ملک میں خود کفالت کے لیے صنعتوں کو حکومت کی مدد درکار : نرملا سیتارمن

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 26-09-2026
ملک میں خود کفالت کے لیے صنعتوں کو حکومت کی مدد درکار : نرملا سیتارمن
ملک میں خود کفالت کے لیے صنعتوں کو حکومت کی مدد درکار : نرملا سیتارمن

 



پڈوچیری: مرکزی حکومت نے بجٹ میں کئی اعلانات کے ذریعے صنعتوں کو ضروری مدد فراہم کی ہے، تاکہ وہ طویل مدت میں ملک کے اندر ہی پیداوار شروع کرسکیں یا فوری ضرورت کے لیے قلیل مدت میں دیگر ذرائع سے اشیا حاصل کرکے دوسرے ممالک پر انحصار کم کرسکیں۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان صنعتوں کو مراعات دے رہی ہے جو بیرونی انحصار سے نکل کر ملک میں ہی ضروری اشیا تیار کرنا چاہتی ہیں۔ وزیر خزانہ نے جمعہ کو یہاں بھارت شکتی پونڈی لِٹ فیسٹ میں ایک مباحثے کے دوران کہا، ’’ہمارے برآمدی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہم اب بھی چین کو خاطر خواہ برآمد نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں کچھ سامان چین ہی پہنچ رہا ہے۔ اس کا حساب اس طرح نہیں ہوتا، کیونکہ سامان ویتنام جاتا ہے اور وہاں سے چین پہنچ جاتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’تکنیکی طور پر اسے میرے حساب میں چین کو کی جانے والی برآمد کے طور پر شامل ہونا چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ میں صاف کہوں گی، یہ بات سفارتی نہیں ہے اور شاید لوگوں کو پسند بھی نہ آئے، لیکن ہمیں ان اشیا کے لیے چینی بازار تک رسائی نہیں ملتی جن کی مقدار اور مالیت دونوں زیادہ ہیں۔‘‘ سیتارمن نے کہا کہ ہندوستان کو چین میں بازار تک براہ راست رسائی حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھینس کا گوشت ہو یا عام ادویات بنانے میں استعمال ہونے والی فارماسیوٹیکل جنیرک دوائیں، چین ہندوستان سے بڑی مقدار میں یہ اشیا خریدتا ہے، لیکن براہ راست نہیں۔ یہ سامان ویتنام یا کسی دوسرے ملک کے ذریعے چین پہنچتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کچھ شعبوں میں ہندوستان نے برآمدات کے میدان میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے، حالانکہ چین مسلسل بازار تک رسائی دینے سے انکار کرتا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہندوستان نے کچھ مخصوص اشیا کے معاملے میں سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کی پیداواری صلاحیت ملک کے اندر ہی پیدا کی جائے۔

انہوں نے کہا، ’’ممکن ہے کہ ہم انہیں ابھی درآمد کر رہے ہوں، لیکن بہت جلد آپ دیکھیں گے کہ صورت حال مکمل طور پر بدل جائے گی۔‘‘ سیتارمن نے فعال دواسازی اجزا (اے پی آئی) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت میں ہندوستان اس شعبے میں دنیا کے اہم ممالک میں شامل تھا، لیکن مسابقتی قیمتوں کی پالیسی کے باعث ہندوستان اس میدان میں پیچھے رہ گیا اور ملک میں اے پی آئی کی پیداوار تقریباً ختم ہوگئی۔ اب حکومت نے صنعتوں کو دوبارہ اس شعبے میں پیداوار شروع کرنے کے لیے مراعات دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعتیں اپنے اے پی آئی یا دیگر ضروری اجزا بھی تیار کرسکتی ہیں، جو ملک کی بلک ڈرگ صنعت کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ مخالف جماعتوں کی جانب سے جی ڈی پی کے اعداد و شمار کو لے کر حکومت پر تنقید کے بارے میں سیتارمن نے کہا کہ اس معاملے میں بدنیتی پر مبنی مقصد کارفرما ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ انہیں جس چیز کو ہندوستان کی ناکامی سمجھتے ہیں، اس پر خوش ہوتے دیکھتی ہوں۔ یہ ملک اور اس کے عوام تمام مشکلات کے باوجود اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں اور اسی کے نتیجے میں ہندوستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے۔

‘‘ مفت سہولتوں اور فلاحی اسکیموں کے بارے میں وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر کسی اسکیم کے لیے مناسب بجٹ مختص کیا گیا ہو اور وہ مالی طور پر پائیدار ہو تو اسے محض ’مفت کی سہولت‘ کہہ کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم انہوں نے غیر منصوبہ بند فلاحی اخراجات کے خطرات سے خبردار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 80 فیصد پہلے سے طے شدہ اخراجات میں صرف ہوجائے تو اسکولوں اور اسپتالوں جیسے اہم بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لیے صرف 20 فیصد رقم بچتی ہے۔ غیر منصوبہ بند مفت سہولتوں سے پیدا ہونے والے مالی دباؤ کی وضاحت کرتے ہوئے سیتارمن نے ایک ایسی ریاست کی مثال بھی دی جو پہلے آمدنی کے معاملے میں اضافی بجٹ رکھتی تھی، لیکن تین سال کے اندر آمدنی کے خسارے کا شکار ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ریاستیں بعد میں حکومت چلانے کے لیے اپنے مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) کے 3 فیصد کی مقررہ قرض حد سے زیادہ قرض لینے کی کوشش کرتی ہیں۔