کولکاتا: ہندوستان کے سب سے زیادہ تمغے جیتنے والے کمپاؤنڈ تیرانداز ابھیشیک ورما قومی ٹیم میں واپسی کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کی جانب سے اولمپکس کے لیے تاریخی کوالیفکیشن حاصل کیے جانے کے موقع پر وہ ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے تھے، لیکن اب ان کا ہدف صرف 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس ہی نہیں، بلکہ ہندوستان میں ہونے والے 2030 کے دولتِ مشترکہ کھیل بھی ہیں۔ ہندوستان نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے ایچی ناگویا ایشیائی کھیلوں میں کمپاؤنڈ تیراندازی میں اولمپکس کا کوٹہ حاصل کرنے والا پہلا ملک بن کر تاریخ رقم کی۔ اس کھیل کو اولمپکس میں پہلی بار مخلوط ٹیم مقابلے کے طور پر شامل کیا جائے گا۔
ساحل جادھو اور چکیتھا تنی پارتی نے مخلوط ٹیم مقابلے میں سونے کا تمغہ جیت کر ہندوستان کے لیے اولمپکس میں جگہ یقینی بنائی۔ ہندوستان نے مردوں اور خواتین کے ٹیم مقابلوں میں بھی سونے کے تمغے حاصل کیے۔ 37 سالہ ابھیشیک ورما مسلسل چوتھی بار ایشیائی کھیلوں میں شرکت کے خواہش مند تھے، لیکن انتخاب نہ ہونے کے سبب وہ اس موقع سے محروم رہ گئے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ مقابلوں سے دور رہنا مایوس کن تھا، تاہم انہیں اپنے زیر تربیت نوجوان تیراندازوں کی کارکردگی سے خوشی ہوئی، جن کی رہنمائی وہ کرتے رہے ہیں۔
حیدرآباد سے پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ورما نے کہا، ’’یقیناً مجھے ایشیائی کھیلوں میں شرکت کا موقع نہ ملنے کا افسوس ہوا، لیکن میرے شاگرد اور جونیئر کھلاڑی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے ویسی ہی کارکردگی دکھائی جیسی میں ان سے توقع کرتا تھا۔ ہندوستان نے کمپاؤنڈ تیراندازی میں خود کو ایک مضبوط قوت کے طور پر قائم کیا ہے اور ان کھلاڑیوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا۔‘‘ ورما ان دنوں تیراندازی پریمیئر لیگ میں پرتھوی راج یودھاس کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اولمپکس میں شرکت کے لیے ملنے والا کوٹہ ملک کے نام ہوتا ہے، نہ کہ اس کھلاڑی کے نام جس نے اسے حاصل کیا ہو۔ کھیلوں کے قریب منعقد ہونے والے انتخابی مقابلوں کے ذریعے آخری کھلاڑیوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
ہندوستان کے اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد ورما کا خیال ہے کہ اب ملک پوری توجہ لاس اینجلس اولمپکس کی تیاری پر مرکوز کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں کے جوڑ بنانے، ان کی کارکردگی بہتر کرنے اور تیاری کو حتمی شکل دینے کے لیے تقریباً ڈیڑھ سال کا وقت موجود ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اب اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے کا دباؤ ہمارے سر سے اتر گیا ہے۔ ہم اس پریشانی کے بغیر پوری توجہ اولمپکس پر دے سکتے ہیں۔ تیاری کے لیے تقریباً ڈیڑھ سال ہے اور ہمیں اس وقت کا بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا۔‘‘ ابھیشیک ورما نے اپنے اولمپک خواب سے دست بردار ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
وہ ایشیائی کھیلوں میں تین مرتبہ ہندوستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور ان مقابلوں میں دو طلائی تمغوں سمیت مجموعی طور پر پانچ تمغے جیت چکے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی کپ مقابلوں میں بھی وہ کئی اعزاز حاصل کر چکے ہیں، لیکن ان کے اندر مزید کامیابیاں حاصل کرنے کی خواہش برقرار ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ انسانی فطرت ہے کہ آپ جتنا زیادہ حاصل کرتے ہیں، اتنا ہی مزید حاصل کرنے کی خواہش بڑھتی ہے۔ میں تین مرتبہ ایشیائی کھیلوں میں حصہ لے چکا ہوں اور پانچ تمغے جیتے ہیں۔ اگر اب میں خود سے کہوں کہ چوتھی مرتبہ ایشیائی کھیلوں میں شرکت کرکے مزید دو یا تین تمغے جیتنے ہیں تو یہ خواہش کبھی ختم نہیں ہوگی۔‘‘
ورما نے 2028 کے اولمپکس اور ہندوستان میں ہونے والے 2030 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کو اپنا ہدف بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپاؤنڈ تیراندازی کو اولمپکس میں شامل کیے جانے کے بعد سے وہ مسلسل تربیت حاصل کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ آنے والے انتخابی مقابلوں میں ان کی محنت کا نتیجہ نظر آئے گا۔ انہوں نے کہا، ’’میں مقابلوں میں حصہ لیتے رہنا اور اپنی سو فیصد کارکردگی دکھانا چاہتا ہوں۔ میرا ہدف 2028 کے اولمپکس ہیں اور میں ہندوستان میں ہونے والے 2030 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کو بھی سامنے رکھ کر تیاری کر رہا ہوں۔ آنے والے انتخابی مقابلوں میں آپ کو اس محنت کا نتیجہ دکھائی دے گا۔‘‘
ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کی شاندار کارکردگی نے ورما کے اس یقین کو مزید مضبوط کیا ہے کہ ملک اولمپکس میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ کمپاؤنڈ تیراندازی میں مخلوط ٹیم مقابلے کے ذریعے ایک تمغہ جیتنے کا موقع ہوگا، جبکہ ریکرو تیراندازی میں پانچ مقابلے ہوں گے۔ اس طرح ہندوستان کے پاس مجموعی تمغوں کی تعداد بڑھانے کے مزید مواقع موجود ہیں۔ ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کی ریکرو تیراندازی ٹیم نے بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ کم کم موہوڈ نے انفرادی مقابلے میں طلائی تمغہ جیتا اور خواتین کی ٹیم کے ساتھ بھی ایک اور طلائی تمغہ حاصل کیا۔
تیراندازی کے تمغوں کی فہرست میں ہندوستان نے روایتی طور پر مضبوط سمجھے جانے والے جنوبی کوریا کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ہندوستان نے پانچ طلائی، دو چاندی اور دو کانسے کے تمغوں سمیت مجموعی طور پر نو تمغے جیتے، جبکہ جنوبی کوریا کے حصے میں تین طلائی، تین چاندی اور تین کانسے کے تمغے آئے۔ ورما کا خیال ہے کہ کمپاؤنڈ اور ریکرو، دونوں طرز کی تیراندازی میں ہندوستان کے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کی موجودگی اولمپکس میں بہتر کارکردگی کی امید پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی ٹیم اولمپکس میں کمپاؤنڈ تیراندازی کا تمغہ جیت سکتی ہے اور یہ ہمارے لیے ایک اضافی کامیابی ہوگی۔ ریکرو تیراندازی میں بھی اچھی کارکردگی سامنے آ رہی ہے اور ہندوستانی تیراندازی کا مجموعی معیار بہتر ہوا ہے۔ میرے خیال میں ہندوستان تیراندازی میں دو یا تین تمغے جیت سکتا ہے۔‘
‘ ورما کا اعتماد صرف نتائج پر مبنی نہیں، بلکہ انہیں اپنی کارکردگی کے معیار پر بھی بھروسا ہے۔ اگرچہ انہوں نے 2023 میں کولمبیا کے شہر میڈیئن میں عالمی کپ کے دوران طلائی تمغہ جیتنے کے بعد سے کسی انفرادی مقابلے میں تمغہ حاصل نہیں کیا، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کے نشانے کے اسکور اب بھی مسابقتی ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اچھی کارکردگی کو جیت میں بدلا جائے۔ انہوں نے کہا، ’’قومی درجہ بندی کے دو مقابلوں میں ہمارے اسکور تقریباً 715 سے 716 کے درمیان رہے ہیں، جو معیار کے مطابق ہیں۔ ہر چیز میرے اختیار میں نہیں ہے، لیکن میں کوشش جاری رکھ سکتا ہوں اور ان مواقع کی کمی پوری کرنے کے لیے کام کر سکتا ہوں جو میرے ہاتھ سے نکل گئے۔‘‘ قومی ٹیم سے باہر ہونے کے باوجود ورما ہندوستانی تیراندازی کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ کئی نوجوان تیراندازوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
ان میں چکیتھا تنی پارتی بھی شامل ہیں، جنہوں نے اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے سونی پت مرکز منتقل ہونے کے بعد ان کی رہنمائی میں نمایاں ترقی کی ہے۔ ایشیائی کھیلوں کے دوران بھی ورما اور چکیتھا کے درمیان رابطہ برقرار رہا۔ ورما نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کی مدد کرنا ان کے لیے کسی باقاعدہ کوچ کا عہدہ سنبھالنے کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک سینئر کھلاڑی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھانے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’دوسروں کی رہنمائی کے لیے خود کو باضابطہ طور پر کوچ قرار دینا ضروری نہیں ہے۔ ایک سینئر کھلاڑی کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہے کہ ہندوستانی تیراندازی کو آگے بڑھانے میں مدد کروں۔ میں ابتدا ہی سے نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی کرتا رہا ہوں۔‘
‘ ورما نے بتایا کہ وہ اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے نوٹس تیار کرتے تھے، بہتری کے پہلوؤں کی نشاندہی کرتے تھے اور اپنے کھیل کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس دوران حاصل ہونے والے تجربات اور سیکھے ہوئے سبق وہ اپنے جونیئر کھلاڑیوں کے ساتھ بھی بانٹتے رہے، تاکہ انہیں فائدہ پہنچ سکے۔ ان کے بقول، ’’یہ کوئی باضابطہ ذمہ داری نہیں ہے، لیکن جب بھی نوجوان کھلاڑیوں کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، میں ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ایشیائی کھیلوں کے دوران بھی ان کا ٹیم کے کھلاڑیوں سے باقاعدہ رابطہ رہا، یہاں تک کہ اہم ناک آؤٹ مقابلوں سے پہلے بھی وہ ان کے ساتھ رابطے میں تھے۔