑنے والی اہم کڑی کے طور پر کام کرتی ہیں اور خواتین کو اسکریننگ کی اہمیت سمجھانے کے ساتھ انہیں مناسب طبی خدمات تک پہنچانے میں مدد کرتی ہیں۔