نئی دہلی: ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر کی ترقی کے اگلے مرحلے میں صرف چِپ بنانے کی صلاحیت بڑھانے کے بجائے ایسا مکمل نظام تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے، جس میں ہندوستان میں ڈیزائن، تیار اور پیکیج کی جانے والی چِپس کا استعمال ملک میں ہی ڈیزائن اور تیار ہونے والی مصنوعات میں زیادہ سے زیادہ ہو۔ یہ بات ای وائی-آئیسا (انڈیا الیکٹرانکس اینڈ سیمی کنڈکٹر ایسوسی ایشن) کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر صنعت اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سرکاری سرمایہ کاری، بڑے مینوفیکچرنگ منصوبوں، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور سیمی کن انڈیا 2.0 کے تحت وسیع تر پالیسی فریم ورک کے ذریعے ملک میں مقامی سیمی کنڈکٹر نظام کی بنیادی تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ تاہم، اگلے مرحلے میں ہندوستان کو ایک ایسے خود کفیل سیمی کنڈکٹر معاشی نظام کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہوگی، جس کی بنیاد مقامی طلب، جدت اور الیکٹرانکس کی پوری ویلیو چین میں زیادہ سے زیادہ قدر پیدا کرنے پر ہو۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقصد صرف ہندوستان میں چِپس تیار کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسا ماحول بنانا چاہیے جہاں ہندوستان میں ڈیزائن، تیار اور پیکیج کی جانے والی چِپس کا استعمال تیزی سے ان مصنوعات میں ہو جو خود ہندوستان میں ڈیزائن اور تیار کی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2035 تک ہندوستان سیمی کنڈکٹر کی تقریباً 200 ارب امریکی ڈالر کی کھپت والی منڈی بن سکتا ہے۔ لیکن اس وقت اس طلب کا ایک بڑا حصہ درآمد شدہ الیکٹرانک سسٹمز، ماڈیولز، کٹس اور اسمبل شدہ مصنوعات میں شامل ہے۔ اس کے نتیجے میں سیمی کنڈکٹر اور الیکٹرانکس کی ویلیو چین سے پیدا ہونے والی قدر کا محدود حصہ ہی ملک کے اندر رہ پاتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال ہندوستان کے لیے مقامی سسٹم ڈیزائن، الیکٹرانکس مصنوعات کی تیاری اور جدید مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کا بڑا موقع پیش کرتی ہے۔ اس کے لیے صارفین کی الیکٹرانکس، آٹوموبائل، صنعتی آٹومیشن، ٹیلی مواصلات، ایرو اسپیس، دفاع، طبی آلات اور مصنوعی ذہانت سمیت کئی شعبوں میں مقامی پیداوار کو مضبوط کرنا ضروری ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق ان شعبوں کو مضبوط بنانے سے الیکٹرانک مصنوعات کی مقامی طلب کو ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر کی پیداوار بڑھانے کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ سیمی کنڈکٹر بنانے والی کمپنیوں اور منصوبوں میں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ایسی مقامی مصنوعات اور صنعتوں کی مانگ پیدا کرنا بھی اہم ہو سکتا ہے جو ان چِپس کا استعمال کریں۔ ای وائی-آئیسا رپورٹ نے ہندوستان کی تین اہم طاقتوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والا سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کا شعبہ، دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی الیکٹرانکس منڈیوں میں سے ایک ہونا اور بڑی تعداد میں ہنرمند افراد کی موجودگی کے باعث مینوفیکچرنگ کے لیے بڑھتی ہوئی کشش شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان طاقتوں کو استعمال کرتے ہوئے عالمی معیار کی مصنوعات اور پلیٹ فارم تیار کیے جائیں تو ہندوستان عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین میں اپنی الگ جگہ بنا سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے لیے روایتی سیمی کنڈکٹر پیدا کرنے والے ممالک کے راستے پر چلنا ضروری نہیں۔ ملک ڈیزائن پر مبنی مینوفیکچرنگ، جدید پیکیجنگ، کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹرز، قابل اعتماد سپلائی چین اور سسٹم کی سطح پر جدت کو بنیاد بنا کر ایک الگ ماڈل تیار کر سکتا ہے۔
دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کو مختلف ممالک میں پھیلانے کا عمل بھی جاری ہے، کیونکہ ممالک زیادہ مضبوط اور قابل اعتماد ذرائع سے سیمی کنڈکٹر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتحال سے ہندوستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر نظام میں ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آنے والی دہائی ہندوستان کے لیے صرف سیمی کنڈکٹر بنانے کی صلاحیت قائم کرنے کا موقع نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے ملک کو سیمی کنڈکٹر کی جدت، مصنوعات کی تیاری اور الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے ایک اہم عالمی مرکز کے طور پر بھی ترقی دی جا سکتی ہے۔