ہندوستان میں اقتصادی ترقی کا اگلا دور بے مثال ہو سکتا ہے: این چندرشیکھرن

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-09-2026
ہندوستان میں اقتصادی ترقی کا اگلا دور بے مثال ہو سکتا ہے: این چندرشیکھرن
ہندوستان میں اقتصادی ترقی کا اگلا دور بے مثال ہو سکتا ہے: این چندرشیکھرن

 



چنئی: ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندرشیکھرن نے کہا ہے کہ ہندوستان اقتصادی ترقی کے ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جو اس کی تاریخ اور دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے کے مقابلے میں ’’بے مثال‘‘ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ٹیکنالوجی اور ریگولیٹری تبدیلیاں عالمی معیشت کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں، لیکن ان تبدیلیوں کے ساتھ نئے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ سائی یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے چندرشیکھرن نے کہا کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے طلبہ ایک ایسی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں جہاں عالمی معیشت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ضابطوں اور دیگر شعبوں میں تیزی سے تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔

ان کے مطابق اے آئی آنے والے برسوں میں ایسے نئے شعبوں اور مواقع کو جنم دے سکتی ہے جن کا آج تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہونے کے امکانات پر دنیا بھر میں بحث ہو رہی ہے، لیکن دوسری طرف یہی ٹیکنالوجی نئے شعبوں اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ ’’دنیا امکانات سے بھری ہوئی ہے‘‘ اور ممکن ہے کہ آج سے پانچ سال بعد ایسے کئی شعبے وجود میں آ چکے ہوں جو اس وقت موجود ہی نہیں ہیں، حتیٰ کہ ان کے نام یا اصطلاحات سے بھی لوگ آج واقف نہ ہوں۔

چندرشیکھرن نے کہا کہ ہندوستان اس وقت ’’بہت مضبوط پوزیشن‘‘ میں ہے اور ملک میں اقتصادی ترقی کا ایسا دور آ سکتا ہے جو ہندوستان کی اپنی تاریخ میں بھی بے مثال ہو اور دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں بھی غیر معمولی ہو۔ ان کے مطابق یہ ترقی کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو ’’دوڑ کی دوڑ‘‘ کے انداز میں بیک وقت طویل مدتی اور قلیل مدتی اہداف پر کام کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے بڑے مقاصد کی طرف بڑھتے ہوئے مختصر مدت کی کامیابیوں پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ رفتار برقرار رہے۔ چندرشیکھرن نے طلبہ کو مسلسل تیاری کرتے رہنے اور ناکامیوں یا مشکلات سے حوصلہ نہ ہارنے کی تلقین کی۔

انہوں نے میراتھن دوڑ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو دوسروں سے اپنا موازنہ کرنے کے بجائے اپنی پیش رفت اور مسلسل بہتری کو اپنی کامیابی کا پیمانہ بنانا چاہیے۔ ان کے بقول، ’’آپ کو اپنی پیش رفت کو دیکھنا ہے، مسلسل بہتری لانی ہے اور خود کو اس مقصد کی طرف آگے بڑھانا ہے جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

انہوں نے تیاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے میراتھن رنر یوما ایکانگا کا قول بھی نقل کیا کہ ’’جیتنے کی خواہش کی کوئی اہمیت نہیں، اگر تیاری کرنے کی خواہش نہ ہو۔‘‘ بدلتی ہوئی معیشت اور کام کی دنیا کے مطابق خود کو تیار کرنے کے لیے چندرشیکھرن نے طلبہ کے لیے چھ اہم خصوصیات کا ذکر کیا۔ ان میں مسلسل سیکھتے رہنا، تجسس برقرار رکھنا، اجتماعی طور پر کام کرنا، تخلیقی صلاحیت پیدا کرنا، اپنے کام کا خود جائزہ لینا اور بڑے اہداف مقرر کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ سیکھنے کا عمل زندگی بھر جاری رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا، ’’سیکھتے رہیں۔ اگر آپ وقت کے ساتھ خود کو آگے نہیں بڑھائیں گے تو آپ پرانے ہو جائیں گے۔‘‘

چندرشیکھرن نے طلبہ کو تجسس برقرار رکھنے اور مختلف صلاحیتوں رکھنے والے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بھی ترغیب دی۔ انہوں نے خاص طور پر کاروباری دنیا میں تخلیقی صلاحیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کاروبار میں تخلیقیت کی قدر بہت زیادہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے طلبہ کو اپنے فیصلوں، کام اور سیکھنے کے عمل کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کا مشورہ دیا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر ٹاٹا سنز کے چیئرمین نے فارغ التحصیل طلبہ سے کہا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، بلند اہداف مقرر کریں اور اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ہمت، اعتماد اور بلند حوصلے کے ساتھ کریں۔